تازہ ترینعلاقائی

بدین:محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کہ سندھ میں شدید بارشیں اورسیلاب آنےکااندیشہہ

بدین(نامہ نگار) محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈزاسٹرز مینیجمینٹ اتھارٹی نے وقت بہ وقت یہ پیشن گوئی کی ہے کہ امسال سندھ میں شدید بارشیں اور سیلاب آنے کا اندیشہ ہے ،اور یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ دو سالوں 2010 ،2011 ،ہونے والی شدید طوفانی بارشیں اور سیلاب سے زیادہ بھیانک بارشیں اور سیلاب آنے کا خطرہ ہے ،مذکورہ دونوں اداروں کی جانب سے ظاہر کیئے گئے خدشات کے مطابق شدید بارشیں ہوئی اور سیلاب آیا تو بدین ضلع بھی شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے اور پچھلے سال کی طرح بدین ضلع کا آبپاشی اور ڈرنیج کا سسٹم بدین ضلع کی 16 لاکھ انسانی آبادی سمیت لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے پچھلے سال سیلاب سے سب سے زیادہ بدین اور ٹنڈوباگو تحصیل شدید متاثر ہوئے تھے ،جس کی اہم وجہ یہ ہے کہ سندھ کے چار اضلاع میرپورخاص، نواب شاہ، سانگھڑ، اور ٹنڈواللہیارکا بارش اور سیلابی پانی 260 میل پر مشتمل ایشیاء کے بڑے سیم نالے ایل بی او ڈی سے گزر کر بحراء عرب میں سمندر برد ہوتا ہے جس کا فال آئوٹ ایک سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا ،ایل بی او ڈی اور برانچ ڈرینوں کے ساتھ بدین ضلع کے ساحلی علاقوں میں زرعی اور پینے کا پانی فراہم کرنے والی نہروں کے پشتوں کی مرمت نہیں ہو سکی جس سے متوقہ بارشوں اور سیلاب کی صورت میں گذشتہ سال ہونے والے نقصانات سے کئی زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے اور ملنے والے اعدادشمار کے مطابق اس وقت بدین ضلع کی 4 لاکھ ایکڑ ایراضی پر کاشت کی گئی دھان کی فصل ایک لاکھ ایکڑ کی ایراضی پر کپاس اور 80 ہزار ایکڑ ایراضی سے زائد پر گنا اور 20 ہزار ایکڑ ایراضی سے زیادہ پر سبزی کی فصل کاشت کی گئی ہے ، جو کہ پہلے ہی مطلوب زرعی پانی فراہم نہ ہونے کی وجہ سے سوکھڑی کا شکار ہو کر تباہ ہو رہی ہیں ،متوقہ شدید بارشوں اور سیلاب آنے سے مکمل طور پر کاشتکاری تباہ ہو جائیگی اس تمام صورتحال میں بدین ضلع سے منتخب نمائندوں جن میں دو قومی اسمبلی کے ارکان بشمول اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سمیت پانچ اراکین صوبائی اسمبلی انکا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ، کی جانب سے سرف اخباری بیانوں کے علاوہ کوئی بھی ایسی سیاسی پارٹی نہیں ہے جس کا عوام میں کوئی مضبوط نیٹورک ہو البتہ بدین کی تین تحصیلوں ماتلی ، ٹنڈوباگو، اور گولارچی میں پیر صاحب پاگارہ اور محمد اسماعیل راھو،علی بخش شاہ عرف پپو شاہ کا زاتی ووٹ بیئنک ہے جو کہ پیپلز پارٹی کے مد مقابل ہوتے ہیں پیر صاحب پاگارہ کی مسلم لیگ فنکشنل اس وقت پیپلز پارٹی کی اتحادی پارٹی ہے جبکے اسماعیل راھو مسلم لیگ ﴿ن﴾ یعنی حزب اختلاف سے وابستہ ہیں ان کی جانب سے پچھلے سال سیلاب میں متاثرین کےلئے چند ٹرک امدادی سامان دینے کے علاوہ کوئی سرگرمی نہیں تھی ،یہ ہی صورتحال اس وقت ہے،سب سے اہم بات یہ ہے کہ پچھلے سال بدین میں آنے والے تبا ہ  کُن سیلاب میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سیلاب متاثرین کی آبادکاری کہ لئے امدادی کئمپوں وغیرہ کہ لئے دیئے گئے فنڈز کا تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے ،اسی طرح متوقہ بارشوں اور سیلاب سے بچاٴوکہ لئے ایل بی او ڈی سمیت نہروں سیم نالوں میں پڑنے والے شگاف پر کرنے اور پشتوں کو مضبوط کرنے کہ لئے محکمہ آبپاشی اور سیڈا کو ملنے والے ڈیڑھ ارب روپے کے فنڈز کے استعمال کہ حوالے سے منتخب نمائندوں سمیت کوئی سرکاری اہلکار بریفنگ دینے کو تیار نہیں ہے گذشتہ ماہ قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی صدارت میں دربار حال بدین میں محکمہ آبپاشی اور سیڈا کے اہلکاروں کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں موجودہ بدین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی نے متوقہ بارشوں اور سیلاب سے بچاٴو کے لئے محکمہ آبپاشی اور سیڈا کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے جو بھی کام کیئے ہیں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا ہے انہوں نے متوقہ بارشوں اور سیلاب کے باعث تباہی کا زمہ دار محکمہ آبپاشی کو قرار دیا ہے اجلاس کہ دوران صحافیوں کی جانب سے شگاف پر کرنے اور پشتوں کو مضبوط کرنے پر خرچ ہونے والی رقم اور کسی ٹھیکدار فرموں کو ٹھیکے دینے کے سوال کیئے تو منتخب نمائندوں سمیت محکمہ آبپاشی کے کسی افسر نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا ،قومی اسمبلی کی اسپیکر نے محکمہ آبپاشی اور سیڈا کے احکام کو ہدایت کی کہ وہ جو بھی کام ہوئے ہیں ان کا معائنہ کرانے کیلئے صحافیوں کو وزٹ کرایا جائے جس پر تاحال عمل نہ ہو سکا ہے ایک طرف محکمہ موسمیات اور ڈزاسٹرز مینیجمینٹ اتھارٹی کی جانب سے امسال شدید بارشوں اور سیلاب کا امکان ظاہر کر کے اس سے بچاٴو کے لئے حکومت سے کروڑوں روپے فنڈز جاری کرنے کے لیٹر سمریاں لکھی جا رہی ہیں تو دوسری طرف صوبائی وزیر آبپاشی جام سیف اللہ دھاریجو اور وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے اخباری بیان دیئے جارہے ہیں کہ این ڈی ایم اے سندھ میں امکانی بارشوں اور سیلاب کے افواہ پھیلا کر لوگوں میں خوف و حراس پھیلا رہے ہیں دوسری طرف اس ساری صورتحال میں عوام ذھنی پریشانی اور خوف میں مبتلہ ہیں کہ پچھلے سال کی طرح امسال بھی ان کو کہیں پھر تباہی اور بربادی کا سامنہ نہ کرنا پڑے انہں اپنی مدد آپ کے تحت بارش اور سیلاب سے بچاٴو سے خود اقدامات کرنے پر مجبور ہیں کہ اپنے بچوں سمیت رلیف کئمپوں کی اذیت سے بچا جا سکے ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں  صدر ممنون حسین نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں شرکت کرینگے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker