تازہ ترینعلاقائی

بدین:گریڈ1سےلیکر7تک کی اسامیوں پرجعلی آرڈروں کےزریعےنوکریوں کاانکشاف

بدین ﴿نامہ نگار﴾ بدین ضلع کی 46 یونین کائونسلوں اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورمنٹ آفس بدین میں گریڈ 1 سے لیکر 7 گریڈ تک کی اسامیوں پر جعلی آرڈروں کے زریعے 350 نوکریوں کے آرڈر جاری ہونے کا انکشاف ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورمنٹ بدین میر منظور تالپور نے بدین کا چارج لینے کے بعد سیکریٹر ی لوکل گورمنٹ سندھ کو رپورٹ روانہ کی ہے کہ سابقہ اے ڈی ایل جی بدین نے بدین ضلع کی 46 یونین کائونسلوں اور ان کی آفس میں 350 لوگوں کو بھرتی کیا ہے جبکہ جن اسامیوں پر لوگ بھرتی کئے گئے ہیں اتنی اسامیاں یونین کائونسلوں میں ہیں ہی نہیں ۔اے ڈی ایل جی بدین میر منظور تالپور کی اس رپورٹ کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ بدین ضلع کی 46یونین کائونسلوں میں بھرتی کئے گئے جاری کئے گئے 350 نوکریوں کے آرڈر لوکل گورمنٹ کے سیکشن آفیسر کے جعلی دستختوں جاری کئے گئے ہیں ۔محکمہ لوکل گورمنٹ بدین کی آفیس کے ذرائع نے معلومات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹھٹہ ضلع کی تعلقہ کائونسل میر پور بٹھورو کے 7 اسکیل کے کلارک یوسف سوڈھو نے بدین ضلع سے منتخب ایک بااثرایم پی اے کی سفارش پر تین ماہ قبل اے ڈی ایل جی بدین کی چارج حاصل کی تھی اور اسی دوران مذکورہ ایم پی اے کے انتہائی قریبی لوگوں اور کچھ پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کے ساتھ ملی بگھت کر کے 350 لوگوں سے پچاس ہزار سے تین لاکھ روپے رشوت لیکر ان کو گریڈ 1 سے لیکر گریڈ7تک لوکل گورمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک رٹائرڈ سیکشن آفیسر کے جعلی دستختوں سے جاری کئے گئے نوکریوں کے آرڈر فروخت کئے گئے ۔جعلی آرڈروں کے بھرتی کیئے گئے لوگوں کو تنخواہیں نہ ملنے پر انہوں نے موجودہ اے ڈی ایل جی خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور اس جعل سازی میں ملوث پیپلز پارٹی کی مذکورہ لوگوں کے زریعے اے ڈی ایل جی بدین میر منظور تالپور کے خلاف تنخواہ نہ دینے کی شکایات کرنے اور انکا بدین سے تبادلہ کر کے دوبارہ یوسف سوڈھو کو اے ڈی ایل جی مقرر کرانے کیلئے قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے پاس پہنچ گئے جنہوں نے اے ڈی ایل جی میر منظور تالپور کو اپنی آفس کئمپ بدین طلب کر لیا ۔اے ڈی ایل جی میر منظور تالپور نے قومی اسمبلی کی اسپیکر کو جعلی دستخطوں سے جاری کیئے گئے جعلی آرڈر س کا رکارڈ پیش کیا اور محکمہ بلدیات کے اعلیٰ حکام کو بھیجی گئی رپورٹ بھی پیش کی ۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہیمدہ مرزا نے اے ڈی ایل بدین کو ہدایت کی کہ جب تک جعلی آرڈرس کی تصدیق نہیں ہوتی تب تک جعل سازی کے ذریعے بھرتی کیئے گئے لوگوں اور اس جعل سازی میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے،ذرائع کے مطابق بدین کے 350 معصوم بیروزگار نوجوانوں سے نوکریوں کے جعلی آرڈر دے کر لاکھوں روپے بٹورنے والے پیپلز پارٹی کے پیدل چلنے والے جیالے راتوں رات ٹوڈی ، XLI ،گاڑیوں کے مالک بن گئے ،سابقہ اے ڈی ایل جی یوسف سوڈھو غائب ہو گئے ہیں ،اپنے پیسے دیکر نوکریوں کے جعلی آرڈر حاصل کرنے والے نوجوان تنخواہوں کے چکر میں گذشتہ تین مہینوں سے اے ڈی ایل جی آفس کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود اس جعل سازی میں ملوث سابقہ اے ڈی ایل جی بدین کے ان جیالوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button