تازہ ترینعلاقائی

بدین:2009صدارتی آرڈیننس پرعمل درآمد نہ ہونے کےباعث ملازمین میں تشویش

بدین(نامہ نگار)2009 ء میں صدر آصف علی زرداری نے صدرارتی آرڈیننس کے زریعے 1997،1998 نواز شریف دور حکومت میں برطرف کیئے گئے  مختلف وفاقی محکموں کے 7 ہزار سے زیادہ ملازمین کونوکریوں پر  بحال کرنےاور انہیں تمام بقایاجات ترقیاں اور سنیارٹی دینے کا حکم جاری کیا تھا جس کو بعد میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس کر کے قانونی اور آئینی شکل دی گئی تھی اسی صدارتی آرڈیننس کے تحت بحال ہونے والے تین ہزار سے زیادہ افسران اور اسٹاف کو سوئی سدرن گئس کمپنی نے بحالی کے لیٹرز بھی جاری کر کے جوائننگ لیکر ان تمام ملازمین کی سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تقرریاں بھی کر دی ہیں، ملازمین کی بحالی کو چار سال پورے ہونے ہیں لیکن تا حال صدارتی آرڈیننس پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے،صدارتی آرڈیننس کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قانونی اور آئینی شکل ملنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد سے سوئی سدرن گئس کمپنی کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا کہ بحال ہونے والے تمام ملازمین کی تنخواہیں کمپنی رولز کے تحت دوسرے ملازمین کے برابر کی جائیں اور 1997 ء سے ان ملازمین کو سنیارٹی دیکر ترقیاں دی جائیں لیکن سوئی سدرن گئس کمپنی کی جانب سے تا حال اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے بحال ہونے والے ملازمین کی ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہفتہ کے روز زونل آفس بدین میں ہوا جس میں موجودہ وفاقی مشیر برائے پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کی جانب سے بی اے پاس رٹائرڈ افسر عظیم اقبال صدیقی کو سوئی سدرن گئس کمپنی کا کانٹریکٹ پر ایم ڈی مقرر کر کے آرڈیننس پر مزید عمل درآمد رکوا کر تعصب پرستی کی بنیاد پر بحال ہونے والے ملازمین کے خلاف انتقامی کاروایوں کی مذمت کرتے ہوئے آرڈیننس اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے اور وفاقی مشیر ڈاکٹر عاصم اور ایم ڈی عظیم اقبال صدیقی کی تعصب پرستی پر مبنی پالیسی کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا پہلے مرحلے میں 8 اکتوبر پیر سے ایکشن کمیٹی قومی اسمبلی سینیٹ ،سندھ ، بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں  میں حزب اختلاف کے لیڈرز سمیت اراکین اسمبلی اور سینیٹ اور قوم پرست پارٹیوں کے لیڈران سے ملاقات کر کے ان سےمدد اوراحتجاج میں ساتھ دینے کی اپیل کی جائیگی۔

یہ بھی پڑھیں  بدین:پولیو کی دوائی پینے سے دو جڑوا بھائی بہن ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker