تازہ ترینعلاقائی

بدین:محکمہ تعلیم ایجوکیشن ورکس ضلع بدین میں بڑے پیمانے پر کرپشن

بدین(نامہ نگار)محکمہ تعلیم ایجوکیشن ورکس ضلع بدین میں بڑے پیمانے پر کرپشن بے قائدگیوں کے باعث سینکڑوں اسکول بند،سینکڑوں اسکولوں کی عمارتیں نہ ہونے کے باعث زیر تعلیم بچے چھت سے محروم اور سینکڑوں اسکولوں اور کالجز کی عمارتیں مخدوش اور خستہ حال ہونے کے باعث زیر تعلیم بچوں کی زندگیاں خطرے میں ، محکمہ تعلیم اور ایجوکیشن ورکس کے پاس سالانہ اربوں روپے کا بجٹ اور فنڈ کا غلط استعمال اور کرپشن کے باعث محکمہ تعلیم تباہ حال اور افسران مالا مال ،گزشتہ دو ماہ میں اسکولوں اسکول کی عمارتوں اور کلاس رومز کی چھت کے سیمنٹ کے چھپڑے گرنے کے کئی واقعات رونماں ہو چکے ہیں ، محکمہ ایجوکیشن ورکس کے تعمیراتی کاموں میں بھاری کمیشن رشوت بے قائدگیوں کے باعث دستیاب کروڑوں روپے کے فنڈز کرپشن کی نظر ہو رہے ہیں،جبکہ محکمہ ایجوکیشن ورکس کی نااہلی غفلت کے باعث ہر سال ملنے والے بجٹ کا فنڈز مقررہ وقت میں استعمال نہ ہونے کے باعث لیپس ورپس ہو جاتا ہے،جبکہ محکمہ ایجوکیشن ورکس کی جانب سے ٹھیکیداروں سے ملی بھگت اور بھاری اضافی رشوت لے کر بہت سے تعمیراتی زیر التواکاموں کی رقم بل جون سے قبل ہی نکال لی گئی جبکہ تعمیراتی کام تا حال مکمل نہیں ہو سکے ،گزشتہ تین سال سے محکمہ ایجوکیشن ورکس تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکیداروں کی منظوری سے قبل مقامی اراکین صوبائی و قومی اسمبلی اور صوبائی وزیر کے نام پر اضافی دس فیصد ایڈوانس جبکہ دس فیصد ورک آرڈر پر جبکہ 27 فیصد پر جاری کئے جانے والے بل کے چیک کی ادائیگی اس کے علاوہ 6 فیصد ٹیکس کٹتا ہے ، تعمیراتی منصوبے پر صرف 25 سے 35 فیصد خرچ کیا جا رہا ہے ، محکمہ تعلیم کے افسر جاوید خواجہ کے مطابق سرکاری سروے اور اعداد و شمار میں ضلع بدین کے3 ہزار 159 اسکولوں میں سے 325 اسکول بند پڑے ہیں جبکہ 953 سرکاری اسکول بغیر چھت کے چل رہے ہیں محکمہ تعلیم سینکڑوں اسکول کی عمارتوں کو خود تحریری طور پر مخدوش اور خطر ناک قرار دے چکی ہے ،چند روز قبل وزیر اعلیٰ کی انسپیکشن ٹیم نے دورہ بدین کے موقع پر بھاری رشوت لیکر ایسے منصوبوں کو مکمل اور معیاری قرار دے دیا جو ابھی تک مکمل ہی نہیں ہوئے جبکہ کاغذات اور رکارڈ میں ان منصوبوں کو مکمل ظاہر کر کے ماہ جون میں بل بھی جاری ہو چکے ہیں ، محکمہ تعلیم کے مقامی ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ کی بار بار تحریری درخواہستوں زیر تعلیم بچوں اور ان کے والدین کے بار بار شکایات اور احتجاج کے باوجود محکمہ ایجوکیشن ورکس کی جانب سے مخدوش اور خطرناک عمارتوں کی مرمت نہیں کرائی جا رہی، جبکہ سینکڑوں تعلیمی اداروں میں پینے کے صاف پانی، واش روم،جیسی بنیادیی سہو لتیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  سندھ کے مولانا روم۔۔ شاہ عبداللطیفؒ بھٹائی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker