تازہ ترینعلاقائی

بدین:بھارت سے ٹماٹروں کی درآمد بند کی جائے کاشتکاروں کامطالبہ

بدین(نامہ نگار) بدین میں قائم ایشیا کی سب سے بڑی ٹماٹر منڈی  میں ٹماٹروں کی نئی فصل کی آمد،پڑوسی ملک بھارت سےآنے والے ٹماٹر اور سبزیوں سے بدین  کے کاشت کار اور تاجر پریشان۔۔۔ حکومت کو توجھ دینے کی اپیل۔بدین میں ایشیا کی سب سے بڑی ٹماٹر منڈی گذشتہ تیس سالوں سے قائم ھے۔۔۔ جس میں  موسم سرما کے ٓاغاز سے ھی ٹماٹر کی نئی فصل کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے منڈی سے کراچی ، لاہور، فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں کے علاوہ افغانستان کے لئے روزانہ 100 سے زائد ٹرک روانہ ہوتے ہیں ،،، ٹماٹر کے کاشتکار ۔۔ خصوصن ساحلی پٹی کے کاشت کاربڑے رقبے پر ٹماٹر کاشت کرتے ھیں۔۔ کیونکہ دیگر فصلیں قدرتی ٓافات کی نظر ھوجاتی ھیں۔۔ جس کے باعث مقامی لوگ اس فصل کو ھی اپنا کل سرمایا سمجھتے ھیں۔۔۔مگر ھر سال کی طرح اس سال بھی زمیندار اور بیوپاری پڑوسی ملک بھارت سے ٓانے والی سبزیوں اور ٹماٹر سے شدید پریشان ھیں۔ زمیندار،بیوپاری کے مطابق، یہاں پر ایشیا کی سب سے بڑی ٹماٹر منڈی قائم ھے،ٹماٹر کی کاشت کے لئے زمین کی تیاری اور نگاہداشت پر بھاری اخراجات آتے ہیں !مگر جیسے یہاں کے ٹماٹر مارکیٹ میں ٓاتے ھیں ایسی ھی پڑوسی ملک انڈیا کی سبزیاں اور ٹماٹر واھگہ بارڈر سے پاکستان پھنچنا شروع ھو جاتے ھیں، جس سے ٹماٹر کے نرخ گر جاتے ھیں،  زمیندار جب ٹماٹر منڈی میں لیکر آتے ہیں ان کا انتہائی کم ریٹ ملتا ہے اور اکثر ٹماٹر کے بیوپاری ٹماٹر خریدنے سے جواب دے دیتے ہیں۔کاشت کاروں کا کھنا ھے کہ ان کا علاقہ بدین پھلے ھی قدرتی ٓافات سے تباھ ھے ،ٹماٹر جیسی مھنگی فصل وہ کاشت کرکے اپنا گذر بسر کرنا چاھتے تو ھیں مگر حکومتی غلط  پالسیوں سے واھگہ سے ٓانےو الے ٹماٹر سے ان کی فصل کا معاوضہ ھی نہیں مل پاتا!!!جس کے لئے حکومت کو اقدامات اٹھانا ھونگے۔۔۔ بصورت دیگر بدین کے کاشت کار وں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت سجندگی سے  پڑوسی ملک سے ٓانی والی اشیا پر واضع پالیس مرتب کرے،، تاکہ پاکستان کی زرعی اشیا کو بھی مارکیٹ میں مناسب معاوضہ مل سکھے

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:عدلیہ کی آزادی میں وکلاء کا کردار ناقابل فراموش ہے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker