تازہ ترینعلاقائی

بدین:CNGاسٹیشنس سےسپلائی ہونے والی گئس غیرمعیاری ہونےکاانکشاف

بدین﴿نامہ نگار﴾   بدین شہر کی چار سی این جی اسٹیشنس سے سپلائی ہونے والی گئس غیر معیاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ،گذشتہ دو ماہ سے سی این جی اسٹیشنس سے محیہ ہونے والی گئس ایوریج درست نہ ہونے کے باعث ٹیکسی ڈرائوروں اور گاڑیوں کے مالکان کو نقصان برداشت کرنا پڑھ رہا ہے ،بدین شہر کی چاروں سی این جی سے دس کلو کے سلینڈر سے بارہ کلو گئس فراہم کیا جاتا ہے اس کے باوجود بھی چالیس کلو میٹر گاڑی چلنے کے بعد گیس ختم ہو جاتی ہے جبکہ دس کلو سی این جی میں 100 کلو میٹر کا فاصلہ گاڑیاں طے کرتی ہیں،سی این جی گیس کے صارفین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں میں سی این جی کی ٹینکی فل کرا کر منزل کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو گاڑیاں کچھ فاصلہ چلنے کے بعد جھٹکے دیکر بند ہو جاتی ہیں ،دوسری طرف سی این جی اسٹیشن کے مالکان نے اس شکایت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے ایسی شکایات سوئی ناردن گیس کمپنی کو کی ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہو رہا ہے ،مالکان کاکہنا ہے کہ ایس ایس جی سی والوں کا کہنا ہے کہ بدین میں سی این جی اسٹیشنس کو گیس سپلائی کرنے والی مین لائین میں فالٹ آگیا ہے جس کی وجہ سے نہ فقط پریشر کم ہو گیا ہے بلکہ گیس کی کوالٹی میں بھی فرق آگیا ہے ،اور وہ کمپنی کی ٹیکنیکل ٹیم آکر درست کریگی لیکن تین ماہ گذر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے سوئی سدرن گیس کمپنی کی نا اہلی اور لاپرواہی کی وجہ سے بدین میں سی این جی گیس کے کاروبار میں کمی آگئی ہے ۔ خاص طور پہ کرایوں پر ٹیکسی اور دوسری گاڑیاں چلانے والے لوگ سخت پریشان ہیں ،بدین کی سی این جی اسٹیشنس کو فراہم کیا جانے والا گیس غیر معیاری ہونے کے باعث گاڑیوں کی انجنوں پر بھی بُرا ثر پڑ رہا ہے ،کئی گاڑیاں خراب بھی ہوگئی ہیں گاڑیوں کے مالکان بدین سے سی این جی کی جگہ اپنی گاڑیاں پیٹرول پر چلانے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں،واضع رہے کہ بدین ضلع گیس کی 65% فیصد ملکی پیداوار دیتا ہے اُس کے باوجود بدین ضلع میں نہ فقط سی این جی اسٹیشنس بلکہ گھرمیں استعمال کرنے والے لوگ بھی گیس کی کم فراہمی کے باعث گیس کا پریشر کم ہونے کے باعث پریشانی میں مبتلہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button