تازہ ترینعلاقائی

ضلع بدین میں منشیات کا کاروبار اپنے عروج پر بدین پولیس خاموش تماشائی

badinبدین(نامہ نگار) ضلع بدین میں منشیات کا کاروبار اپنے عروج پر بدین پولیس خاموش تماشائی ، مین پوری اور گٹکے کا کاروبار پولیس کی سرپرستی میں انڈیسٹری کا درجہ اختیار کر گیا سال 2012 مین وزارت داخلہ حکومت سندھ کی جانب سے گٹکے پر پابندی کے باوجود 12فیکٹریاں قائم ،گٹکے کے استعمال سے ہونے والے منہ کے کینسرنے ایک ہفتے کے دوران 2جانیں لے لیں۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او بدین رحیم خاصخیلی اور ماڈل تھانہ بدین کی نگرانی میں جاری گٹکے اور مین پوری کے کاروبار نے صنعت کا درجہ اختیار کر لیا ہے اس وقت بدین شہر میں گٹکے کے12نئے کارخانے وجود میں آ چکے ہیں جن میں ایکسپورٹ کوائلٹی کا مال سنگہاری محلہ ، کچھی محلہ ، گوٹھ ہاشم خاصخیلی میں تیار ہوتا ہے جبکہ مین پوری کا مرکزی کارخانہ مسلم مہاجر نامی شخص کا ہے اور اکبر عباسی کی فیکٹری بھی مین پوری کا مال تیار کر رہی ہے ۔ بدین شہر میں نزدیکی شہر ٹنڈو باگو سے روی شنکر نامی تاجر منشیات کا بے تاج بادشاہ مال سپلائی کرتا ہے اور اس سپلائی کی مد میں پولیس کو 7لاکھ روپئے بھتہ بقائیدگی سے ادا ہوتا ہے، روی شنکر کا مال بدین میں 30دکانوں پر سپلائی ہوتا ہے جہاں سے مزید آگے ہول سیل اور ریٹل کی مارکیٹ میں فروخت ہوتا ہے ، اس نیٹ ورک میں گلزار میمن ، وقار میمن اور حاجی خاصخیلی نامی افراد بھی شامل جو کہ راتوں رات کڑوڑ پتی بن چکے ہیں ،بدین پولیس ماہانہ 40سے 50لاکھ روپئے بھتے کی مد میں منشیات فروشوں سے وصول کرتی ہے اور مینو فیکچرنگ سے لیکر رٹیل تک کے اس نیٹ ورک میں شامل ہر وپاری پولیس کو بھتہ ادا کرنے کا پابند ہے ۔گٹکے کے زیادہ استعمال سے منہ کے کینسر سے 15سالہ چیتن اور ابو بکر ملاح نامی شخص پچھلے ایک ہفتے کے دوران ہلاک ہوئے ہیں لیکن پولیس کی جانب سے ایس ایچ او بدین منشیات کے کاروبار کی مسلسل سرپرستی کر رہے ہیں جسکی وجہ سے خدشہ ہے کہ منشیات کے استعمال سے آئیندہ دنوں میں منہ کا کینسر وبائی مرض کی شکل اختیار کر لے گا ۔ بدین شھر کے سیاسی سماجی حلقون نے آئی جی سندھ پولیس و دیگر حکام سے ،مطالبہ کیا ہے کے منشیات کو فروغ دینے اور منشیات فروشون سے بھتہ لینے والے ایس ایچ اور بدین رحیم خاصخیلی کے خلاف فوری کاروائی کر کے معطل کیا جائے اور منشیات فروشون کے خلاف بھی سخت قانونی کاروئی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں  بدین:شوہرنے دوپہر کا کھانا نا بنانے پربیوی کوتشدد کرکےزخمی کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker