تازہ ترینعلاقائی

بدین:4ماہ پہلےنکاسی آب کیلئےنالے تعمیرکرائے تھے جومکمل طور پرناکارہ ہوگئے

بدین(نامہ نگار ) محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کی طرف سے چار ماہ پہلے 36 کروڑ روپے کی لاگت سے بدین شہر میں نکاسی آب کے لئے مختلف علاقوں میں زیر زمین اور اوپن نالے تعمیر کرائے تھے جو مکمل طور پر ناکارہ ہوگئے گذشتہ پانچ دنوں سے وقفہ وقفہ سے بدین میں ہونے والی بارش کا پانی اور شہر کے گندے نالوں کا پانی پبلک ہیلتھ کی طرف سے تعمیر کئے گئے نالوں کے ذریعے پرانے میر واہ میں نکاس ہونے کے بجائے اُلٹے بہنے لگے جس کے باعث بدین شہر کا غریب آباد کے علاقے کا کینٹ روڈاور اس سے منسلک گاؤں رحیم ڈنو سومرو،گاؤں حاجی ہاشم خاصخیلی، بھٹی محلہ، صدیق کنبھار محلہ ، مزدور کالونی،سول ہسپتال روڈ،سیرانی روڈسمیت شہر کے مختلف علاقوں میں بارش اور گندے نالوں کا پانی تالابوں کی شکل اختیار کر گیاہے جس سے شہریوں کو آمدورفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ،بارش کا پانی اور گندے نالوں کا پانی جمع ہونے سے شہرے علاقوں میں بدبوء پھیل گئی ہے اور مچھروں میں اضافہ ہو نے سے لوگوں میں بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہو گیا ہے ،اس کے علاوہ بدین شہر میں زیر زمین واٹر سپلائی کی لائنیں جو 1976 اور 1979 میں بچھائی گئی تھیں ٹوٹ جانے سے بارش اور گندے نالوں کا پانی واٹر سپلائی کے پانی میں مکس ہو جانے سے شہری پینے کا گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں واٹر سپلائی کے نلکوں کے ذریعے گھروں میں سپلائی ہونے والا یہ پانی پینے اور گھرو کام میں استعمال کرنے سے پیٹ کی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں ،بدین کے شہریوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ بدین شہر کا نکاسی آب کا نظام درست کر کے بدین شہر کی دو لاکھ سے زیادہ نفوس کو بیماریوں سے بچایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  حالیہ الیکشن میں جیتنے والے 90فیصد کا تعلق سیاسی خاندانوں سے ہے، طاہرالقادری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker