تازہ ترینرپورٹس

بدین ،گولاڑچی،ٹنڈوباگوکی ساحلی پٹی کے 14 لاکھ سے زیادہ لوگ زیرزمین ،کڑوا ،اورزھریلہ پانی پینےپرمجبور

بدین﴿نامہ نگار﴾ بدین ،گولاڑچی،ٹنڈوباگوکی ساحلی پٹی کے 14 لاکھ سے زیادہ لوگ زیر زمین ،کڑوا ،اور زھریلہ پانی پینے پر مجبور ،حکومت سندھ کی جانب سے زیر زمین،کڑوے اور زھریلے پانی کو صاف شفاف بنا کر پینے کے لائق بنا کر لوگوں کو فراہم کرنے کیلئے 40 کروڑ روپے کی لاگت سے لگائے گئے 20 آراو فلٹر پلانٹس ناکارہ ہوگئے ،تین سالوں سے آر او فلٹر پلانٹس پانی کی ایک بوند بھی لوگوں کو فراہم نہیں کر سکے ،2008 پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوتے بدین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سکندر میندھرو نے پینے کے پانی سے محروم بدین کے کوسٹل بیلٹ کے 14 لاکھ انسانوں کو صاف وشفاف پینے کے پانی کی فراہمی کی التجا کی تھی ،سندھ حکومت نے ڈاکٹر سکندر میندھرو کی التجا قبول کر لی لیکن بدین کے 14 لاکھ لوگوں کو صاف و شفاف پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے بدین سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی اور ضلع کے اسٹیک ھولڈرز سے بغیر مشاور کے ملک کی ایک بااثر شخصیت کے بھائی کے فرم کو مذکورہ آر او پلانٹس نصب کرنے کا 40 کروڑ کا ٹھیکہ دے دیا اور اسی ٹھیکیداری فرم نے تحصیل بدین،گولاڑچی، ٹنڈوباگوکی ساحلی پٹی کے گائوں بگڑا میمن،احمد راجو،سیرانی ،بھڈمی، ناتھو لنڈ ، حاجی حجام،سمیت ماتلی اور تلہار تحصیلوںکے مختلف20 گائوںآر او فلٹر پلانٹس نصب کر کے سابقہ ڈی سی او بدین اور محکمہ پبلک ہیلتھ اینجنیئرنگ سے کمیشن کے عیوض تمام فلٹر پلانٹس فنکشنل ہونے کا سرٹیفکیٹ لے کر حکومت سے رقم حاصل کر لی ، بدین ضلع سے مسلسل کرپشن پانی کی مصنوئی قلت عوامی مسائل حل نہ ہونے ،نوکریاں فروخت کرنے پرانے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو مسلسل نظر اندار کرنے کی شکایات موصول ہونے اورمیڈیا پر آنے کے بعد صدر آصف علی زرداری کی ہدایات پر ایم این اے محترمہ فریال تالپور نے بدین ضلع کے تمام کاموں اور پارٹی معاملات کی نگرانی شروع کر دی ، تین روز پہلے وزیر اعلیٰ ہائوس میں بدین کے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی اور ڈی سی بدین کا اجلاس زیر صدارت فریال تالپور کے ہوا جس میں بدین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سکندر علی میندھرو نے مذکورہ آر او فلٹر پلانٹس سے بدین کے 14 لاکھ لوگوں کو تین سالوں سے پانی سپلائی نہ ہونے اور پلانٹس نصب کرنے والی ٹھیکیداری فرم کے خلاف شکایات کی جس پر فریال تالپور نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی سی بدین کو ہدایت کی کہ ٹھیکیدار ی فرم کے مالک کو طلب کر کے آر او پلانٹس کے بارے میں ایک د ن کے اندرانہیں رپورٹ دی جائے،جس کے بعد گذشتہ روز ڈی سی بدین کاظم حسین جتوئی اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سکندر میندھرو نے بدین ضلع کی ساحلی پٹی کا دئورا کر کے مذکورہ آ ر او پلانٹس کا معائنہ کیا،اور رپورٹ بنا کر فریال تالپور کو روانہ کر دی ۔
واضع رہے کہ دو سال قبل زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کی ایک تحقیقی ٹیم نے بدین ضلع کی ساحلی پٹی سمیت تینوں تحصیلوں بدین،گولاڑچی،ٹنڈوباگو کے زیر زمین پانی پر تحقیق کرنے کے بعد وفاقی حکومت اور اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو رپورٹ پیش کی تھی کہ بدین کے زیر زمین پانی میں 90% فیصد زھریلہ عنصر موجود ہے۔قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اس بات کی تصدیق بھی کی تھی لیکن بدین کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی اور سائنسی تحقیقی ماہیروں کی جانب سے تصدیق کرنے کے باوجود بدین کے 14 لاکھ لوگ زیر زمین کڑوا اور زھریلہ پانی پینے پر مجبور ہیں ،اور یہ پانی استعمال کرنے سے بدین کی ساحلی پٹی کے 70% فیصد لوگ ہیپاٹائیٹس ،جلد ،ٹی بی کی بیماریوں میں مبتلہ ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  عدنان سمیع بھارتی شہری بن گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker