بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

بغل میں چھری منہ میں رام رام

پاکستان اور بھارت کے پارلیمنٹرین کے درمیان نئی دہلی میں چوتھے﴿امن کانفرنس﴾ ڈائیلاگ کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’ماہرین ِتعلیم اور بزرگوں کو دونوں ممالک ویزے سے استثنٰی قرار دیں،دونوں حکومتیں واہگہ بارڈر پر بہتر اور شاندار تعلقات کو فروغ دیں،دونوں ملکوں میں آمدورفت کی اجازت دی جائے۔تعلیم،صحت ،میڈیا سے وابستہ افراد اور صنعتکاروں کے تبادلے کریں،دونوں ملکوں کو ٹورسٹ ویزا متعارف کرانا چاہئے۔دونوں ممالک توانائی سے متعلق آلات کی تجارت کو فروغ دیں۔صحت،سیاست اور مذہبی مقاصد کے فروغ کے لئے کام کیا جائے‘‘۔
بلاشبہ پائیدار امن ،خوشحالی اور ترقی کے لئے بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات ہونا جملہ ممالک کی بنیادی ترجیح ہونا چاہئے۔ پاکستان نے شروع دن سے عالمی برادری سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے پر زور دیا اور اب بھی پاکستان اپنے اصولی موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔لیکن مثبت کردار کی حوصلہ افزائی کے بجائے ہمیشہ منفی ردعمل کے نتیجہ سے قیام امن کی کاوشیں متاثر ہو رہی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم ہند کے تناظر میں دونوں ممالک کے مابین تنائو موجود رہاجو تین جنگوں کا باعث بناجس سے پاکستان کو دو لخت ہونا پڑا۔دراصل دونوں ممالک کے اس وقت کے حکمرانوں کی سوچ اور پاکستان دشمنی کے عنصر نے سارا بگاڑ پیدا کیا۔دوسرے لفظوں میں ہمارے بڑوں کی غلطیوں سے تنائو نے جنگی جنون کی شکل اختیار کی۔اب جس کا خمیازہ دونوں ممالک بھگت رہے ہیں۔
ماضی کی غلطیوں کا ادراک رکھنے والوں نے بھارت کی ہٹ دھرمی،ضد اور میں نہ مانوں کے باوجود بہتر تعلقات کے لئے کاوشیں جاری رکھی ہوئی ہیںجو انتہائی خوش کن بات ہے مگر بھارتی سورمائوں نے ابھی تک عقل کے ناخن نہیں لئے۔میاں نواز شریف نے اعلان لاہور اور سابق صدر پرویز مشرف نے سرحدی تنائو کو کم کرنے میں بھارت سے کئی گنا بڑھ کر کردار ادا کیا لیکن بھارت نے کبھی بھی ایک قدم آگے بڑھنے کے بجائے نہ تنائو کی وجوہات پر غور کیا اور نہ ہی مثبت رویہ اپنایا۔جس کی مثال ممبئی حملوں ،کشمیر میں جاری آذادی کی جنگ اور آبی مسائل کے حل پر گفتگو کی یہی وجہ ہے کہ اب بھی بھارت نہ جانے پاکستان کی پرامن پالیسی کو ممکن ہے کہ کمزوری سمجھ کر اوٹ پٹنگ مارے جا رہا ہے۔بھارت کو سمجھ جانا چاہئے کہ پاکستان ایٹمی طاقت کے ساتھ ساتھ مضبوط جمہوری نظام میں بڑی قوت بن چکا ہے۔ہمارے داخلی ہزار اختلاف ہوں مگر بھارت جس غلط فہمی کا شکار ہے اسے اب اس خول سے باہر نکلنا پڑے گا۔بھارت کو یہ بھی جاننا ہوگا کہ پاکستان نے جس جرات کے ساتھ دہشت گردی کی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے اور اس میں کامیابی حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات ہے۔بھارت صرف ممبئی حملوں کو دیکھ کر سٹپٹا گیا تھاجبکہ پاکستان میں ایسے حملے معمول سے جاری رہے مگر ہماری حکومت اور دلیر افواج پاکستان نے عوام کی حمایت سے وہ کر دکھایا جو بھارت کیا پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ ہم نے کمال بہادر ی اور بے مثال قربانیاں دیکر اپنا گلشن اغیار سے بچایا۔
بھارت کو یہ بھی سمجھ جانا چاہئے کہ ہماری 20کروڑ کی آبادی ہے جبکہ بھارت ایک ارب سے تجاویز کر چکا ہے ۔اتنی گنجان آبادی کسی بھی طور ایٹمی جنگ کی متعمل نہیں ہو سکتی۔تنائو کی وجوہات میں سرِ فہرست تنازعہ ’’جموں کشمیر ‘‘ کا ہے جس کے بڑے حصہ پر بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے مسلسل انحراف کرتے ہوئے اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے۔سر کریک اور پھر آبی جارحیت کے علاوہ پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے بھی بھارت کے ساتھ نتھی ہیں۔بھارت نے پاکستان کے ساتھ ’’بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘ جیسے تعلقات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جو انتہائی خطرناک اور تباہی و بربادی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔بھارت کو اپنا رویہ بدلنا پڑے گا ورنہ کسی خوش فہمی کے نتیجے سے ناقابلِ تلافی نقصانات دونوں ممالک کے عوام کا ہو گا۔
دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے پارلیمانی وفود کا مذکور ڈائیلاگ تاریک راستوں میں امید کی کرن ہے مگر مشترکہ اعلامیہ جو دوسرے معنوں میں تجاویز ہیں۔اگر ان پر عمل کیا جائے تو حالات میں بہتری اور اعتماد سازی کی کوششیں رنگ لا سکتی ہیں۔یہ واضح حقیقت ہے کہ دونوں ممالک میں شرح خواندگی اطمینان بخش نہیں ،جہالت سے انسان حیوانیت کی جانب بڑھ رہاہے۔چائلڈ لیبر دونوں ممالک میں روز بروز بڑھنے کی وجہ عام تعلیم کا عدم فروغ ہے لہذا ماہرین تعلیم کے لئے دونوں ممالک میں آمدورفت آذادانہ ہونی چاہئے تاکہ اس مشترکہ مسئلے کا حل نکل پائے۔40سال سے زائد عمر کے شہریوں کی بھی دونوں ممالک میںبغیر ویزے کے آمدورفت سے عوام میں خوش گوار تاثر پیدا ہوگا ۔ صحت کے حوالے سے بھی دونوں ممالک عوام کی زندگیوں کو محفوظ کر سکتے ہیں۔صنعتی ترقی کے لئے صنعت کاروں کی آمدورفت میں نرمی سے بہتری نمودار ہو سکتی ، ٹورسٹ ویزے کو متعارف کرنے سے نوجوان نسل کی آمدورفت کے نتیجے میں آنے والی نسلوں پر خوش گوار اثرات مرتب ہونگے۔ مذہبی مقاصد کے حوالے سے بھی دونوں ممالک نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔آخری بات سب سے اہم جو اس مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی کی میڈیاسے وابستہ افراد کو بھی دونوں ممالک آذادانہ طور پر آنے جانے کی اجازت دیں۔میڈیا واحد زریعہ ہے جو اصل حقائق کو سامنے لاکر اعتماد سازی میں اضافہ کر سکتا ہے۔بھارت اپنے آپ کو بڑا جمہوری ملک قرار دیتا ہے تو پھر میڈیا کے حوالے سے وفود کی نقل و حرکت پر سخت پابندی کیوں؟ضروری ہے کہ میڈیا کے وفود کو آر پا ر جانے کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیںتاکہ فکری و شعوری طور پر تعلقات میں بہتری پیدا ہو سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مذکورہ تجاویز کو محض سطحی نہ لیا جائے اور نہ ہی روایاتی عمل سمجھا جائے۔پاکستان نے اب تک جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے بھارت کو چاہئے کہ وہ ذمینی حقائق پر سنجیدگی اختیار کرئے۔دونوں ممالک کے عوام معاشی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔غربت کی شرح کو سامنے رکھا جائے تو بھارت کی افرادی قوت کافی کمزور ہے جو اسی صورت میں بہتر ہوسکتی ہے جب بھارت باہمی مسائل کو جلد سے جلد حل کرنے کی جانب بڑھے ۔ورنہ ہٹ دھری کی پالیسی بھارت کو لے ڈوبے گی۔امن ،خوش حالی اور ترقی کا راز اس میں مضمر ہے کہ بھارت منفی سوچ ترک کر کے پاکستان کے ساتھ اپنے رویوں میں تبدیلی لائے۔یہی خطے کی عوام کے ساتھ بہتری ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے :

3 Comments

Back to top button