تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

بیگم نسیم کی عملی سیاست میں آمد۔۔عوامی نیشنل پارٹی کا نیاامتحان

zafar ali shah logoویسے تو لکھنے کے لئے اہم سیاسی ،ریاستی اور عوامی معاملات اور موضاعات دیگر بھی ہیں جن میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی رخصتی،ان کی جگہ راحیل شریف کی بطور نئے آرمی چیف تقرری،اسی مہینے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری کی رخصتی اوران کی جگہ آئینی رُوسے سینئر ترین جج جسٹس تصدق حسین جیلانی کی بحیثیت نئے چیف جسٹس آف پاکستان یقینی تعیناتی،مہنگائی کا طوفان جو عوام کی قوت برداشت اڑاکرلے گیاہے اور جس کے خلاف تحریک انصاف نے 22دسمبر کو لاہور میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کردیا ہے اور سب سے بڑھ کر سرفہرست ایشو ڈرون حملوں کے خلاف تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور ان کے دیگر اتحادی جماعتوں کا احتجاج اور نیٹوافواج کے لئے رَسد لے جانے والے کنٹینرز روکنے کے لئے نظرآتے دھرنے ۔۔لیکن آج میں بظاہرمعمولی مگر درحقیقت جس غیر معمولی اعلان کو موضوع کالم بنارہاہوں وہ ہےُ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان (باچاخان)کی بہو،رہبرِتحریک خان عبدالولی خان کی اہلیہ،اسفندیارولی خان کی ماں،اعظم خان ہوتی کی ہمشیرہ اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی کی پھوپی بزرگ خاتون اور سیاسی رموز سے بخوبی واقفیت اور وسیع تجربہ رکھتی بیگم نسیم ولی خان جو کہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبرپختونخوا کی سینئرصوبائی وزیر بھی رہ چکی ہیں کی عملی سیاست میں آمدکااعلان،کیونکہ سالوں بعد نئے سیاسی صف بندی کی متلاشی بیگم نسیم ولی خان کی سیاست میں دوبارہ آمد کے اعلان کاموجودہ عوامی نیشنل پارٹی کی حیثیت یا اسفندیار ولی خان کے سیاسی مستقبل پر کوئی اثر پڑے گا کہ نہیں حالانکہ بظاہربیگم نسیم ولی خان ایک کمزور وکٹ پر کھیلنے نکلی ہیں ایک طرف وہ اکیلی اور دوسری جانب ایک مضبوط سیاسی جماعت۔۔جس کا محض چند ساتھیوں کی مدد سے کچھ بگاڑناآساں کام نہیں ہے اور اے این پی کے رہنماؤں جن میں اے این پی کے انتخابات کے لئے قائم عبوری کابینہ کے سربراہ سینیٹر حاجی عدیل،سابق وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین اور اے این پی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد خان کے نام قابل ذکرہیں نے واضح کردیاہے کہ بیگم نسیم ولی خان کو پارٹی کے اصولوں کی پاسداری کرنی ہو گی ان کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی اور اسفندیارولی خان لازم وملزوم ہیں سو یہ کہا جاسکتاہے کہ اسفندیاراینڈکمپنی ایک منظم پارٹی کے حامل ہیں جبکہ بیگم نسیم کوبکھرے ہوئے دھڑے کی حمایت حاصل ہے جو ابھی خود منظم ہوانہیں اور نکلاہے دوسروں کو زیر کرنے۔۔ اس کے باوجودبیگم نسیم ولی خان کی جانب سے کارزارسیاست میں دوبارہ قدم رکھنے کے فیصلے اور اعلان نے خیبر پختونخوا کے سیاسی اُفق پر بہرحال کئی ایک اہم سولات کو جنم لیا ہے۔۔لیکن ان سوالات کو سامنے لانے سے قبل ماننا ہوگا کہ اے این پی نے بھی بیگم نسیم کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا اور ایسابرتاؤتو ہرگز روا نہیں رکھا جس کی وہ یقینی طورپر حقدارتھیں کیونکہ وہ ایک بزرگ اور منجھی ہوئی سیاستدان تو تھیں ہی عوامی نیشنل پارٹی کے لئے بھی ان کی گراں قدرخدمات رہی تھیں اور انہوں نے پارٹی کو اس دور میں سہارا دے کر ورکرز کو یکجا اور پارٹی کو منظم رکھا تھا جب رہبرتحریک خان عبدالولی خان جیل میں تھے پارٹی کے دیگر قائدین جلاوطنی کی زندگی گُزارنے پر تھے اُس دور میں پارٹی ایک مشکل آزمائش سے نبرد آزما تھی۔۔یہ کہنابھی غلط نہیں ہوگا کہ 1990ء میں مختصر عرصے کے لئے ہی سہی مگر اے این پی کی صوبائی مخلوط حکومت تک رسائی میں بھی اُن کا کلیدی کردار تھاسو اُن کی خدمات کوقدر کی نگاہ سے دیکھناچاہیئے تھا نہ کہ پارٹی سے نِکال کر اُن کی یوں تذلیل کی جاتی جبکہ ان کی پارٹی سے دوری پر خوشی کی تالیاں بجانے والے کبھی اُن کو اپناقائدمانتے تھے اورجیسے پیپلز پارٹی نے سیاسی اور پارٹی خدمات کے اعتراف میں بیگم نصرت بھٹو کو تاحیات چیئرپرسن مقرر کیا تھا کیاعوامی نیشنل پارٹی ایسانہیں کرسکتی تھی یایوں کہیں اور سمجھیں کہ اے این پی ایسے احسان فراموش لوگوں کی جماعت ہے جو اپنے محسنوں کو بھول جانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ بیگم نسیم ولی خان کی جانب سے عملی سیاست میں آنے کا اعلان ان کے بھائی اعظم خان ہوتی کی جانب سے اے این پی کے قائد اسفندیارولی خان کے خلاف چند ماہ سے جاری سرگرمیوں کی کڑی تونہیں جس کو اے این پی والے اے این پی کے خلاف گہری سازش قراردے رہے ہیں جبکہ اعظم خان ہوتی کی جانب سے اے این پی کی قیادت پر لگائے گئے الزامات سے متفق ہوناظاہرکرتے ہوئے بیگم نسیم ولی خان نے بڑی حد تک اس جانب اشارہ کر بھی دیاہے ۔سوال یہ بھی اہم ہے کہ بیگم نسیم کا سالوں قبل عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ پارٹی کی بہتر مفاد میں تھا یا دوبارہ عملی سیاسی جدوجہد کے آغاز کا فیصلہ بہتر ثابت ہوگا،اگر ان کی واپسی کا فیصلہ درست ہے جبکہ ان دنوں ان کی صحت کی حالت انتہائی کمزور دکھائی دے رہی ہے اور خود بھی کہہ رہی ہیں کہ وہ بوڑھی ہوچکی ہیں تو انہوں نے پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کیوں کی تھی حالانکہ اس دور میں ان کی صحت بھی کافی بہتر تھی اور اگر آج وہ پارٹی بچانے نکلی ہیں تو اتنے سال بقول ان کے( پارٹی برباد کی گئی) انہوں نے پارٹی کی بربادی دیکھتے ہوئے انتظارکیوں کیااور کس مصلحت کے تحت کیا ،آج اگر وہ فرید طوفان اور دیگر ناراض کارکنوں کو مناکر و

یہ بھی پڑھیں  گوجرانوالہ:اسلام دشمن قوتوں کی یلغار کا مقابلہ کرنے کیلئے محراب و منبر کے وارث حضرت مجدد الف ثانی کی للکار اور تعلیمات کو مشعل راہ بنائیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker