تازہ ترینعلاقائی

بہاولنگر:نواحی گاؤں کےرہائشی محمد اسماعیل کواغوا کےبعد قتل کردیا

بہاولنگر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ضلع بہاولنگر کے گاؤں 273-hr کے رہائشی محمد اسماعیل کو اغوا کے بعد قتل کر کے اس کی لاش کو ہاکٹرہ نہر 278-hr کے قریب پھانسی پر لٹکا دیا ،پولیس کی روائتی خاموشی،پولیس جائے وقوع پر 3 سے 4 گھنٹے دیر سے پہنچی۔لاش کا پوسٹ مارٹم بھی دیر سے کیا گیا ،جس پر مقتول کے لواحقین نے ہسپتال سے لاش اٹھا کر ہسپتال چوک میں رکھ کر احتجاج کرنا شروع کیا 2گھنٹوں بعد مقدمہ درج کیا گیا مگر مظلوموں کی داد رسی کے لیے نہ تو کوئی حکومتی اہلکار آیا اور نہ ہی کوئی سیاسی شخصیت آئی۔ تھانہ فورٹ عباس میں درج ایف آئی آر میں مقتول کے والد شیر محمد کا جواں سالہ بیٹا محمد اسماعیل کو محمد نعمان،محمد ندیم ساکن282 ایچ آر ،محمد جاویداسی گاؤں کا ساکن رات کے وقت گھر سے بلا کرلے گئے جن کو جاتے ہوئے لیاقت علی ،محمد یوسف نے دیکھا ۔تینوں ملزمان نے محمد اسماعیل کو گلے میں رسی ڈال کو قتل کردیا اور ایک درخت کے ساتھ لاش لٹکا دی ۔یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مقتول نے خود کشی کی ہے ۔رات گئے تک جب محمد اسماعیل گھر نہ آیا تو اہل خانہ کو فکر ہوئی رات دیر تک تلاش کرتے رہے مگر معلوم نہ ہوسکا اگلے روز دو بجے کے قریب کسی نے بتایا کہ نہر ہاکٹرہ پر کسی لاش لٹکی ہوئی ہے جب اہل خانہ اور معززین چک نے جا کر دیکھا تو یہ لاش اسی بد قسمت اسماعیل کی تھی ۔پولیس کو اطلاع دی گئی مگر پولیس حسب سابق دیر سے پہنچی ،لاش کو فورٹ عباس پوسٹ مارٹم کے لیے لایا گیا مگر یہاں غریب کی کون سنتا ہسپتال کا عملہ بھی مقتول کو خود کشی ہی بنانے پر ضد کرتا رہا اور پولیس بھی اپنے موقف پر قائم رہی ۔اہل خانہ اور گاؤں کے رہنے والے درجنوں لوگوں نے پولیس اور ہسپتال انتظامیہ کے رویہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مقتول کی لاش ہسپتال چوک کے باہر رکھ کر ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردیاس دو گھنٹہ میں پولیس نے مقدمہ بھی درج کردیا اور ہسپتال انتظامیہ نے پوسٹ مارٹم کر کے رپورٹ دے دی جس پر تینوں ملزمان کے خلاف تھانہ فورٹ عباس میں مقدمہ درج ہوگیا ۔اور یوں احتجاج ختم ہوگیا آخری اطلاعات تک کوئی ملزم گرفتار نہ ہوا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں  ٹی اوآرز اور سیاسی چالبازیاں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker