تازہ ترینعلاقائی

بہاول پور:دیورنے بیوہ بھابھی کو ہوس کانشانہ بناڈالا

bahawalpur بہاول پور(مانیٹرنگ سیل)خانقاہ شریف ۔دیورنے بیوہ بھابھی کو ہوس کانشانہ بناڈالا،پولیس اورنکاح خواں مولوی شرعی نکاح کاڈرامہ رچادیا،آسیہ بی بی اپنے چاربچوں سمیت دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ، بیوہ آسیہ بی بی کاوزیراعلی پنجاب سے ملزمان کے خلاف کاروائی کامطالبہ تفصیل کے مطابق بہاولپور خانقاہ شریف بستی بہار بورانہ کی رہائشی آسیہ بی بی کی شادی محمد اختر سے ہوئی جو اپنے چار بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔آسیہ بی بی نے بتایا دیور حافظ ظہور احمد، محمد اسلم، محمد اجمل اور شاہد پسران اللہ دتہ جو کہ اس شادی سے ناخوش تھے۔ عرصہ چار سال قبل میرا خاوند محمد اختر وفات پا گیا۔ میرے خاوند کی وفات کے بعد میرے دیور حافظ ظہور احمد نے مجھ سے شادی کرنے کو کہا تو میں نے اپنے بچوں کی خاطر شادی سے انکار کر دیا۔ جسکی وجہ سے تمام پراپرٹی، کاروبار اور مال مویشی پر میرے دیور اور سسر قابض ہو گئے اور میرے ساتھ انکا رویہ تبدیل ہو گیا، اکثر لڑائی جھگڑا کرتے رہتے تھے۔ مورخہ 04-06-2013 کی درمیانی شب تقریباُ دوبجے دیور حافظ ظہور احمد میرے کمرے میں آ گیا اور پسٹل کی نوک پر دھمکی دی کہ اگر شور کیا تو جان سے مار دوں گا اور میرے ساتھ زبردستی زناء حرام کیا اور بھاگ گیا میں نے اپنے سسر کو واقعہ بتایا تو اس نے الٹا مجھے برا بھلا کہا اور زدوکوب کیا اتنے میں صبح ہو گئی۔ میرا بھائی اسلم مجھے لے کر تھانہ سمہ سٹہ گیا اور تحریری درخواست دی۔ تھانہ سمہ سٹہ پولیس نے ملزمان سے ساز باز کر لی اور عدالت کے حکم سے مقدمہ نمبر204/13 بجرم376 ت پ درج کیا گیا مگر پولیس متعلقہ ملزمان کو پکڑنے کی بجائے ملزمان کے ساتھ مل گئی اور دولت کی چمک کی وجہ سے ملزمان اور پولیس کی ملی بھگت سے شرعی نکاح کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے تاکہ ملزم حافظ ظہور احمد کو مقدمہ نمبر204/13 سے بچایا جا سکے۔ اور پولیس نے تمام حقائق کو تبدیل کر کے جعلی فرضی نکاح خواں مولوی اظہر کو ملزمان نے مبینہ طورپر مبلغ دولاکھ روپے کا لالچ دے کر خرید لیا۔ جس پرمولوی اطہر ولد مولوی اعظم نے جھوٹا اور من گھڑت بیان دے دیا کہ آسیہ بی بی کا شرعی نکاح میں نے کروایا تھا۔ آسیہ بی بی نے کہاکہ میرا کوئی شرعی نکاح نہ ہوا ہے۔ میں محمد اختر ولد اللہ دتہ کی بیوہ ہوں۔ اور میرے چار بچے میرے پاس موجود ہیں۔ بیوہ آسیہ بی بی، اس کے بھائی اور دیگر رشتہ داروں نے میڈیا کے سامنے خود بیان دیا ہے کہ آسیہ بی بی کا کوئی شرعی نکاح نہ ہوا ہے۔جبکہ یہ صرف اور صرف ڈی ایس پی راؤقاسم اور تفتیشی افسران نے ملزمان سے مبینہ طورپر بھاری رقم رشوت لے کر بیوہ آسیہ بی بی کا مقدمہ نمبر204/13 بجرم 376 ت پ تھانہ سمہ سٹہ خارج کرنا چاہتے ہیں۔ ملزمان مجھ سے اور میرے بچوں سے انکا حق چھیننا چاہتے ہیں۔ میرے خاوند کی جائیداد اور دیگر اثاثوں پر میرا دیور ملزم حافظ ظہور وغیرہ قبضہ کرنے کی خاطر پولیس سے مل کر ڈرامہ کر رہے ہیں۔ میں غریب عورت ہوں بچوں کو لے کر کہاں جاؤں۔ میری آئی جی پنجاب، وزیرِ اعلیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button