تازہ ترینکالم

’’بہو‘‘ کو ’’بہو‘‘ رہ کر ہی جینے دو ۔۔۔؟

afzal ahmadعورت کے بہت سے روپ ہوتے ہیں کبھی وہ بیٹی کے روپ میں گھر کی رونق ہوتی ہے تو کبھی بہن کے روپ میں بھائی پر نثار کبھی وہ ماں کی صورت میں محبت‘ قربانی اور ایثار کا سایہ دار درخت ہوتی ہے تو کبھی بیوی کے روپ میں ایک خدمت گزار شریک حیات تو کبھی بھابی کی شکل میں ایک اچھا دوست تو کبھی نند کی شکل میں ہمراز غرض وہ ہر روپ میں ہی اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ ایک انعام سے کم نہیں بشرطیکہ سب اپنی اپنی جگہ انصاف سے کام لیں لیکن عورت کا ایک روپ ایسا ہوتا جس کا ذکر تو بہت ہوتا ہے لیکن جب وہ اس روپ میں ڈھلتی ہے تو نجانے کیوں ہم اُسے اس روپ میں تسلیم کرنے میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں اور اُس روپ کا نام ہے ’’بہو‘‘ بڑی معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپنے بھائی بیٹے کی شادی سے قبل تو مائیں بہت ’’بہو‘‘ ڈھونڈنے کی باتیں کرتی ہیں لیکن جب ہماری ماں بہنیں اپنے گلفام کی شریک حیات کی تلاش میں نکلتی ہیں تو لڑکی کو ہر ہر اینگل سے جانچا جاتا ہے اور اُس وقت نا تو اُن کی نظر اپنے گلفام کے حسن کی طرف جاتی ہے اور نہ ہی اس کی عمر کی طرف‘ ہاں انہیں تلاش ہوتی ہے ایک 17-18 سال کی کوہ قاف کی پری کی اور جب شادی ہو جاتی ہے اور رخصتی کا وقت آتا ہے تو لڑکی کے والدین کو تسلی دی جاتی ہے کہ پریشان نہ ہونا ’’بہو‘‘ نہیں ’’بیٹی‘‘ بنا کر گھر لے جا رہے ہیں۔
آخر ’’بہو‘‘ کو ’’بہو‘‘ ماننے میں کیا قباحت ہے کہیں لا شعور میں یہ خوف تو نہیں ہوتا کہ ’’بہو‘‘ مان لیا تو ’’بہو‘‘ والے بھی دینے پڑیں گے کہ بیٹی کو جو چاہو کہہ لو اُس نے کیا کہنا ہے اور کون سا برا ماننا ہے تو کیوں نا ’’بہو‘‘ کو بھی بیٹی کا نام دے کر جو چاہو کہہ لو اور پھر یاک تقابل بھی شروع ہو جاتا ہے ’’بہو‘‘ اور بیٹی کے درمیان میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ لوگوں کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ گھر ’’بہو‘‘ کا ہوتا ہے بیٹی کا نہیں اُس نے تو کل کو رخصت ہو جانا ہے۔ ’’بہو‘‘ نے ہمارے بیٹے کے ذریعے ہمارے خاندان کی نسل کو پروان چڑھانا ہے۔ ہماری نسل ہماری ’’بہو‘‘ نے ہی بڑھانی ہے‘ ہماری اپنی بیٹی نے ہماری ’’بہو‘‘ کی طرح دوسروں کے خاندان کی اولاد کو پروان چڑھانا ہے۔تو کامن سی بات ہے اگر ہم ’’بہو‘‘ کو اپنی بیٹی سے زیادہ پیار دیں تو ہماری آنے والی نسل میں ہماری محبت پیدا ہو گی۔ ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ ہم ’’بہو‘‘ کو ’’بہو‘‘ جتنا پیار بھی نہیں دیتے اور جو ہماری نسل کو پروان چڑھا رہی ہوتی ہے‘ اور بیٹی کو اتنا پیار دیتے ہیں کہ جس کی حد نہیں حالانکہ بیٹی دوسرے خاندان کی اولاد کو پروان چڑھا رہی ہوتی ہے۔
’’بہو‘‘ کا کردار بھی بڑا عجیب و غریب ہے اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ پہلے ہم دوسرے کی بیٹی کو بڑی محبت سے اپنے گھر لاتے ہیں اور پھر کچھ دنوں کے بعد گھر سنبھالنے کے نام پر گھر کا سارا کام اُس کے ذمے ڈال دیا جاتا ہے‘ شوہر کا خیال رکھنا اور اُس کے ماں باپ کی خدمت سے لیکر نند اور دیور کے ناز نخرے اٹھانے تک‘ ساری ذمہ داریاں ’’بہو‘‘ پر ڈال دی جاتی ہیں سمجھو آرام تو ’’بہو‘‘ پر حرام ہی ہو جاتا ہے۔ صبح صبح اگر کسی کو ناشتہ دینے میں تاخیر ہو گئی تو ’’بہو‘‘ کی شامت آگئی۔ اگر چائے میں چینی تیز ہو گئی تو ’’بہو‘‘ کے رنگ غائب ہو جاتے ہیں۔ کیوں جناب کوئی مجھے ثابت کر دے کہ کہاں لکھا ہے کہ سارے گھر والوں کی خدمت کرنا ’’بہو‘‘ کی ذمہ داری ہے؟ میرے ناقص علم کے مطابق ’’بیوی‘‘ کا شوہر کے علاوہ (نند، ساس، سسر، دیوروغیرہ) کسی کی خدمت کرنے کا کسی جگہ کوئی حکم ہے ہی نہیں ۔ ہاں اگر بیوی شوہر کے گھر میں سے کسی بھی رشتے کی خدمت کرتی ہے تو بیوی کا شوہر کے اوپر احسان ہوتا ہے جس کا ہمیں علم ہی نہیں۔
سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کو اپنے سسرال میں کوئی کام نہ کرنا پڑے اور اگر اُس کے ساتھ وہاں ایسا ہی سلوک ہوا جیسا کہ ہم اپنی ’’بہوؤں‘‘ کے ساتھ کرتے ہیں تو اُس کی سسرال سے برا کوئی نہیں آخر ہم اپنے رشتوں میں بھی محبت دینے اور انصاف سے کام لینے سے کیوں کتراتے ہیں ہم کیوں اُن کی ذات کو اور اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے اور کیوں اُن کی ذات کو مختلف رشتوں کو آرام پہنچانے کے لئے وقف کر دیتے ہیں اور کیوں انہیں ان کی زندگی خوشی سے جینے نہیں دیتے؟ کبھی رشتوں کے نام پر تو کبھی خدمت‘ قربانی اور ذمہ داری کے نام پر‘ آخر ہم کب تک ان نا انصافیوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے رہیں گے اور آخر ہم کب انہیں وہ عزت‘ مقام اور مرتبہ دیں گے جس کی ’’بہو‘‘ حقدار اور اہل ہیں۔
بہت سے گھرانوں میں لڑکے کی ’’ماں‘‘ ماں ہونے کا ناجائز فائدہ بھی اٹھاتی نظر آئی ہے۔ ماں ’’بہو‘‘ کے ساتھ زیادتی بھی کر جائے گی تو ’’ماں‘‘ کو پتہ ہے میں تو ایک ماں ہوں میرا بیٹا میری بات کو زیادہ اہمیت دے گا اور ’’بہو‘‘ کو کھری کھری سنا دے گا۔ یہ گھریلو جنگوں کو ہمیں ختم کرنا ہو گا‘ اکثر ماؤں کا اپنی ’’بہوؤں‘‘ سے یہ ہی گلا ہوتا ہے کہ یہ کام کم کرتی ہیں‘ ہمارے زمانے میں ہم نے بہت کام کئے آج کل کی لڑکیاں کرتی ہی کیا ہیں۔ ایسی ماؤں سے گزارش ہے کہ آپ کے زمانے میں اگر واشنگ مشین میسر نہیں تھی تو آج واشنگ مشین میسر ہے تو آج کی لڑکی واشنگ مشین میں ہی کپڑے دھوئے گی آپ نے ساری عمر صابن اور ڈنڈے سے کپڑے دھوئے تو یہ ’’صابن اور ڈنڈا‘‘ آپ کے زمانے کی اعلیٰ ایجاد تھے۔ آج کے دور کی اعلیٰ ایجاد واشنگ مشین ہے تو آپ کی ’’بہو‘‘ نے بھی آپ ہی کی طرح موجودہ دَور کی اعلیٰ ایجاد کو استعمال کیا ہے۔
عورت ‘ عورت کی دشمن ہے ‘ یہاں ساس‘ بہو میں حسد کی ایک مثال دیتا ہوں ’’فقیر نے ایک گھر کے سامنے صدا لگائی تو نئی نویلی دلہن بولی! بابا معاف کرو‘ فقیر کچھ دور گیا تو دُلہن کی ساس نے اُسے آواز دی‘ فقیر خوشی خوشی واپس آیا تو ساس نے بھی کہا بابا معاف کرو‘ تو فقیر نے غصے سے کہا یہ تو لڑکی نے بھی کہا تھا پھر مجھے واپس کیوں بلایا؟ ساس نے فقیر کو کہا اِس گھر کی مالکن میں ہوں‘ بہو کون ہوتی ہے تم پر رعب جمانے والی‘‘۔ تو بھائی بات تو چھوٹی سی ہے لیکن عورت دشمنی‘ آپس کے حسد کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے۔
یہاں میں آپ سب سے یہ ہی گزارش کروں گا کہ ’’بہو‘‘ کو ’’بہو‘‘ جتنے حقوق ہی دے دو‘ دکھاوے کی ’’بیٹی‘‘ مت بناؤں۔ یقین کرو ’’بہو‘‘ کو اگر ہم لوگ ’’بہو‘‘ جتنے حقوق ہی دے دیں تو ہمارے معاشرے کی ’’بہو‘‘ اتنی نازک ہے کہ وہ اپنی جان تک تو کیا اپنی رگوں میں دوڑتے ہوئے لہو کی آخری بوند تک بھی ساس‘ سسر‘ نند وغیرہ کو پلا دے۔ ’’بہو‘‘ کو بیٹی کہنے کا دھوکہ دینا چھوڑ دو۔ آج ہم ’’بہو‘‘ کا خیال رکھیں گے تو ہی ہماری بیٹی کسی گھر میں ’’بہو‘‘ بن کر آرام پا سکے گی۔ چند لوگ میرے سر پر ہاتھ رکھ دیں تو میں ایک بہترین ادارہ قائم کروں جس کا کام ’’ایدھی‘‘ ادارے کی طرح مشہور ہو جائے۔ بد قسمتی کہ آج کل حق دار کو حق نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں  سندھ میں گورنر راج لگایا جاسکتا ہے :ممتاز بھٹو

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker