شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بہاولپور:پولیس کی جانب سے ایک ماہ قبل گرفتارکئے گئے 2افراد لاپتہ، لواحقین کا آر پی او آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

بہاولپور:پولیس کی جانب سے ایک ماہ قبل گرفتارکئے گئے 2افراد لاپتہ، لواحقین کا آر پی او آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

بہاولپور﴿بیو رو چیف﴾ پولیس کی جانب سے ایک ماہ قبل گرفتارکئے گئے 2افراد لاپتہ، لواحقین کا آر پی او آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ، چیف جسٹس آف پاکستان، صدر،وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کامطالبہ۔ تفصیل کے مطابق حبیب گوٹھ کوٹ سبزل صادق آباد کے رہائشی بشیر احمد، شہزاد احمد، نصیراحمد، عبدالطیف، محمداختر، اکرم علی اور رشید احمد وغیرہ نے گزشتہ روز ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور کے دفتر کے سامنے پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حبیب احمد ترھیلی اور ایوب ترھیلی کو فوری بازیاب کرانے ، متعلقہ پولیس ملازمین کیخلاف کاروائی کرنے اور چیف جسٹس آف پاکستان ، صدر پاکستان ، وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب و دیگر حکام سے واقعہ کا فوری نوٹس لینے کے مطالبات درج تھے۔ اِس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لاپتہ ہونے والے افراد کے بھائی نصیراحمد،کزن شہزاد احمد، عبدالطیف و دیگر نے بتایا کہ حبیب احمد ترھیلی جو کہ شادی شدہ ہے اور اُس کا ایک سات سال کا بیٹا ہے جبکہ 25سالہ ایوب ترھیلی غیر شادی شدہ ہے ، 26جولائی 2012ئ کو وہ ٹریکٹر ٹرالی پر اپنے اینٹوں کے بھٹے سے گھر جارہے تھے کہ انہیں تھانہ کوٹ سبزل کی پولیس نے گرفتارکرلیا اور تھانے لے گئے ، اطلاع ملنے پر ہم تھانے گئے پولیس سے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کو ایک پرچے میں تفتیش کے لئے اٹھا کر لائے ہیں ۔ ہم نے اُن کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی مانگی تو انہوں نے دینے سے انکار کردیا۔ اگلی صبح دونوں بھائی وہاں سے غائب ہوگئے اور بار بار پوچھنے کے بعد پولیس ان کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی اور نہ ہی اب تک اُن کے خلاف درج کوئی ایف آئی آر مل سکی ہے۔ متاثرین نے بتایا کہ ایک ماہ سے لاپتہ دونوں افراد کی بوڑھی بیمار والدہ غم کے مارے بار بار بے ہوش ہوجاتی ہے اور پاگل ہوچکی ہے ،جبکہ بوڑھا باپ بھی روز تھانے اور عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہے تاکہ اُس کے لاپتہ بیٹوں کا پتہ چل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نہ تو اُن کے خلاف در ج مقدمے کی تفصیل بتاتی ہے اور نہ ہی لاپتہ دونوں افراد کے بارے میں کچھ تفصیل بتارہی ہے ۔ہوسکتاہے کہ کسی بااثر شخص کی مخالفت کی بنائ پر انہیں کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لئے پولیس کے ذریعے اٹھوالیا گیاہو اور بعد میں غائب کرادیا گیا۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ، صدر مملکت، وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ودیگر پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ ایک ماہ سے لاپتہ ہونے والے افراد کے واقعہ کا سختی سے نوٹس لیاجائے اور انہیں بازیاب کرایاجائے۔

یہ بھی پڑھیں  پاک فوج نےکوئی کارروائی نہیں کی افغان حکام کےالزام بےبنیاد ہیں،ترجمان دفترخارجہ