تازہ ترینصابرمغلکالم

بجلی بریک ڈاؤن اور حکومتی مؤقف میں تضاد

پاکستان میں حبس زدہ موسم میں ایک بار پھر بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے ۔جن۔نے سر اٹھالیا اسی دوران ملک بھر میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن نے ملک بھر کو اندھیروں نے اندھیروں نے ڈبو ڈالا،آج کل پاکستان میں ہر جگہ بریک ڈاؤن ہے شاید حکمرانوں کو بھی بریک ڈاؤن ہی اچھا لگتا ہے ورنہ کبھی تو وہ اس جانب بھی توجہ دیتے،تمام تر وعدوں اور دعوؤں کے باوجود سب الٹ ہو رہا ہے جیسے ان کے نزدیک دعوے اور وعدے صرف مذاق کی حد تک ہوتے ہیں ،مذاق تو اس قوم سے کب کا ہو رہا ہے اور ہمارے لیڈران بھی ہمیشہ مذاق رات میں ہی ڈوبے نظر آتے ہیں،ڈوبنا اور ڈوبونا انہیں بہت مرغوب ہے مگر خود یہ دولت میں ڈوبتے ہیں اور عوام کو پانی میں ،لوڈ شیڈنگ ،مہنگائی اور بے روزگاری میں ڈبوتے ہیں،بجلی کا حالیہ طویل بریک ڈاؤن آئی پی پیز کی بندش کا نتیجہ نکلا جب کہ وزارت بجلی و پانی جو خواجہ آصف کے ماتحت ہے کا فرمان تھاکہ آئی پی پیز سالانہ مرمت کی وجہ سے بند ہوئے اس لئے بجلی کا بریک ڈاؤن ہواکیسا عجیب مذاق ہے قوم کو یہ تو نہیں بتایا گیاکہ سب ہماری نااہلی سے ہوا ہے ہم پیسے خود رکھیں یا آئی پی پیز کو دیں؟بجلی بندش کا حکومتی ڈرامہ اس وقت فلاپ ہو گیا جب پتا چلا کہ 400ارب روپے سے زائد رقم کی عدم ادائیگی پر چار پرائیویٹ بجلی گھروں ۔حبکو،اینگرو،لبرٹی اورگڈو نے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر بجلی کی پیداوار بند کر دی اس کے علاوہ دو حینکوز ۔لاکھڑا اور بالمور۔کی بندش کی وجہ سے بھی 25سو میگا واٹ بجلی قومی گرڈ سے نکل گئی اور یوں کراچی سے پشاور اور کشمیر تک بتی غائب ہو گئی،ان اداروں کے مطابق متعدد بار یاد دہانیوں کے باجودحکومت نے کئی ماہ سے ادائیگیاں نہیں کیں اب ہم فرنس آئل نہیں خرید سکتے،بجلی کے بریک ڈاؤن پر اپنی نااہلی چھپانے کے لئے حکومتی ذیلی ادارے نیشنل پاور کنٹرول سسٹم نے فوری طور پر لوڈ مینجمنٹ اپنے کنٹرول میں کرتے ہوئے براہ راست نیشنل گرڈ سے بجلی کی بندش کا سلسلہ شروع کر دیا اور کہا کہ ۔یہ سب تکنیکی اور سالانہ مرمت کی وجہ سے ہو رہا ہے انہیں یہ کہتے ذرہ شرم نہ آئی کہ ایک دم ہی سب پیداواری اداروں میں تکنیکی خرابی اور سالانہ مرمت شروع ہو گئی؟اگر ایسا ہوا تو پالیسی ساز کہاں ہیں جن کی نا اہلی او رلا پرواہی سے ملک اندھیروں میں ڈوبا اور نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا؟اگر یہی وطیرہ رہاتو بجلی بحران کسی وقت بھی سنگین صورتحال اختیار کر سکتا ہے ،اس وقت بھی نیشنل پاور کنٹرول سسٹم اسلام آباد ملک بھر میں اپنی مرضی مطابق لوڈ شیڈنگ کر رہا ہے دیہات میں یہ دورانیہ 20گھنٹے تک جا پہنچا ہے ،محرم الحرام کا بھی حکومت کو کچھ خیال نہیں مجالس ہوتی ہیں جلوس نکلتے ہیں انتہائی سیکیورٹی کے لئے بجلی بنیادی ضرورت ہے مگر حکومت اس ذمہ داری کو ادا کرنے سے محروم لگ رہی ہے، تمام بڑے ادارے واپڈا کے نادہندگان ہیں صرف آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے ذمہ 100ارب روپے سے زائد رقم واجب الادا ہے،ڈیموں پر پانی کی کمی سے ہائیڈل پاور پروڈکشن میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،سابق اور موجودہ حکومت نے بجلی بحران سے نبٹنے کے لئے دو چھٹیوں کا نیا نسخہ کیمیا ڈھونڈ نکالا مگر اب تک پانچ بار بجلی کا بریک ڈاؤن اتوار کے روز ہی ہوا ہے حالانکہ اس روز دوسری چھٹی ہوتی ہے،ہماری سیاسی جماعتوں نے ہائیڈل بجلی کی بجائے آئی پی پیز پراجیکٹس کو ترجیح دی مسلم لیگ (ن) نے پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف ایسے منصوبوں پر سخت تنقید کی تھی مگر خود اسی روش پر قائم ہے،آج تک جن بھی پرائیویٹ کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے کا لائسنس دیا گیا ان سبھی کے ساتھ مہنگی ترین بجلی خریدنے کا معاہدہ طے کیا گیا ایک طرف عوام کو مہنگی بجلی اور دوسری جانب حکومت ایسے پیداواری اداروں کو اپنے پاس سے اب تک اربوں روپے ادا کر چکی ہے،اگر کوئی شک ہے تو ان مالکان کی دولت کو چیک کر لیا جائے کہ ان کے بجلی پیداواری پراجیکٹس چالو ہونے کے بعدان کی دولت میں کس قدر اضافہ ہوا،خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف نے طویل لوڈ شیڈنگ پر مینار پاکستان لاہور احتجاجی کیمپ لگائے رکھا اور ہاتھوں میں ۔ہمت فین۔پکڑے میڈیا پر خوب نمایاں ہوئے حکومت وقت پر لعن طعن کی انہوں نے اور ان کے برادر محترم میاں نواز شریف نے الیکشن سے قبل بلند و بانگ دعوے کئے تھے کہ عوام نے اگر ان پر اعتماد کیا تو وہ سب سے پہلے انرجی بحران کو ختم کرنے کے بعد عوام کی تقدیر تک بدل ڈالیں گے مگر ہوا کیا؟ تقدیر بدلنے پر اصل قادر توخدا کریم کی ذات با برکت ہے اللہ نے انسان کو بھی یہ وصف عطا فرمایا اس دنیا میں عوام کی تقدیر وہی بدل سکتے ہیں جن کے دلوں میں انسانی ۔قدر۔کی اہمیت ہو، یہاں انسان کی قدر کرنے نایاب اور انہیں ذلیل کرنے والوں کا سیلاب آیا ہوا ہے اب عوام کو ان پر اعتماد کئے چار سال ہونے کو ہیں مگر ابھی تک عوام کا پسینہ خشک نہیں ہو پا رہا۔ہزاروں ملیں بند ہو چکی ہیں،موجودہ حکومت میگا پراجیکٹس مکمل کرنے میں بہت شہرت کی حامل ہے مگر آج تک ایک بھی بجلی پیدا کرنے وال�آابی ذخیرہ کسی خوش کن امید تک نہیں پہنچ سکا ،گذشتہ دنوں سینٹ کی کمیٹی میں آبی ذاخائر سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں کالا باغ ڈیم کا بھی ذکر تھا وہاں گرما گرمی کا ماحول پیدا ہونے پر وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ کسی ایسے منصوبے کو سائیڈ پر کریں جس پر کسی کو تحفظات ہیں عابد شیر علی کو ریاست پاکستان اور اس میں بسنے والی عوام کے تحفظات کی کچھ فکر نہیں۔خدا جانے یہ کیسے کیسے لوگ ہم پر مسلط اور ہماری تقدیر کے مالک بن بیٹھے ہیں،گذشتہ روز پنجاب کے ضلع قصور میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب بجلی کی بد ترین بندش پر انجمن تاجران کا ایک وفد مقامی مسلم لیگی رکن قومی اسمبلی وسیم اختر شیخ کی قیادت میں ایس ای لیسکو واپڈا نذیر ارشد لودھی سے ملنے گیا اور وقت ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب بحث کے دوران ایس ای نذیر ارشد لودھی نے حکومتی ایم این اے کو جواب دیا۔اسلام آباد سے حکم ملتا ہے اور گریڈ سے بجلی بند کر دی جاتی ہے اس میں ہمارا کیا قصور اصل میں حکومت ہی نا اہل ہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button