تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

کیاعوام کو روزگار دیناکرپشن ہے؟

zafarچورہوں نہ ہی میں نے کوئی کرپشن کی ہے۔ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو ایک کروڑ روپے جرمانہ سمیت پارٹی کے عہدے اور بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دوں گابلکہ سیاست کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دوں گا۔الزام لگانا آسان ہوتاہے کوئی کسی کی بھی کسی بھی وقت پگڑی اچھال سکتا ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ الزام لگانے والے محض الزام ہی لگاتے ہیں ثبوت مانگنے کی باری آئے تو الزام لگانے والے ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں جب کہ جن پر الزام لگتا ہے وہ بدنام ہوجاتے ہیں ۔کتنا ہی اچھا ہو تااگر الزام لگانے والے ثابت کرنے کے بھی اہل ہوتے۔تحریک انصاف نے ہم پر کرپشن کے جو الزامات لگائے ہیں وہ سراسر بے بنیاد ہیں اور ہمارے خلاف الزامات کے ان کے پاس کوئی بھی ثبوت نہیں ورنہ وہ اب تک سامنے لاچکے ہوتے اور اگر اب بھی ان کے پاس ہمارے خلاف کرپشن کے کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائیں۔البتہ چیئرمین عمران خان تحریک انصاف کی قیادت اور ان کے صوبائی وزراء کی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے تحریری ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں جن میں کچھ ہم میڈیااور سامنے لاچکے ہیں مزید بھی لائیں گے۔ عمران خان نے الزام لگایا ہے تو انہیں ثبوت بھی سامنے لانے ہوں گے بصورت دیگرانہیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ ہم بھاگ رہے ہیں نہ ہی عمران خان اور ان کی جماعت کو بھاگنے دیں گے کھیل شروع انہوں نے کیا ہے اختتام ہم کریں گے۔عوام کے منتخب ممبر اسمبلی اور بحیثیت صوبائی وزیر عوام کو روزگا دیاہے،علاقے کے عوام کی تعلیمی حالت بہتر بنانے کی غرض سے تعلیمی اداروں کے قیام کی منظوری کرائی ہے۔ بند صنعت کو چالو کرانے اور معیشت کی بہتری کے لئے دوڑدھوپ کی ہے،ضلع دیر لوئر کی ترقی و خوشحالی کے لئے سانام ڈیم منصوبے کو حتمی شکل دیا ہے جس پر عنقریب کام کا آغاز ہو جائے گااور یہ منصوبہ علاقے کی زرعی ترقی میں کلیدی کردار اداکرے گا۔گیس اور بجلی کی فراہمی،سڑکوں اورتعلیمی وطبی اداروں کے قیام سمیت عوام کو زندگی کی تمام سہولتیں مہیاہوں یہ میری سیاسی جدوجہد کا حصہ رہاہے۔ میں ہمیشہ علاقے کے غریب اور محروم طبقے کے حقوق کی جنگ لڑتا آیاہوں اور یہ جنگ لڑتارہوں گا جوکہ میری سیاست کا مرکزومحورہے اور اگرکرپشن اسی کا نام ہے تو ہاں میں نے کرپشن کی ہے،عوام کو روزگار دینا اگر گناہ کی بات ہے، اگریہ سب کچھ اختیارات کے غیرقانونی استعمال اور کرپشن کے زمرے میں آتاہے تو میں اعتراف کرتاہوں کہ ہاں میں میں نے یہ گناہ کیا ہے مگر یہ گناہ تو میں ہربار کروں گا اور باربار کروں گاچاہے اس کے لئے مجھے کسی بھی چیز کی قربانی دیناپڑے اورکوئی بھی قیمت چکھانی پڑے۔یہ کہنا تھا22 نومبرکوقومی وطن پارٹی کہ صوبائی جنرل سیکرٹری،منجھے ہوئے سیاستدان اور حال ہی میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سفارش پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خٹک کے ہاتھوں برطرف ہونے والے صوبائی وزیر محنت وافرادی قوت بخت بیدار خان کاجو وزارت سے برطرفی اور تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کے بعد پہلی دفعہ اپنے انتخابی حلقے میں چکدرہ کے مقام پر پارٹی ورکرز اور ووٹرز کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ قطع نظر اس کے کہ کرپشن کے الزامات کے تحت بخت بیدار خان اور قومی وطن پارٹی کے دوسرے برطرف وزیر ابرارحسین واقعی کرپشن میں ملوث رہے ہیں جس کا پی ٹی آئی دعویٰ کررہی ہے یا پی ٹی آئی نے بے بنیاد الزامات لگاکر کسی تیسری قوت کے اشاروں اور شرارت پر جس کی بازگشت قومی وطن پارٹی کی جانب سے سنائی دی جارہی ہے اور اشارہ جماعت اسلامی کی جانب ہے جو تاحال صوبائی حکومت میں تحریک انصاف کی اہم اتحادی جماعت ہے قومی وطن پارٹی کے وزراء پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں جن کا مقصد قومی وطن پارٹی کو حکومتی دائرے سے باہر کرنے کے سواء کچھ نہیں تھا۔بہرحال اس بات سے سب اتفاق کرتے ہیں کہ بخت بیدار خان نے مالی بدعنوانی کی ہے نہ ہی سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایاہے اور نہ ہی تحریک انصاف نے ان پر مالی بدعنوانی کا کوئی الزام عائد کیا ہے ان پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے غیرقانونی بھرتیاں کی ہیں اس الزام کو دیکھتے ہوئے یہ تو کہاجاسکتاہے کہ کسی حد تک مستحق افراد کی جگہ غیر مستحق لوگ بھرتی کئے گئے ہوں جو کہ پسندوناپسند،اقرباء پروری اور میرٹ کونظرانداز کرنے کے زمرے میں آتاہے اور آئین و قانون اس کی اجازت نہیں دیتاتاہم ہمارے روائتی سیاسی کلچر میں ایساکرنے کی گنجائش بہرحال موجود ہے کیونکہ سیاسی جماعت اور منتخب ممبران اسمبلی پر عوام علاقہ بالخصوص اپنے ووٹرزکا شدیددباؤبھی ہوتاہے اوردباؤمیں اٹھائے جانے والے اقدامات میں انیس بیس کا فرق تو ہوتاہے اور اس کا دوسراپہلودیکھاجائے توکیا یہ بات اہمیت کی حامل نہیں کہ طریقہ کارچاہے جو بھی ہو لوگوں کو روزگار تو ملاہے۔ ممبران اسمبلی تو بخت بیدارسے پہلے بھی منتخب ہوئے ہیں لیکن عوام کو روزگار کی فراہمی سے قاصر رہے ہیں ایسے میں عوام کو روزگار فراہم کرنا اور ان کا احساس محرومیت ختم کرنا کیاکوئی معنی نہیں رکھتا؟ جبکہ ابھی تو ان کو حکومت میں بحیثیت وزیر چھ ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزراتھا کہ سات سو کے لگ بھگ لوگوں کو روزگار ملااور بقول بخت بیدارخان کے پانچ سالہ پارلیمانی مدت میں دس ہزار افراد کو روزگار فراہم کرنا ان کا ہدف تھا۔سواگر الزام کرپشن کا ہے جو کہ بخت بیدار اورابرارحسین کی وزارتوں سے برطرفی کا باعث

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button