تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

بلدیاتی الیکشن، احتجاج اور مستقبل

zafarکیاحالات کاپلٹاکھانامکافات عمل ہے کہ پچھلے سال عمران خان کی قیادت میں ان کی جماعت انتخابی دھاندلی کوبنیادبناکر شہراقتداراسلام آباد کے ڈی چوک میں 126دن تک دھرنادے کروفاقی حکومت سے مستعفی ہونے کامطالبہ کررہی تھی مگرآج سراپااحتجاج سیاسی مخالف جماعتیں ٹھیک وہی مطالبہ عمران خان اور ان کی صوبائی حکومت سے کرتی سنائی اوردکھائی دے رہی ہیں۔خیبرپختونخوامیں30مئی کوہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج آتے ہی پیپلزپارٹی،عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علمائے اسلام ،متحدہ قومی موومنٹ اور کئی دیگر جماعتوں نے انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کرکے صوبائی حکومت اور حکمراں جماعت تحریک انصاف کے کردارپر سوالیہ نشان لگایاتھا۔انتخابات کے روزالیکٹرانک میڈیاپر دکھائے جانے والے بدانتظامی کے واقعات کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹس،صوبائی وزیرکے خلاف کارسرکارمیں مداخلت کے الزام میں بننے والے مقدمے ، جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد جیسے اتحادی جماعتوں سمیت خودپی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے الزام نے اپوزیشن جماعتوں کے الزامات اور مطالبات کومزید تقویت بخشی جس کے پیش نظرپی ٹی آئی اور خیبرپختونخواکی حکومت شدید سیاسی دباؤ کی زدمیں رہی اورشائداسی دباؤکانتیجہ تھاکہ عمران خان نے میڈیاپرآکرفوج کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کرانے کی پیشکش کردی۔پہلے توسیاسی جماعتیں انتخابی دھاندلی کاشورمچارہی تھیں مگرعمران خان کی پیشکش کے بعدصوبائی حکومت کی برطرفی اور نگران حکومت کی نگرانی میں ری الیکشن کا ٹھیک اسی طرح مطالبہ کرنے لگیں جس طرح عمران خان دوران دھرناوزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کرتے دکھائی اور سنائی دیتے تھے۔احتجاج کرتی جماعتوں کی کوششیں بارآورثابت ہوں گی کہ نہیں تاہم یہ پرویزخٹک کی حکومت گرانے پر کیوں اترآئیں جائزہ لیاجائے توجمعیت علمائے اسلام اور کئی دیگر سیاسی قوتیں پچھلے عام انتخابات کے بعد بھی پی ٹی آئی کوحصول اقتدارسے دوررکھنے کی سرتوڑکوششیں میں لگی ہوئی تھیں مگرچونکہ پی ٹی آئی انتخابی مینڈیٹ کی حامل جماعت تھی اس لئے کوئی جوازنہیں بن رہاتھایہی وجہ ہے کہ بارہاکوششوں کے باوجودجے یوآئی ف اورحکومت سازی کی خواہش رکھتی دیگر جماعتیں مسلم لیگ نوازکوخیبر پختونخوا میں کسی بھی قسم کی مہم جوئی کرنے پر قائل نہ کرسکیں مگر اب کی بارشائد ان کوجوازمل گیاہے لہٰذا نظرآتی صورتحال یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کوبنیادبناکرپی ٹی آئی مخالف جماعتوں نے بھرپوراحتجاج کے ذریعے صوبائی حکومت گرانے کاپلان ترتیب دے دیاہے ۔ اس ضمن میں موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ پشاور میں میاں افتخارحسین کی صدارت میں ہونے والے سہ فریقی اتحاد کے اجلاس جس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے رحیم داد خان اور نجم الدین خان،جے یوآئی ف کی جانب سے مولاناشجاع الملک اور جلیل جان جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے عاقل شاہ اور خوشدل خان شریک تھے میں انتخابی دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے خلاف دس جون سے صوبہ بھرمیں احتجاجی ریلیوں اور شٹرڈاؤن ہڑتال کاکیاگیا ہے اور واضح کیاگیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت رضا کارانہ طورپر مستعفی نہ ہوئی توپرتشدد مظاہروں کے ذریعے حکومتکوگرایاجائے گا۔ اجلاس میں میاں افتخارکاکہناتھاکہ پورے صوبے میں دھاندلی ہوئی جہاں ہم جیتے وہاں بھی دھاندلی ہوئی جبکہ الیکشن کمیشن کوبھی اپاہج بنایاگیا۔انہوں نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویزخٹک پر آمرانہ سوچ کاالزام لگاتے ہوئے تنقید کی ہے اور کہاہے کہ انہیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔دوسری جانب اپنی رہائش گاہ پردیگرپارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ اپوزیشن کوکوئی تحریک چلانے کی ضرورت نہیں،ہم پہلے ہی تیارہیں،لگتاہے اپوزیشن ڈرگئی ہے ہماری پیشکش قبول نہیں کررہی ہے۔ان کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ بلدیاتی الیکشن مشکل تھاجس میں 41ہزارامیدوار منتخب ہوئے،پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت شاباش کی مستحق ہے جس نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے۔انہوں نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے لئے بھی یہ مشکل الیکشن تھااگرپہلے سے تیاری ہوجاتی توبہترہوتاکوئی شک نہیں کہ بدنظمی ہوئی ہے اور اگر اپوزیشن دوبارہ الیکشن چاہتی ہے توہمیں لکھ کردیں ہم خیبرپختونخوامیں دوبارہ الیکشن کرانے کے لئے تیارہیں۔اگرچہ اپوزیشن کے مطالبے پر عمران خان کی جانب سے دوبارہ الیکشن کی پیشکش خوش آئندہے مگر سوال یہ اٹھتاہے کہ الیکشن کے لئے امن وامان کی صورتحال برقراررکھناالیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی یاصوبائی حکومت کی اس کاتعین کیسے ہوگااور کون کرے گا،اٹھتاسوال یہ بھی ہے کہ الیکشن میں بدنظمی کے اعتراف کے بعد عمران خان خیبرپختونخواحکومت کوشاباش دینے کا مستحق کیسے قراردے سکتے ہیں جبکہ مبنی برتعجب بات یہ بھی ہے کہ جب اپوزیشن جماعتیں سرعام مبینہ انتخابی دھاندلی کاوایلاکرہی ہیں تو دوبارہ الیکشن کے لئے ان سے تحریرلینے کاکیاجوازبنتاہے۔ بہرحال سہ فریقی اتحادپرمبنی اپوزیشن نے مبینہ انتخابی دھاندلی کو بنیادپرصوبائی حکومت گرانے کے لئے بھرپواحتجاج کااعلان کردیاہے اور میاں افتخارحسین کی صورت میں اس کی قیادت وہی شخص کررہے ہیں جنہیں الیکشن کے روز ایک سیاسی کارکن کے قتل کے الزام میں درج مقدمہ میں گرفتارکیاگیاتھااوربعد میں انہیں دودن تک پابند سلاسل رہنے کے بعد مقتول کے والد کے روبروئے عدالت بیان دینے کی روشنی میں ضمانت پررہائی ملی تھی اگر تقابلی جائزہ لیاجائے تو پی ٹی آئی واحد جماعت تھی جوشہراقتدار اسلام آباد میں انتخابی دھاندلی کی بنیاد پروزیراعظم نوازشریف سے مستعفی ہونے کامطالبہ کررہی تھی مگر انتخابی دھاندلی کوبنیادبناکر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کامطالبہ اپوزیشن کی تین بڑی جماعتیں مل کرکررہی ہیں جن کادعویٰ ہے کہ چند دنوں میں دیگر جماعتیں بھی ان کاساتھ دیں گی۔اگرچہ پی ٹی آئی کوتووفاقی حکومت کے خلاف دھرنادینے سے خاطرخواہ نتائج نہیں ملے تھے سوائے تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے جس کااعلان تووزیراعظم نوازشریف دھرنے سے قبل ہی کرچکے تھے مگر کیا خیبرپختونخوا میں عمران خان ،ان کی جماعت اورصوبائی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے پریشر کوبرداشت کرپائیں گے کہ نہیں اس حوالے حتمی طورپرکچھ کہانہیں جاسکتا تاہم یہ ان کے اعصاب کاکڑاامتحان ہوگا ۔

یہ بھی پڑھیں  حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کی طالبان شوریٰ سے ملاقات کاپہلا مرحلہ ختم

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker