Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / حیرت انگیز بلوچستان

حیرت انگیز بلوچستان

زمانہ قدیم کا واقع ہے کہ ایک بادشاہ اپنے ملک پر حکمرانی کرتا تھااور اسے اپنے ملک سے کسی قسم کا لگاؤ یا دلچسپی نہیں تھی بادشاہ نہ تو اپنے ملک کے انتظام انصرام پر توجہ دیتا اور نہ ہی وہ اپنے ملک کی دفا عی فوج کی خبر گیری کرتا بلکہ اس کی توجہ تو صرف اپنے خزانے بھرنے پر مرکوز رہتی جس وجہ سے ملک کی رعایا کا بُرا حال اور سپاہی بھی خستہ حال تھے اور جب ملک کا ایسا نظام چل رہا ہو تو ظاہر ہے ایسی باتیں دشمن سے کہاں چھپی رہ سکتی ہیں ایسے میں بادشاہ کے ایک دشمن حریف نے ان حالات کافائدہ اُٹھاتے ہوئے سب سے پہلے وہاں کی بدحال عوام اور فوج کے کئی آدمیوں کو پیسوں کا لالچ دے کر خرید لیا اور ظاہر ہے کہ جب انسان کی حالت زار خستہ ہو تو اسے خریدنا آسان ہوجاتا ہے شاید اسی لیے ہی وہاں کے لوگوں نے لبیک کہا جب دشمن کو یقین ہو گیا کہ اب اس کی ہر سازش کامیاب ہو گی ہے تو اس نے ملک پر حملہ کر دیا اور ملک میں پہلے ہی سے اس کی حمایت ہو نے کی و جہ سے یہ جنگ طول نہ پکڑ سکی جس کی وجہ سے دشمن نے یہ آسان جنگ جیت کر ملک پر قبضہ کر لیا۔حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے غداری اور بے وفائی کی تھی ان میں سے ایک شخص میرا واقف تھا وہ مجھے ملا تو میں نے ملامت کی کہ اے شخص ،یہ بات تو شرافت اور مردانگی کے خلاف ہے کہ تو اس بادشاہ کو چھوڑ کر جس کا نمک کھایا ہے اُس کے دشمن سے جا ملا ہے تو اس شخص نے جواب دیا بے شک یہ فعل پسندیدہ نہیں لیکن انصاف شرط ہے میں نے اسی حالت میں بادشاہ کا ساتھ چھوڑا کہ میرا گھوڑا بھوکا اور زین کا نمدہ گرد رکھا ہوا تھا تم ہی بتاؤ ایسی حالت میں ،میں کیا کرتا۔ جی ہاں اس شخص نے سعدیؒ سے صیح بات کہی کہ جب حکمران عوام کے مسائل سے توجہ ہٹا لیتے ہیں تو پھر تاریخ میں اس طرح کے واقعات ہی رقم ہوتے ہیں ایسے ہی حالات آجکل ہمارے پیارے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سندھ کے چل رہے ہیںآج سے تقریبا دس سال کی بات ہے کہ مجھے صوبہ بلوچستان میں سیر وتفریح کے لیے جانے کا اتفاق ہوا دوران سفر جب ہم صوبہ پنجاب کی ہریالی اور رونق سے آگے صوبہ بلوچستان میں داخل ہوئے تو وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھاایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ہم زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر آگئے ہوں دور دور تک آبادی کا نام و نشان ہی نہیں تھاصرف پہاڑ ہی پہاڑ تھے اوردوران سفرجو سب سے تکلیف دہ بات تھی وہ یہ کہ صوبہ پنجاب کی کارپٹ جیسی سڑکوں سے آگے بلوچستان میں سڑکوں کی حالت زار اتنی خراب تھی کہ موٹرسایئکل بھی 20 کی سپیڈ سے زیادہ نہیں چل سکتی تھی جگہ جگہ پر گہرے کھڈے اور ہر طرف سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی بارشوں کا پانی ان کے اندر کھڑا تھا اور یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ سڑک پر ان کھڈوں کی گہرائی کتنی ہے ر استے میں ،رُکنی،کنگنی، لورالائی اور دیگر کئی چھوٹے شہر آتے گئے اور اس وقت میں میرے اندازے کے مطابق پورے بلوچستان میں 95 فیصد مکان کچے تھے اور اسلحہ اتنا عام تھا کہ بھیڑ بکریاں چرانے والے چھوٹے بچوں نے رائفل اپنے کندوں پر لٹکا رکھی تھیں اس صوبہ میں جو پنجابی کے لیے پریشان کن بات تھی وہ کہ یہاں کے لوگ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور پنجابی سے جان بوجھ کر لڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے بلوچستان میں ڈاکوں راج عام تھا جو کہ دن دیہاڑے سڑکو ں پر غنڈہ گردی کرتے اور آنے جانے والی گاڑیوں میں اسلحہ کی نوک پر لوٹ مار کرتے،بلوچستان کا مین شہر کوئٹہ ایک چھوٹا سا شہر تھا مگر اس کے باوجود اس میں ترقی کا کوئی نام ونشان نہیں تھاوہاں کی زیادہ تر دوکانیں ،آٹو ورکشاپ ودیگر مٹی سے تعمیر کردہ تھیں اور بیرون ممالک کا سامان یہانپر بلیک میں عام فروخت ہو رہا تھا،آخرکار ہمارا واپسی کا سفر ہوا اور ہم صوبہ مسائلستان سے پنجاب کی رونقوں میں واپس آگئے قصہ مختصر کہ میرے اس سفر کو جب دس سال کا عرصہ بیت گیا تومجھے دوبارہ پھر بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا ہم نے سفرشروع کیا تو میرے ذہین میں یہی چل رہا تھا کہ وہاں سب کچھ تبدیل ہو چکا ہو گا خراب سڑکیں ، کچے مکان ،ڈاکو راج اور لوگوں کے مسائل میں بہتری آئی ہوگی۔ ہم صبح 10 بجے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے روانہ ہوئے اور رات کے 12 بجے فورٹ منرو کے علاقہ میں پہنچے جو کہ صوبہ پنجاب کا آخری شہر ہے اور یہ وہی علاقہ ہے جہاں لڑکیوں کو چیک پوسٹ پر ہراساں کرکے ان سے زیادتی کی گئی اور جب یہ بات وزیراعلیٰ پنجاب تک پہنچی تو انہوں نے فوری طور پر ان اہلکاروں کو معطل کر کے تفتیش کا حکم دیااور ہم اس بات پر فخر کر رہے تھے کہ ہمارے صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنے ایریے کا اتنا احساس ہے کہ اس کی نظر پنجاب کی آخری سرحد پر بھی ہم جب چیک پوسٹ کراس کر کے صوبہ بلوچستان میں داخل ہوئے توکچھ ہی کلومیڑ آگے جا کر ہم نے حیرت انگیز منظر دیکھاکہ دس سال پرانی سڑکوں پر صرف20 فیصد کام ہوا تھااور باقی سب کچھ ویسے کا ویسا ہی تھااور جب مزید آگے کی طرف بڑھے تو سڑکوں کی حالت زار اور بھی زیادہ خراب تھی جہاں پر بس ،گدھا گاڑی کی سپیڈ سے زیادہ نہیں چل سکتی تھی، حلانکہ بلوچستان میں اسی راستے سے ٹرکوں کے ذریعے پاکستان بھر میں، سیب ،انگور ،خربانی، آڑو،اور دیگر سازوسامان کی سپلائی کی جاتی ہے مگر پھر بھی اس سڑک پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جب پہاڑی سلسلہ شروع ہوا تھاتو ایک دلچسپ معاملہ پیش آیا وہ یہ کہ رات ہونیکی وجہ سے ہوا بہت ٹھنڈی تھی مگر انہی پہاڑوں میں گرم ہوا کا سلسلہ
شروع ہو جاتاجو کافی دور تک چلتااور پھر ٹھنڈی ہوا شروع ہو جاتی اس بارے جب وہاں کے مقامی شخص سے پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ جہاں پر گرم ہوا کا سلسلہ ہے ان پہاڑوں میں کوئلہ اور بہت سی دوسری قیمتی معدنیات کے ذ خائر موجود ہیں افسوس کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ملک بیرونی قرضوں پر پل رہا ہے فجر کی نماز ہم نے راستے میں 1970ء کی قائم شدہ حیرت انگیزیونیورسٹی میں ادا کی یہ حیرت انگیز اس لیے تھی کہ درجہ تو اسے یونیورسٹی کا مل گیا مگر اس کے صرف دو کچے کمرے تھے اور ان دو کچے کمروں سمیت کل رقبہ صرف 6سے7 مرلہ کا تھا یہاں کے ہائی سکول کا رقبہ بھی اتنا ہی تھا لیکن وہ پکی اینٹوں سے تعمیر ہوئے تھے مگران میں بھی کوئی سہولت نہ تھی اس سے آپ بلوچستان کی ترقی کا خوب اندازہ لگا سکتے ہیں اور اس بات کا بھی کہ یہاں کے وڈیرے نہیں چاہتے کہ کوئی غریب پڑھ لکھ کر ان کے مدمقابل آئے جب کہ دوسری طرف پنجاب میں کوئی بھی حکومت آئی اس نے تعلیم اور صحت کے لیے اچھے اقدام کیے جس کا ثبوت پنجاب کی ترقی اور بلوچستان کی تنزلی سے معلوم ہورہا تھا بلوچستان کے بڑے شہروں کے مضافات میں بجلی کا کوئی میٹر نہیں دیکھا ،اور اگر ڈھونڈنے سے ملا بھی تو وہ سرکاری املاک کا تھا سب ہی بجلی فری استعمال کررہے ہیں اور لوڈشیڈنگ اس صوبے میں بہت ہی کم ہوتی ہے جبکہ ان کا بل پنجاب والوں سے وصول کیا جا رہا ہے یہاں کھمبوں پر جو تاریں کرنٹ دی رہی ہیں وہ بہت ہی باریک ہیں جس وجہ سے ان میں وولٹ بھی کم آتے ہیں اور اس سے گھروں میں پنکھا ،بلب ہی چلایا جا سکتا ہے کارخانے یا فیکٹری کی مشینری نہیں چل سکتی،اگر دیکھا جائے تو یہ بھی سازش ہے کہ کوئی بھی غریب آدمی اپنا کاروبا شروع نہ کر لے جبکہ پنجاب میں حکومت خود تاجروں کو اپنا کام کرنے کے لیے قرضے فراہم کرتی ہے تاکہ صوبے میں خوشحالی آسکے ۔بلوچستان کے مشہور شہر کوئٹہ کی دس سال بعد کی صورت حال یہ تھی اس میں صرف 40 فیصد ہی ترقیاتی کام نظر آئے شہر میں زیادہ تر کاروبار پٹھانوں کا ہے بلوچستان میں لوگ پنجابیوں کے بہت خلاف ہیں جس کا چشم دید گواہ میں خود ہوں کوئٹہ سے پنجاب آنے والی جعفر ایکسپریکس ٹرین جب کوئٹہ سے چلی تو شہر سے نکلتے ہی اس پر شرپسند عناصر نے پتھر برسائے اس لیے کہ ٹرین پنجاب جا رہی تھی اس حادثہ میں ٹرین کے ڈبوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور بہت سے مسافر زخمی ہوگئے اور ایسا ہر بار کروایا جا رہا ہے اصل حقیقت کو ہماری مذہبی جماعتوں اوردیگر اہم ذرائعوں نے حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں دہشت گردوں کو دشمن ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے جو کہ بادشاہ کے حریف کی طرح سندھ بلوچستان کے لوگوں کو منہ مانگے داموں خرید کر ان سے ایسے شرپسند کام لے رہے ہیں جس سے ہماری عوام کو ایک دوسرے کے خلاف کر کے ملک پاکستان کو توڑنے کا نہ پورا ہونے والا خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ ہماری حکومت کا حال اس بادشاہ کے جیسا ہے جس کو صرف اپنی دولت کا ہی خیال تھا رعایا کا نہیں اور حکومت کی توجہ عوام پر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے اندر بھی میر جعفر جیسے لوگ موجود ہیں اور ان کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ ،سند ھی ،بلوچی، پنجابی ،سرائیکی کو آپس میں لڑوا کر دشمن کا مقصد پورا کرنے میں لگے ہیں اور اس کا حل ہم سب ایک پاکستانی بن کرہی نکال سکتے ہیں اگر یونہی آپس میں تقسیم رہے تو دشمن فائدہ اٗٹھاتا رہے گا

یہ بھی پڑھیں  چیئرمین پی ٹی اے کا تمام موبائل کمپنیوں کو اپنے نائٹ پیکجز ختم کرنے کا حکم