تازہ ترینکالم

بلو چستا ن کامنظرنامہ

madehaپا کستا ن ایک نظر یا تی مملکت ہے۔پا کستا ن کا اسلامی معا شرہ ہے جہاں مسا وات ،حقوق کی فر اہمی،عدل و انصاف،رحمدلی ہمدردی پر زور دیا گیا ہے۔اگر بر تری ہے تو صرف تقوی کی بنیا د پر ہے۔ان ہی نظریات کی بنیا د پر پا کستا ن معر ض وجو د میںآیا،مگر آج یہ سب نظر نہیں آتا۔سا ری کا ئنا ت کا ما لک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے،اور سارا اقتدار اللہ تعالیٰ کو حا صل ہے،اقتدار انسانوں کے پا س اللہ تعالیٰ کی اما نت ہے جو کہ عوام کے منتخب کر دہ نما ئند ے استعمال کریں گے۔با ت تو اس وقت بنے گی جب عوام کے منتخب کر دہ نما ئندے عوام کی آواز سنیں گے۔بلو چستا ن پا کستا ن کا وسیع و عر یض،خشک ترین صو بہ ہے۔ مو سم سر ما میں اسکی آب و ہوا سرد ترین جبکہ مو سم گر ما میں گر م تر ین ہو تی ہے۔مو سم سر ما کی بر ف با ری اس علا قے میں پا نی کے ذخا ئر کی دستیا بی کا اہم ذریعہ ہے۔یہاں کے رہنے والوں کی آمدنی کازیا دہ تر دارومداربھیڑ،بکریا ں اور مو یشی پا لنے پر ہے۔یہ صوبہ معد نی وسائل کی دولت سے ما لا ما ل ہے۔لو گو ں کا ذریعہ معا شی مقا می وسا ئل کی دستیا بی پر ہے۔صو بہ بلو چستا ن کی زمیں زرخیز نہیں ہے۔زراعت کا شعبہ زیا دہ تر تر قی نہیں کر سکا۔ صوبہ بلو چستا ن آج بھی پسما ند گی کا شکا ر ہے۔افسو س کی با ت یہ ہے کہ آج بھی کچھ علا قے ایسے ہیں جہاں بنیا دی سہو لتوں کی فر اہمی نہیں ہے۔روزگا ر،تعلیم،صحت،اور صاف پا نی جیسی ضر ورتیں آٹے میں نمک کے بر ابر ہیں۔بلو چستا ن کی عوام آج بھی بنیا دی حقو ق نہ ملنے پر شدید پر یشا نی سے دو چا ر ہیں۔صو با ئی حکو مت کا ایک سال مکمل ہو نے کے بعد بھی بلو چستان کے حا لا ت کی بہتری اور قیا م امن کے لئے کو ئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔عوام میں حکو مت کی کار کر دگی کے حو الے سے بے چینی،غم و غصہ،میں روز بر وز اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔اگر چہ حکو مت نے فتڈر کے ضیا ع کو روکنے ،کر پشن کے خا تمے،اور قو اعد و ضو ابط کے بلند و با نگ وعدے کئے۔مگر سب دھرے کے دھرے رہ گئے۔کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار پڑھے لکھے نو جو انو ں کا ہو تا ہے۔اور چراغ اس وقت روشن ہو تا ہے جب اس کو جلا یا جا ئے۔اور یہی مثال علم کی ہے۔بلو چستان کے ضلع پنجگور میں نئے مصلح گروہ کی جا نب سے تعلیمی اداروں پر بندش عائد کر دی گئی ہے۔بچوں کی تعلیم و تر بیت پر پا بند ی لگا دی گئی ہے۔اس سلسلے میں بچے پر یشا نی و اضطراب کا شکا ر ہیں ۔کہ وہ کیسے اپنے تعلیمی کیر ئیر کو آگے بڑھا یں گے۔بلو چستا ن کی حکو مت کو بچوں کی تعلیمی کا وشوں کو جا ری رکھنے کے لئے جلد ازجلد بہتر فیصلے کر نا ہوں گے۔تاکہ بچوں کا تد ریسی عمل متا ثر نہ ہو۔چند سال پہلے اساتذہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشا نہ بنا یا گیا جس کے نتیجے میں اساتذہ سمیت کئی لو گ ہجر ت کر گئے۔جس سے تعلیمی صو رتحا ل بہت بری طر ح متا ثر ہوئی۔کچھ پنجا بی اسا تذہ ما رے گئے اور کچھ کو چ کر گئے۔اور مقا می بلو چی افراد کو صوبے میں ان کے حق کے طور پر ملازمت مل گئی۔مگر المیہ یہ ہے کہ اسا تذہ تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیا ر کو بر قرار نہ رکھ سکے۔طلباء امتحانا ت میں کتا بیں کھو ل کرپیپر دے آتے ہیں۔نقل کے نا سورسے قابل طلباء پیچھے رہ جا تے ہیں۔جس سے ملک و قوم پر برا اثر پڑتا ہے۔
اس وقت بلو چستا ن کے سر کا ری اسکو لوں میں اسا تذہ کی تعداد62ہزارجبکہ تنخواہیں67ہزار اسا تذہ وصول کر رہے ہیں۔بھا ری معا وضے لینے کے با وجو د بھی اساتذہ نقل جیسے نا سور کو ختم کرنے میں نا کا م رہے ہیں۔صوبائی مشیر تعلیم سردار رضا محمد پڑیج نے اس بات کی یقین دہائی کرائی ہے کہ نقل کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے کیمرے نصب کئے جا رہے ہیں۔نقل کے خاتمے میں اساتذہ،سیاسی جما عتوں،سول سو سا ئٹی،اور والدین کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔این ٹی ایس کے تحت بھر تیا ں کی جائیں گی۔تاکہ میرٹ کے مطابق پڑھے لکھے نو جو انوں کو ملا زمتیں مل سکیں۔وزیر اعلی ڈاکٹر عبد الما لک کا اچھا قدم تعلیم کے لئے بجٹ بڑھا کر 26فیصد کر دیا 45لا کھ کتا بوں کی تر سیل ،اور گو ر نمنٹ اسکو لو ں میں تعلیم کو مفت قرار دیا۔اور نعر ہ بچوں کو کلا شنکو ف نہیں قلم دیں گے۔لیکن کچھ اند رونی علا قوں میں 60سے70فیصد تک اسکو ل بند ہیں۔وہاں مو یشی بند ھے ہو ئے ہیں۔جس سے بچے اوران کے والدین پر یشا نی کا شکا ر ہیں۔کچھ پسما ند ہ علا قے ایسے ہیں جہاں پانی،صحت،خوراک،جیسے بنیا دی حقو ق کا مسئلہ ہے۔صاف ستھرا پا نی نہ ملنے پر لوگ مختلف بیما ریوں میں مبتلا ہو جا تے ہیں۔اور لقمہ اجل بن جا تے ہیں۔طبی سہو لتوں کا فقدان،عوام کر ب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔وزیر صحت میر ر حمت بلوچ کو صحت کے مسائل پر تو جہ دینی ہو گی۔اور ان کے حل کے لئے اقدامات کر نا ہوں گے۔عوام کے درد کی دوا کر نا ہو گی،بڑھتے ہو ئے مر ض کو ختم کرنا ہو گا۔اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب حقو ق العبا د کے با رے میں پہلے غو ر وفکر کر کے ان پسما ند ہ علا قوں میں ڈاکٹرز،دوا بر وقت پہنچا ئی جا ئے۔ قیا مت کے روز اللہ تعالیٰ حقوق العبا د کا سوال کریں گے،حقوق اللہ تو معاف ہو جائیں گے مگر حقو ق العبا د نہیں۔دنیا و آخر ت کا سوال؟اس سوال کا جواب ممکن ہے اگر بر وقت پسما ندہ علاقوں کی طر ف تو جہ دی جا ئے۔تودعا ئیں بھی عر ش تک پہنچ جا ئیں گی۔بلو چستا ن میں ر یکا رڈ تو ڑ سردی،جس کی وجہ سے زلز لہ متا ثرین کی مشکلا ت بڑھ گئی،کھلے آسمان تلے بیٹھے خیموں میں متا ثرین کی مدد کرنے کو ئی نہ پہنچا،جس سے ہلا کتوں کا خد شہ،حکومت کو بلو چی عوام کی ممکنہ مدد کرنی ہو گی۔پسما ندہ علاقوں پر تو جہ دی جا ئے،ان کے لئے زیا دہ سے زیا دہ فنڈز مختص کئے جا ئیں۔بلو چستا ن کو تر قی کی راہ پر گا مزن کرنے کے لئے صوبے کے وسا ئل بلو چی عوام پر صر ف کئے جا ئیں۔حکو مت کو روزگا ر ،تعلیم،صحت،اور صاف پا نی بلو چستان کے پسما ندہ علاقوں میں فراہم کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔تاکہ عوام کی زندگیوں میں نما یا ں تبدیلی آسکے۔بلو چستا ن کے وزیر اعلی اور گو رنر کے عہدوں پر معروف بلو چی سردار فا ئز ہیں۔انھیں چا ہئے کہ بلو چستا ن کی بہتری کیلئے اقدامات کر یں۔ان کے مسا ئل کو فو ری طو ر پر حل کر یں۔تاکہ ملک و قوم میں خو شحالی آئے۔

یہ بھی پڑھیں  نیپال میں مسافر طیارہ گر کر تباہ‘ غیرملکیوں اور عملے سمیت 23 افراد ہلاک

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker