ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

بلو چستا ن تو جہ چا ہتا ہے

جس عہد میں لٹ جا ئے فقیروں کی کما ئی      اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہو ئی ہے
تا حد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں          پھو لو ں کے نگہبا ن سے کچھ بھول ہو ئی ہے
بلو چستان رقبے کے اعتبار سے پا کستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔ پا کستان کا کل رقبہ 796,095 sq.km ہے ۔ جس میں سے بلو چستان 347,190 sq.km پر محیط ہے ۔ اللہ رب العزت نے اس ایریا کو قدرتی وسائل اور با لالخصوص معدنیات کے اعتبار سے بے حد و بے حساب نوازا ہے یہا ں پر آبادی اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن اس کے بلند و بالا پہا ڑوں اور سلا خ چٹا نوں میں بھی کا ئنات کے وہ خزانے گم ہیں کہ جن کی مثال دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ملتی ہے ۔ بنیا دی طور پر یہی وہ علا قہ ہے جو قیام پا کستان کے بعد سب سے آخر میںاس وطن عزیز کا حصہ بنا جس کی وجہ سے اس کی تعمیرو ترقی اور بہت سے معاملا ت پیچیدگیو ں کا شکا ر رہے ہیں ۔ پا کستان میں ۳ بڑی بندر گا ہو ں میں سے تجا رتی اعتبار سے اہم بندر گاہ گوادر پورٹ اسی خطہ میں واقع ہے ۔ قدرت نے یہا ںپر کو ئلے اور خام تیل کے ذخا ئر ، سوئی گیس ، مختلف دھا تین اور سو نے کی کا نیں اور بے شما ر قدرتی وسائل وافر مقدار میں پیدا کر رکھے ہیں ۔ گذ شتہ 66 سا لو ں میں یہا ں صرف ۵ یو نیو رسٹیا ں قائم کی گئی ہیں ۔ بلو چستان صوبہ کے 130 اضلا ع ہیں کو ئٹہ اس کا دا رالخلا فہ ہے ۔ پو رے صوبے میں صرف 25 لڑکو ں کے ڈگری کا لج اور محض 11 لڑکیو ں کے ڈگری کالجز ہیں ۔ 500 ہا ئی سکولز ہیں جبکہ لڑکو ں کے صرف 40 انٹر میڈیٹ کا لجز اور لڑکیو ں کے 22کا لجز ہیں تعلیم کے حا لا ت خا صے ابدتر ہیں بلو چستان کی 17.5 فیصد خو اتین پر ائمری سکولز میں جا تی ہیں ۔ 6 فیصد مڈل اور 2 فیصد میٹرک تک پہنچ پا تی ہیں ۔ مکران ڈویثر ن جہا ں پر زیا دہ آبادی پشتون ہے ،کے تین اضلا ع تربت ، گوادر اور پنجگو ر میں ایک بھی کا لج خوا تین کے لیے مو جود نہیں ہے ۔ عوام کی زندگی بد ترین حا لا ت سے دوچا رہے پینے کا صاف پا نی ، صحت ، تعلیم ، بجلی اور روڈ زکی بنیا دی سہولیا ت سے عوام اب تک محروم ہیں ۔ کئی بر سوں سے یہا ں پر لگا ئے جا نے والا تعمیرو ترقی کے نام پر پیسہ ضا ئع اور کر پشن کی نظر ہو گیا ہے ۔ اربو ں اور کڑوڑو ں رو پے کے پروجیکٹ صرف زبانی کلامی اور فا ئلو ں کی حد تک مکمل کیے جا تے ہیں جن کے زمینی حقا ئق نہ دکھا ئی دینے والے ہیں ۔ یہا ں کہ خود ساختہ وڈیر وں ، نوابو ں اور سرداروں نے اس خطے کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے انہیں اپنی عیا شی ، ذہنی آسودگی اور بر ائی کی خا طر کھلا مال اور اسباب درکا ر ہیں انہیں حکومت وقت سے صرف یہی غرض ہے کہ وہ ان کی شا ہا نہ زندگیو ں ، مرا عات اور عیا شیو ں کے لیے انہیں بے حساب و بے شما ر دولت عطا کریں اور پھر ان کو آزاد چھو ڑ دیا جا ئے کہ صوبے کی تعمیرو ترقی کیلیے دی گئی دولت پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا جا ئے اور انکا سرکا ری املاک اور پیسے کے ضیا ع پر کوئی احتساب نہ کیا جا ئے ورنہ یہ نواب اور سردار پا کستان کو ہی آنکھیں دکھا نا شروع کردیتے ہیں اور خو دمختار بلو چستان کا نعرہ لگا نا شروع کردیتے ہیں اور پا کستان سے علیحدگی کی تحریکیں چلا نے کی دھمکیا ں دیتے ہیں صوبے بھر میں خود کش حملو ں ، قتل و غا رت اور دہشتگردی کی وجہ سے سینکڑو ں کے حساب سے قیمتی جا نو ں کا ضیا ع ہو چکا ہے جن کا کوئی ریکا رڈ ہی نہیں میڈیا کو اس خطہ میں آزادانہ نقل و حرکت کی بھی اجا زت نہیں ہے ۔ عام لو گو ں کا یہا ں پر جینا محال کر دیا گیا ہے ۔ آزادی را ئے کو بر ی طرح سے سلب کیا جا تا ہے ۔ قومی جما عتیں اپنے حق کی آواز بلند کر سکتی ہیں لیکن علا قا ئی اور قوم پرست جما عتوں میں را ئے کا انتہائی فقدان پا یا جا تا ہے ۔ علا قا ئی نوابو ں ، سرداروں اور وڈیروں کے خلا ف جو کوئی زبان کھو لنے کی کوشش کر تا ہے تو اسے ابدی نیند سلا دیا جا تا ہے ۔ ان لو گو ں نے اپنی نجی جیلیں بنا رکھی ہیں جہا ں اپنی من منشائ سے سزائیں دیتے ہیں ریا ست کے اندر کئی ریاستوں کا تصور دکھا ئی دیتا ہے وہاں پر نظم و ضبط اور قا عدہ قانون نام کی کوئی چیز دکھا ئی نہیں دے رہی ہے ۔ سلگتے جلتے بلو چستان میں صوبہ بھر کی غریب عوام کی بے بسی اور مظلو میت بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ اپنے بنیا دی حقوق اور حق رائے دہی سے محروم رکھنے کے لیے انہیں تعلیم کے زیور سے کو سو ں میل دور رکھا گیا ہے ۔ یہا ں پر مسلسل کئی بر سوں سے چند نواب اور سردار قبیلو ں کی اجارہ داری ہے جو عوام النا س کو سراٹھا نے ہی نہیں دیتے۔ بگٹی ، مینگل ، مگسی ، رئیسانی ، جام و جما لی ، مزاری اور مری قبائل کو دولت و امارت کے نشے میں یہ خبر ہی نہیں کہ انہو ں نے بلو چستان اور اسکی عوام کو کیا دیا ہے ۔ وفا قی اور صو بائی حکومتوں نے اس خطہ کی تعمیروترقی اور عوامی فلا ح وبہبو د کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا ہے ۔آج پا کستان کو تقسیم بنگا ل جیسے کر بناک اور تاریخ کے بدترین مو ڑ پر دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اپنے بیگا نے سبھی تو اس کا ر خا ر میں حصہ ڈا لنے کے لیے سرگرم ہیں ۔ ملک کے اندر 11 کڑوڑ عوام دو وقت کی روٹی کھا نے سے بھی مجبور ہے ۔دہشتگردی کے خلا ف جنگ ہم کہا ں لڑ رہے ہیں جس کا ردعمل ہمیں اپنے ہی ملک کے اندر دکھا ئی دے رہا ہے ایک لاکھ پا کستانیو ں کا قتل عام ، سینکڑوں ڈرون حملے ، کئی سو خود کش دھما کے ، دہشت گردی ، بد امنی اور سب سے بڑھ کر بھا ئی کے ہا تھو ں بھا ئی کا قتل انصاف تو کیا مسلمانیت اور انسانیت کے اصولو ں اور قوانین کو بھی تار تا ر کر کے رکھ گیا ہے ۔ دہشتگردوں کے حق میں با ت کر نے والے اور محب وطن خفیہ ایجنسیو ں کے خلا ف را گ الا پنے والے غدار اور بد کردار لوگ ہر شعبہ میں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں سیا سی پا رٹیا ں ہو ں یا سپریم عدالتیں کوئی بھی با ت کر تے وقت عدل و انصاف کو ملحوظ خا طر نہیں رکھتا ہے کہ کون اور کیا ہما رے حق میں بہتر ہے اور کیا برا ہے ۔ بلو چ انتہا پسند اور خو دمختا
ر تنظیمیں ملک کو تبا ہی اور بربادی کے دھانے پر پہنچا نے کے لیے سرگرم ہیں صو بائی تعصب اور لسانی تعصب نے اس خطے کو بہت محدود کر کے رکھ دیا ہے کئی پنجا بیو ں ، پشتو نو ں اور اقلیتوں کے قتل کے وا قعات آئے روز رونما ہو رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بلو چ شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کو راہ راست پر لا یا جا ئے اور جن بیرونی قوتو ں کا یہ آلہ کار بنے ہو ئے ہیں ان سے انکی جان چھڑائی جا ئے با ت چیت اور امن مزا کرات کے زریعہ سے ان کے سو ئے ہو ئے ضمیروں کا جگا یا جا ئے اور ان میں اس با ت کا شعور اجا گر کیا جا ئے کہ اپنوں سے دشمنی اور مخا لفوں سے دوستی درست با ت نہیں ہر حاکم ، نواب اور سردار کی خو د احتسابی کی ضرورت ہے ۔ اور اس کے لیے ہر محب وطن، با ایمان اور با ضمیر پا کستانی کو اپنی اپنی بسا ط کے مطا بق مثبت کردار ادا کر نا چا ہیے ۔
کا ٹو گے زبا نیں تو قلم بول پڑیں گے                 تو ڑو گے اگر ہا تھ قدم بول پڑیں گے
کس طرح دبا سکتے ہو مظلو مو ں کی آواز              حد ہو گی تو خود اہل ستم بول پڑیں گے

یہ بھی پڑھیں  قیامت نہ آئی ، مایاتہذیب کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker