ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

بلور کا اعلان، مسلمان کا ترجمان

جمعہ کے دن پاکستان میں یوم عشق رسول منایا جارہا تھا اور پاکستان کے ہرچھوٹے بڑے شہر میں احتجاجی ریلیاں، سیمینار اور جلوس نکل رہے تھے ۔ پاکستانی مسلمان ، عیسائی ، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ اپنے اپنے انداز میں اس گستاخی پر غم و غصہ کا اظہار کررہے تھے۔ دنیا بھر کے مسلمان اس ناپاک حرکت پر سراپا احتجاج تھے۔ پاکستان میں ہر سیاسی، سماجی ، مذہبی اور مختلف این جی اوز اپنے اپنے پلیٹ فارم سے احتجاج کررہی تھیں۔ اگر احتجاج نہیں کیا تو ہماری بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے نہیں کیا اور نہ ہی کسی احتجاجی جلسے یا ریلی کی قیادت کی۔ ان سیاستدانوں میں اگر احتجاجی ریلی کی قیادت کی تو اس کا سارا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے جس نے بلا خوف خطر عوام کے ساتھ میدان میں آگئے۔ مسلم ملک میں مسلمان جن کا ایمان اس وقت تک نا مکمل ہے جب تک سب سے زیادہ نبی ﷺ سے محبت نہ کریں ، ان کی قائم کردہ جماعت ن لیگ اور پی پی کی قیادت نے تو دہشت گردی کے ڈر سے باہر نکلنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اور یہ نعرہ کہ اپنے رسول کی حرمت پر جان بھی قربان ہے نجانے کہاں رہ گیا؟
عمران خان بڑی بڑی سونامیاں نکالنے کے باوجود اپنانام نہ کراسکے مگر ایک ایسا شخص جس کو کل تک سارا پاکستان برا بھلا کہہ رہا تھا اس کے ایک بیان نے ایک طرف ایوان حکومت، سیاستدان اور مذہبی لیڈروں کو آئینہ دکھایا تو دوسری طرف پوری دنیا میں ہلچل مچا دی۔ جسے لوگ کہتے تھے کہ ریلوے کو لوٹ کر کھا گیا اور آج اس کے بیان کے بعد بیانات آتے ہیں کہ اس کے ذاتی سینما میں فحش فلم چلتی ہیں ۔ شاید یہی وجہ تھی یوم عشق رسول والے دن اس کے سینما گھر کو آگ لگا دی گئی مگر اس کے بیان سے اس کے تمام گنا ہ بھول کر تمام دنیا کے مسلمان اس کے مرید بن گئے۔ جی ہاں آپ درست سمجھے یہ شخصیت اے این پی کے غلام احمد بلور کی ہے جنہوں نے گستاخانہ فلم بنانے والے شخص کے سر پر ایک لاکھ ڈالر کا انعام کا اعلان کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اسی دن حکمران پارٹی کی طرف سے فوراًوضاحت آگئی کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہوسکتا ہے اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔حکومتی اتحادیوں نے ان سے استعفیٰ لینے، معافی مانگنے اور بیان واپس لینے کا مطالبہ شروع کردیا ۔ مگر اس مرد میدان نے مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے علی الاعلان کہا کہ معافی تو دور کی بات وہ نہ بیان واپس لیں گے اور نہ ہی اپنے بیان سے پیچھے ہٹیں گے بلکہ اگر کوئی اور توہین رسالت کرے گا تو وہ اس کے سر پر بھی انعام رکھیں گے۔ اور اس اعلان کے جرم کی پاداش میں پھانسی کے پھندے کو چومنے کو تیار ہیں ۔ میں صدقے جاؤں اس لیڈر کے جس نے پاکستان کی عزت رکھ لی۔یہ واحد لیڈر بن گیا جس نے حکومت میں ہوتے ہوئے اپنی پارٹی پالیسی یا حکومتی پالیسی سے ہٹ کر بیان دیا اور یہ سب اسکے اسلام پسندی اور مسلمانوں سے محبت ہونے کی نشانی ہے ۔ غلام احمد بلور نے پارٹی نظریات حکومتی دباؤ اور غیر ملکی خوف کے باوجود اپنے سچے مسلمان ہونے کا ثبوت دے کر وہ اعلان کیا جو دین کے ٹھیکیدار مذہبی لیڈر بھی نہ کر سکے ۔ جو لیڈر آئے دن تبلیغ اور بڑی بڑی دینی پروگراموں میں جا کر میڈیا کے لیے نیوز بنتے تھے مگریوم عشق رسول کے دن بھیگی بلی بن کر اپنے گھر وں میں چھپ کر بیٹھ گئے۔
غلام احمد بلور کے بیان پر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اشتعال انگیزی پھیلانے کا بیان دیتی ہے تو برطانیہ میں بلور کے داخل ہونے پر پابندی لگانے کے بیان آرہے ہیں۔ہم کیسے مسلمان ہیں کہ غیر مسلم طاقتوں میں صرف بلو رکے بیان دینے سے آگ بھڑک اٹھی اور ہمارے نبی اکرم ﷺ کی شان میں اتنی بڑی گستاخی کی اس پر ہمارے قائدین اور ملک کے خیر خواہ خاموش ہیں اور ان غیر مسلم طاقتوں کو اپنی اپنی وضاحتیں پیش کررہے ہیں۔مردان میں چرچ نذر آتش ہونے پر احتجاج کرنے والوں کو قرآن اور نبی کی شان میں گستاخی کیوں نظر نہیں آتی ۔؟کاش پاکستانی حکمران اور سیاستدان غلام احمد بلور کی آواز میں آواز ملا کر ساتھ دیتے تو غیر مسلم قوتوں کو آئندہ ایسا کرنے کا خیال بھی نہ آتا ۔

یہ بھی پڑھیں  غداری غداری کے مقدمے میں اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker