تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

بلور توعاشقِ رسول نکلے

جنرل اسمبلی کے 67 ویں اجلاس سے خطاب میں صدرآصف علی زرداری نے اپنے جس طرح مسلمان ہونے کا ثبوت دیا اِس سے اتنا ضرور واضح ہوگیاہے کہ اِن کا دورِ حکومت چاہئے جتنا بھی خراب ہے مگر اِن کے دل کے کسی گوشے میں خوف خدااور اِس کے پیارے حبیب حضرت محمدمصطفیﷺ سے عشق کا عظیم جذبہ ضرور پوشیدہ ہے جو اِن کی حکومت کے آخری ایام میں صدر سے کچھ ایسے اچھے کام ضرور کرادے گا جس سے یہ امر ہوجائیں گے یہاں ہمیں یہ ضرور کہنے دیجئے کہ یقیناًیہ ہمارے صدر زرداری کا جذبہ عشقِ مصطفی ﷺ ہی تو ہے جس نے ہمارے صدر آصف علی زرداری کوجنرل اسمبلی میں اپنی تقریرشروع کرنے سے قبل امریکا میں بنائی جانے والی گستاخانہ فلم کی پُرزورمذمت کراتے ہوئے اِن کی زبان سے یہ تاریخی جملے اداکرئے جو روزِ محشربحیثیت حکمران اپنے رعایا کو دی جانے والی تکالیف کا مداوا بھی ثابت ہوں گے تو وہیں اِنہیں جنت میں داخلے کے ضامن بھی بنیں گے ورنہ پہلے توہمیں یہ ہی لگاکرتاتھاکہ ہمارے صدرصاحب نے اپنے دورِ حکومت میں اپنی رعایاکو اتناپریشان کیا ہے کہ ملک کی ساڑھے اٹھارہ کروڑ عوام نے اِنہیں دعائیں دینے کے بجائے یقینابددعائیں ہی دی ہوں گیں مگر صدر کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گستاخانہ فلم کی پُرزور مذمت نے اِن کے سارے گناہ معاف کرانے کا ذریعہ بن کر اِنہیں جنت میں داخلے کی راہ کھول ضرور دی ہے جنرل اسمبلی کے اجلا س میں صدر زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’ دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف نفرت کو اُبھارنے اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں امریکا میں بننے والی گستاخانہ فلم کی پوری قوت سے مخالفت کرتاہوں اُنہوں نے کہاہے کہ گستاخانہ فلم پر بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ اقوام متحدہ گستاخانہ فلم جیسے عمل کو جرم قرار دے جس سے دنیاکاا من تباہ ہو اور آزادی اظہار کے غلط استعمال سے دنیا کی سلامتی خطرے میں پڑجائے ‘‘ اپنے صدر کے جنرل اسمبلی کے 67ویں اجلاس سے کئے جانے والے اِس خطاب کو ہم تاریخی یوں بھی قرار دے رہے ہیں کہ اِس خطاب میں صدر زرداری نے کوئی نئی بات تو نہیں کہی تھی ہا ں البتہ..!اپنی پرانی باتوں کو نئے انداز اور کچھ نئے زاویوں سے پیش کرکے اپنے خطاب کو بڑی حد تک تاریخی بنوانے میں بڑی مہارت دکھائی ہے۔
جبکہ اُدھر ہماری صدر زرداری کے تاریخی خطاب کے جواب میں امریکا کے پہلے سیاہ فام صدر مسٹر بارک اُوبام نے جنرل اسمبلی کے اِ سی اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران اپنا ناگوار منہ سا بناتے ہوئے کہا کہ’’مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین کرنے والوں کی مستقبل میں کوئی جگہہ نہیں ہے یہاں ہم یہ سمجھتے ہیں جیساکہ امریکی صدر بارک اوبام نے فریا کہ گستاخانہ فلم بنانے والوں کاامریکی مستقبل میں کوئی جگہہ نہیں ہے تو پھراِنہوں نے اِس گستاخانہ فلم کے مرتکب عناصر کو امریکا سے بیدخل کرکے اِن کی امریکا میں داخلے پر پابندی کیوں نہ لگادی اور یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اُوپر سے امریکی صدر نے اپنے ملک میں بننے والی گستاخانہ فلم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’بیشک امریکا میں بننے والی گستاخانہ فلم اُمت مسلمہ اور لاکھوں امریکی مسلمانوں کے لئے بھی باعثِ اشتعال ہے لیکن امریکی آئین کی وجہ سے گستاخانہ فلم پر پابندی نہیں لگاسکتے ہیں اور اِس پر ہٹ دھرمی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اِسی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ’’،ہمیں سفارتخانوں پر حملوں اور پاکستان میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش ہے جس کا کوئی جواز نہیں تھا ‘‘اَب اِس موقع پر ہم یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کررہے ہیں کہ امریکی صدر مسٹر بارک اُوبام بڑی ڈھٹائی سے اُمتِ مسلمہ کو بے وقوف بنانے اور گستاخانہ فلم بنانے کے مرتکب حرام زادوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی اپنی پوری قوت سے مظاہرہ کررہے ہیں جن کی اِس دوغلی پالیسی سے ملتِ اسلامیہ واقف ہوچکی ہے یہ اور بات ہے کہ پھر بھی مسلمہ اُمہ اِن کی باتوں میں آرہی ہے اور مسلسل مصالحت پسندی کا مظاہرہ کئے جارہی ہے یہ اِس کا پاگل پن ہے یاواقعی اِس کی بے وقوفی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اُمتِ مسلمہ نے گستاخانہ فلم بنانے والے ملک کے صدر سے کوئی گٹھ جوڑ کر لی ہے یا اِس ملک سے رابطہ ختم کرنے کا سوچ لیا ہے۔
صدر زرداری کا جنرل اسمبلی میں کیا جانے والا خطاب اپنی جگہہ پرانا مگر تاریخی ضرور تھا مگرآج یہ بھی تو سب ہی جانتے ہیں کہ امریکی آشیر باد سے تشکیل پانے والیہماری موجودہ حکومت جو اپنے اتحادیوں کے پیروں پر چلتے پھرتے اور گرتے پڑتے اپنی مدت پوری کرنے کے قریب تر ہے مگراِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اِس سارے عرصے میں اِس کی کسی بھی وزارت نے ایساکوئی قابلِ ذکر کارنامہ تو انجام نہیں دیا ہے کہ جس سے عوام کو کوئی ریلیف ملاہو آج اگر ہم اِس حوالے سے کوئی ایک وزرات مثال کے طور پر بجلی وپانی، صحت وتعلیم، خارجہ ، ریلوے، دفاع اور اِسی طرح دیگر وزراتوں کو اٹھاکر دیکھ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہوجائے گا کہ اس حکومت کے تمام وفاقی وزراء کی کارکردگی کتنی ناقص ہے …؟ آج یہ بھی ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری اِس حکومت میں اِس کے وزراء اپنی وزارت کے لحاظ سے کتنے اہل اور نااہل ہیں …؟
بہرحال ..!! اِس حکومت کے دیگر وفاقی وزراء کو توایک طرف رکھ دیں آج اگر ہم سیاست اور وزارت کے اعتبار سے صرف غلام احمدبلور کو ہی دیکھ لیں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ کیسے سیاستدان اور کتنے کامیاب وفاقی وزیررریلوے ثابت ہوئے ہیں …؟ مگریہاں ہم اِس بحث میں نہیں جانا چاہیں گے اوراِن تمام باتوں کو طاق میں رکھ کر دیکھیں تو غلام احمدبلور کا امریکامیں بننے والی گستاخانہ فلم کے خلاف جب اِن کااپنی ذاتی حیثیت سے گستاخانہ فلم کے بنانے والے ملعون کا سر تن سے جداکرنے والے کو ایک لاکھ ڈالر انعام دینے کا بیان سامنے آیا توقوم اور مسلم اُمہ کو معلوم ہواکہ غلام احمد بلور تو سچے اور پکے عاشقِ رسول ﷺ ہیں جن کے اِس ایک جملے نے ساری پاکستان قوم اور اُمت مسلمہ کے دل جیت لئے ہیں اورقوم نے اِن کی بحیثیت وفاقی وزیررریلوے تما م غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کردیا ہے اور آج ان کے ایک سچے عاشقِ رسولﷺ ہونے کے سچے اور پکے جذبے پر ساری پاکستانی قوم اور اُمتِ مسلمہ انہیں سلام پیش کرتی ہے اور توقع کرتی ہے کہ غلام احمد بلور جب ریلوے کا بیڑاغرق کرکے مستعفی نہیں ہوئے توحکومتی اور امریکی دباؤ میں آئے بغیر ابھی اپنی وزارت سے مستعفی نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں  سموں کی تصدیق کی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی، چیرمین پی ٹی اے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker