پاکستانتازہ ترین

بینظیر بھٹو قتل کیس میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے افسر کا اہم انکشاف

راولپنڈی(بیورو رپورٹ) بے نظیر بھٹو قتل کیس میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے افسر نے جرح کے دوران انکشاف کیا ہے کہ جلسے سے پہلے بم ڈسپوزل اسکواڈ سے لیاقت باغ کی کلیئرنس نہیں کرائی گئی تھی بلکہ سانحہ کے بعد انہیں جائے حادثہ پر بلوایا گیا۔ راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چودھری حبیب الرحمان نے بے نظیر بھٹو قتل کیس کے ملزمان کا جیل ٹرائل کیا۔ دوران سماعت دو گواہوں ڈاکٹر امجد اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ماہر ثقلین نے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ وکلاء صفائی کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ماہر نے اپنے بیان میں کہا کہ حادثے سے پہلے جلسہ گاہ کی کلیئرنس نہیں کرائی گئی تھی بلکہ خود کش حملے کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بلایا گیا ، سابق وزیراعظم کے قتل کے لیے بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ حادثے میں زخمیوں کا علاج اور مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر امجد نے بھی بیان قلمبند کرایا۔ مقدمہ کے اشتہاری ملزم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کے عدالتی احکامات کے خلاف درخواست پر سماعت بغیر کسی کارروائی کے 22 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں  آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ: اسد رووف نے تمام الزامات کو مستر د کردیئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker