شہ سرخیاں

بند راستے

جب میں کوئی بھی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتاہوں اور دل کرتاہے کہ اس کو اسی وقت اپنے قلم کے ساتھ محفوظ کرلوں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اتنے مسائل ہیں کہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لیتے اور یہ مسائل ہمارے اپنے پیدا کئے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان کا حل ہے کہ اگر بندہ اپنے اردگرد کے مسائل پر نظر رکھے اور انکی نشاندہی کرے تو میرا خیال ہے کہ ہر مسئلے کا حل نکل آئے گا لیکن عیش وعشرت کی زندگی گزارنے والے تو اپنے سے نیچے طبقے کو کچھ سمجھتے ہی نہیں بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر وہ سڑک کے مالک بن جاتے ہیں کیایہ سڑک ان کے باپ کی ملکیت ہے یا ان کو وراثت میں ملی ہے حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ جب بھی ایمبولینس کا سائرن بجے تو ہمارا کام ہے کہ فوراً راستہ دے دیں کیونکہ پتہ نہیں کتنی ایمرجنسی ہو مگر ہم لوگ کسی کو راستہ دینااپنی توہین سمجھتے ہیں کل ایساہی واقعہ مجھے عبداللہ پل فیصل آباد میں دیکھنے کو ملا 1122کی گاڑی نے بڑی سپیڈ سے مجھے کراس کیا مگر اس کوکوئی راستہ نہیں دے رہاتھا 1122کی گاڑی کا سائرن اتنا زیادہ ہوتاہے کہ گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی معلوم ہوتاہے کہ کوئی ایمرجنسی ہے میں پل پر کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہاتھااوراپنے کمرے سے دو تصاویر بھی محفوظ کرلیں 1122کی گاڑی نے بل کھاتے راستہ بنانے کی کوشش کی اور ساتھ وہ مائیک میں بھی کہہ رہے تھے کہ پلیز راستہ چھوڑدیں مگر انکے آگے صرف بڑی بڑی گاڑیاں تھیں جو راستہ دینے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی تقریباً 15منٹ کے بعد 1122کو راستہ ملا۔حالانکہ ایمرجنسی کی صورت میں 1122کوسات سے آٹھ منٹ تک موقع پر پہنچنا ہوتا ہے ہر بندہ گاڑی کا مالک تو بن بیٹھا ہے مگر ڈرائیوکرنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اگر ایک ایم این اے یا ایم پی اے کا گزر ہو تو فوراً راستے تو کلیئر ہوجاتے ہیں اور انکے ساتھ جو گارڈ ہوتے ہیں وہ خود ہی راستہ کلیئرکرانے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب کسی غریب کے ساتھ کوئی مسئلہ بنتاہے تو اس کو لاوارث سمجھا جاتاہے ہم لوگ پڑھے لکھے اور سمجھ دارہونے کے باوجود ایسی غلطیاں کیوں کرتے ہیں اگر کوئی بھی ایمبولینس سائرن بجائے تو ہمارا کام ہے کہ فوراً راستہ دے دیں پتہ نہیں آگے کتنی ایمر جنسی ہوگی کل یہ مسئلہ ہمارے ساتھ یا اپنے کسی عزیز کے ساتھ بھی ہوسکتاہے ہم جب مسلمان بھائی بھائی ہیں ایک خاندان ہیں ہمیں ایک دوسرے کا خیال کرناہوگا جہاں جہاں 1122کی سروس ہے شکر ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں ہمارے نوجوان نڈربھائی ٹائم پر پہنچ کر مریض کی مدد کرتے ہیں یا پھر فوراً ہسپتال تک پہنچاتے ہیں ہم سب کو مل کر عوام کی خدمت کرنی چاہیئے کیونکہ جن کے پاس پیسہ ہے وہ تو ہر مسئلے کا حل ڈھونڈلیتے ہیں مگر مزہ اس بات میں ہے کہ ہم سب مل کر تمام مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ گلی گلی جو مسائل ہیں ختم ہوجائیں اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

یہ بھی پڑھیں  داعی قرآن اور علم کی شمع