بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

نیرو کی بانسری۔۔؟؟؟

معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے اور افراد کا کردار معاشرتی حد ودو قیود کا تعین کرتا ہے۔اللہ کا بہت فضل و کرم ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلامی تہذیب و تمدن ہماری شناخت ہے۔اگرچہ غیر اسلامی قوتوں نے ہمارے معاشرے کو بگاڑ نے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی مگر اہل ایمان اب بھی کسی نہ کسی درجہ پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔بلا شبہ اخلاقی قدریں ،خوف الٰہی اور انتہائی مختصر زندگی کا احساس کم تر حالت کی نشاندہی کرتا ہے تاہم اس کے باوجود حق پرستی غالب نظر آ رہی ہے۔حالات سے مایوس ہونا بڑا گناہ ہے،اللہ کی رحمتوں کے ہم سب ہی امیدوار ہیںلیکن ہم جو کاشت کریں گے وہی بیج جنم لے گا۔2005ئ کے ہولناک زلزلے کے بعد ہمارا نظام حیات بڑی تیزی کے ساتھ بدلتا جا رہاہے۔ہمارے خون میں سفیدی پیدا ہونا مغربی یلغار کا منہ بولتا ثبوت دکھائی دے رہا ہے۔
ہمارے ملک میں اللہ کے بے شمار انعامات ہونے کے باوجود رونا دھونا کیوں ہے؟فرد سے لیکر پورا معاشرہ احساسِ ذمہ داری سے محروم ہوتا جا رہا ہے ۔حکمران ’’نیرو کی بانسری‘‘بجا رہے ہیں،ہر ادارہ روبہ زوال ہے،اخلاقی قدریں اس حد تک گر تی جا رہی ہیں کہ مادر پدر آذاد ماحول کسی بڑی تباہی کو دعوت دے رہا ہے۔ماں باپ اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کے ساتھ اخلاق باختہ حرکات کو عیب نہیں سمجھ رہے ہیں۔بھائی بھائی عارضی دنیا کے لئے خون کے پیاسے بن رہے ہیں،موبائلز اور ٹی وی چینلز نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ایک ایک انچ زمین کے لئے جان سے مارنے تک گریز نہیں کیا جا رہا ہے۔دوسروں کی زمین اور مال کھانا معمولی بات سمجھ لی ہے۔ہمارے مواعظ بھی کسی سے کم نہیں انہوں نے بھی اپنی اپنی دکان چمکا رکھی ہے۔تعلیمی شعبہ کاروبار بن چکا ہے۔الغرض ہر سُو اندھیرنگری ہے۔
فرمان الٰہی ہے:اور تم ایک دوسرے کا مال ِ ناحق نہ کھائو﴿النسائ۹۲﴾
مال ِ نا حق کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ہر ادارے میں حق تلفی منہ زور شکل میں دیکھی جا سکتی ہے۔بلکہ اپنا حق لینے کے لئے بھی مال نا حق ﴿رشوت﴾ کا رواج عام ہو چکا ہے۔یہاں تک کہ دادرسی کا زاویہ بھی روپے پیسے تک محدود ہو چکا ہے۔
آقائے دو جہاں حضرت محمدöنے فرمایا کہ’’پانچ آدمی ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔اگر وہ چاہئے گا تو دنیا میں انہیں اپنے غضب کا نشانہ بنائے گا اور اخرت میں انہیں جہنم میں ڈالے گا۔
1.حاکمِ قوم جو لوگوں سے اپنے حقوق لے لیتا ہے مگر انہیں ان کے حقوق نہیں دیتا اور ان سے ظلم کو دفع نہیں کرتا۔
2.قوم کا قائد جس کی لوگ پیروی کرتے ہیں اور وہ طاقتور اور کمزور کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا اور خواہشات نفسانی کے مطابق گفتگو کرتا ہے۔
3.گھر کا سربراہ جو اپنے گھر والوں اور اولاد کو اللہ کی اطاعت کا حکم اور دینی امور کی تعلیم نہیں دیتا۔
4.ایسا آدمی جو اجرت پر مزدور لاتا ہے اور کام مکمل کرواکے اس کی اجرت پوری نہیں دیتا۔
5.وہ آدمی جو اپنی بیوی کا حق مہر دبا کر اس پر ذیادتی کرتا۔
اللہ تعالیٰ اپنی کرم نوازی سے ہمیں ان گروہوں میں نہ رکھے ۔حال تو یہ ہے جہاں معیار صرف روپے پیسے سے متعین ہو وہاں کیا صورت بچتی ہے کہ انصاف ہو۔ہمیں اللہ اور اسکے پیارے رسول محمدö کے احکامات اور اطاعت کی فکر کرنی چاہئے۔گزشتہ دنوں ایک سیکیورٹی گارڈ سے اس کی تنخواہ بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اُس نے کہا کہ’’صرف آٹھ ہزار روپے ماہوار ملتے ہیں جبکہ ڈیوٹی 12گھنٹے لی جاتی ہے‘‘۔اسی طرح ایک نجی ادارے میں کام کرنے والے گریجویٹ سے حال ِ دل پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ’’آٹھ گھنٹے کے دس ہزار روپے ماہوار ملتے ہیں وہ بھی 15تاریخ کے بعدتنگ کر کے دیئے جاتے ہیں،جبکہ جاب سیکیورٹی نہیں ہے جب مالک کا دل چاہے نوکری سے فارغ کر سکتا ہے‘‘۔ایک حافظ ِ قران نے بتایا کہ ’’ماہوار صرف 4000ہزار روپے دیئے جاتے ہیں اور وہ بھی دو دو ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے‘‘اب غور طلب امر یہ ہے کہ حکمران جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو وہ عوام کے حقوق کے سب سے بڑے دعویٰ دار ہوتے ہیں لیکن جب اقتدار مل جا تا ہے تو انہیں عام آدمی سے ملنا تو درکنار ان کے بارے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔اپنے اردگرد ایسے ایسے قصیدہ خواں رکھے جاتے ہیں کہ وہ انہیں عام آدمی کی جانب دھیان کرنا پسندیدہ فعل تصور نہیں کرتے ۔میں کوئی دینی عالم تو نہیں ہوں مگر اپنے علم کے مطابق یہ بآور کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ نجی اداروں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے بارے سوچیں انہیں پے اینڈ ٹائم سکیلز کا حق دار بنایا جائے۔خاص کر حفاظ حضرات کے لئے خصوصی طور پر مثالی پیکیج دیا جائے تاکہ عظمتِ قران کی نیکیاں نصیب ہو سکیں۔معاشرے کی اصلاح کے لئے ہر فرد کو جاگنا پڑے گا۔ہر گھر میں تربیتی مجالس کا اہتمام از بس ضروری ہے۔صاحبِ اقتدار حضرات پر اولین زمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں ایسے تربیتی اجلاس منعقد کریں جن میں اصلاح ِ معاشرہ کی جانب توجہ دی جائے۔بلکہ ہر علاقہ کے معززین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سماجی ناہمواری کے خاتمہ کے لئے بہتر ماحول بنا ئیں۔ایسے ٹی وی چینلز کی روک تھام کی جائے جو معاشرتی طور پر برائیوں کی بنیا د بن رہے ہیں۔دراصل ہماری غفلت سے معاشرتی اقدار متاثر ہورہے ہیں ۔ایک کیبل کے آپریٹر سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ جناب ہم کیا کریں ،ناظرین کی خواہش اور پُر زور اصرار پر ہمیں بعض چینلز چلانے پڑتے ہیں ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری غیرت و حمیت کس درجہ پر ہے۔ہمیں زلزلے ،سیلاب اور نہ رُکنے والی مہنگائی سے عبرت پکڑنا چاہئے۔رمضان المبارک کے با برکت ماہ میں تائب ہونے کے مواقع ہیں۔آو !مل کر اصلاح معاشرہ کی جانب قدم اٹھائیں ۔جہاں ظلم ،حق تلفی اور بے حیائی ہو وہاں بزور طاقت اپنا کردار ادا کریں۔زندگی چند روزہ ہے آنے والی نسلوں کو اچھا پیغام دینے کے لئے تاریخ ساز قدم ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔امید ہے کہ ہر فرد جو جہاں کہیں ہے وہ اصلاحِ معاشرہ کے لئے آگے بڑھ کر ایک نئی منزل کا تعین کرئے یقینا خوشحال معاشرہ اسی صورت تشکیل پاسکتا ہے جب اخلاقی رواداری ،ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ،احساس ذمہ داری ،نیکی کی تعلیم اور بدی سے کنارہ کشی کے اصولوں کو اپنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  عمران خان اور جہانگیر ترین ٹیکس چور ہیں : عابد شیر علی

یہ بھی پڑھیے :

3 Comments

  1. Allah Tabar-o-Tahala Farmaty Hain” Jaise qoom hoti hai me us pr wesy hi Hukamran Maslat kr daita hoon” tw as Aaya Kreema ki roshni main humain kisi pr tanqeed krny sy pehlay apna ehtsaab krna ho ga, warna tumari dastan tk b na ho gi an dastanwN main…. Mir Sb Keep it up

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker