تازہ ترینکالم

با قی بچا ، مثا لیں اور دلیلیں ،،،

سن رکھا ہے ، بات پتے کی ہے ، مگر اترے کس کے دل میں ، علم کا ایک قطر ہ جا ہلیت کے سمند سے بہتر ہے ، اور عمل کا ایک قطرہ علم کے سمند سے افضل ہے ، مگر ۔ الٹا ہے ، ہما رے ہاں سب الٹا ہے ، شا عر کی ایک لا ئن ،،،
گنوا دی زند گی ہم نے مثا لوں اور دلیلو ں میں
ہر بحث ، تکرار ، قو می لیول کی ، یا کسی گا ؤں میں بیٹھے ان لو گوں کی جو اپنے اپنے سیاسی خد مت گا روں کے گیت گا رہے ہیں ، وجہ کیا ، اس سیاسی پا رٹی کے کو ئی لو کل یاکسی کے پا س کو ئی چھو ٹی مو ٹی سیٹ ہو گی ، وہ اٹھ کے گلے ملتا ہو گا ، بس یہ اسی میں خو ش ، آ ج کل سو شل میڈ یا پر اپنی ہربات کی تشر یح کی جا تی ہے ،مگر سیاسی طور طر یقہ کہ ان لو گوں کے سا تھ احسن طر یق سے میل ملا پ رکھ جا ئے جس کے پاس میں وہ ذا تی دشمنی بھی بنا لیں مگر وہ آ پ کا دفا ع کر نے سے ایک قد م پیچھے نہیں ہو ں گے ، کچھ دن پا کستان میں ، اپنی سر زمین میں دن گزرانے کا مو قع ملا تو واپس پر دیس آ تے چند گھنٹے کی فلا ئٹ میں یہی سو چتا رہا کہ ہما رے معا شر ے کو جو یو رپ کے لو گ بیما ر معا شر ہ کہتے ہیں کسی حد تک وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں ، کیو نکہ ابھی تک ہم میں وہی ، ٹھو ٹھا ، دیکھوا ، ڈیش ڈرامہ ، اشتہا ربا زی ، اپنی ذا ت سے ہٹ کر دوسروں پر نظر رکھنا ، وغیر ہ وغیرہ ۔ ہما رے ہاں تر قی ہو ئی ہے بقول حکو مت ، کچھ نظر بھی آ ئی ہے ، اعتر اف کر تے ہیں ، کم از کم پنڈ ی کے لو گ لا کھوں کے تعداد میں پنڈ ی سے اسلام آ با د کا سفر کر تے تھے تو دن میں لو کل گا ڑیوں وا لے ان کو سیل آ وٹ ہی کر تے ر ہتے تھے ، مطلب کے ایک دوسرے کے گا ریوں میں سوا ر کر تے تھے ، اس اذیت سے ان کی جان چھو ٹی ہے ، اور جو حکومت مخا لف با ت کرتے ہیں کہ میٹر و ہی دیے جا رہے ہیں با قی معا ملا ت ادھو رے ہیں ، بلکل ٹھیک کہا جا تا ، مگر ان کے لیے اتنی سی عر ض ہے کہ با قی ادھو ے معا ملا ت پچھلی حکو مت میں بھی تھے ، اب جو مل رہا اس پر شکر نہیں بنتا کیا ، اگر نہیں بنتا تو قو م میں اتنا اتحا د لا ئیں کے یہ سیا سی ٹو لا ایسی حر کا ت کر نے کا سو چ بھی نہ سکے ، جیسے دو دن پہلے ، لا ہو ر میں کو ئی نو اب صا حب ، نواب ،وی ائی پی کو کہا ، جا رہے تھے ، ان کے ذا تی گا رڈ بھی شر یک سفر تھے ، جب ٹر یفک جا م ہو ئی اور وہاں کو ئی ٹر یفک پو لیس والا مو جو د نہیں تھا تو ان صا حب کے ذا تی گار ڈ گا ڑ ی سے نیچے اترے اپنی بند وقوں کے ساتھ اور ٹر یفک کا نظا م اتنی دیر بحال کر وایا کہ ان کے صا حب وہاں سے گز ر سکیں ، جب ذا تی گار ڈ اسلحے کے ساتھ سڑک آ ئے ہوں گے ، با قی لو گ ،خا ص طور پر جو خو اتین ، بچے وہ تو ڈر گے ہو ں گے کہ یہ کیا مہا جرہ ، ہے کو ئی پو چھنے والا کہ کس قا نون کے تحت وہ گا رڈ اسلحہ لے کے شہر کی بڑی سٹر ک پر باہر آ ئے اور اپنی کا روا ئی کی ۔
تین جما عتیں ہیں ، با قی ان سے سیر ہو نے کے در پر ان کے حما یتی بنے ہو ئے ہیں ، دو جما عتیں اقتدار کے مز ے لے چکی ہیں ،اب اگلی باری کس نے لینی ہے اس محا ذ پر فتح کے لیے ابھی سے کا م جا ری ہو ا چا ہتا ہے ،تیسر ی جما عت ، خاں صا حب کچھ ایسی الجھن میں کہ جو بھی سیاسی بیان دیتے ہیں وہ ان کے اپنے گلے پڑ جا تا ہے ، میڑو کا وہ رونا روتے تھے اب اسی منصو بے کو وہ اپنے ہاں جا ری کر رہے ہیں، قر ضے لینے کے وہ طعنہ با زی کر تے تھے ، ان کی صو با ئی حکومت اسی روش پر چل رہی ہے ، صحا فیوں کے ساتھ بد سلوکی پر وہ مگر مچھ کے آ نسو روتے تھے ، کچھ دن پہلے ان کے خا ص رکن جو کیا وہ سب نے دیکھا ، پی پی پی والے بڑے سیا ست دان سے لے کے ایک گا ؤں کا جیا لا بھی یہی کہتا ہے کہ مو جو دہ حکو مت نے جو جو وعد ے کیے تھے وہ پو رے نہیں کر سکی تو اگلی حکومت کا کیسے سو چ رہی ہے ، پھر سا منے کا سوال ، کیا آ پ کی حکومت نے کیا تھا جو آ پ بھی حکو مت سنبھا لنے کے لیے کو شا ں ہیں ، آ پ کے دور میں جو کر پشن کے ریکا رڈ قا ئم ہو ئے اور انتہا ء کے ہیں ، ہما ری عوام بھی نرالی ہے، جس شحص کے خلا ف کر پشن کا کیس چل رہے ہے ، وا رنٹ گر فتاری کے جا ری ہو چکے ہیں ، بد نام ہی ہو ا مہذ ب معا شرے میں جس کے وانٹ گر فتاری کے جا ری ہو ں پھر اس کو قومی دن کی تقر یب میں دعوت دینا اور اس کے ساتھ فو ٹو بنوا کر فخر کا با عث سمجھنا ، تو اس عوا م کو بھی ایسی ہی سیاسی خد مت گار ملیں گے جن کا رونا آ ج کل کیا جا رہا ہے ، اب سابق وزیر اعظم پر ویز اشرف کے خلا ف کر پشن کے کیس میں وارنٹ جا ری ہیں ، ان کے لو گ کہتے ہیں کہ مو جو دہ حکو من نے بجلی کے مسلے کو حل نہیں کیا ہے ، اب پھر سوال راجہ صا حب منسٹر بھی رہے ہیں ۔
ہر سیا سی جما عت مخا لف جما عت کے بارے اتنے ثبوتوں کے ساتھ بات کر تی ہے کہ محسو س ہو تا کہ انہو ں نے ہوم ورک پر اتنی محنت کی ہے اگر ان کو عملی کا روائی کا چا نس دیا جا ئے تو دودھ کی نہر یں پکی ہے، غور کر نے پر معلوم پڑتا ہے کہ دو تین با ریاں یہ بھی لے چکے ہیں ، ان کے اپنے صو بے میں جہاں یہ حکو مت کر تے خو د بو ڑھے ہو چکے وہاں صا ف پا نی نہیں میسر وہ مخالف جما عت کے شہر لاہور کا نقشہ بد ل دیں گے تر قیا تی کا م کر وا کر ، تمام کے تمام کو عملی اقداما ت کر نے کے مو اقعے ملے ہیں مگر کا ر کر دگی پر سوالیہ نشا ن ہیں ۔
سن رکھا ہے ، بات پتے کی ہے ، مگر اترے کس کے دل میں ، علم کا ایک قطر ہ جا ہلیت کے سمند سے بہتر ہے ، اور عمل کا ایک قطرہ علم کے سمند سے افضل ہے ، مگر ۔ الٹا ہے ، ہما رے ہاں سب الٹا ہے ، شا عر کی ایک لا ئن ،،،
گنوا دی زند گی ہم نے مثا لوں اور دلیلو ں میں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button