تازہ ترینصابرمغلکالم

باردانہ صرف بیوپاریوں کے لئے؟

پاکستان میں ہر کام ،ہر جگہ اور ہر ایک کا استحصال لازمی جزو بن چکا ہے ،ہر ایک کی کوشش ہے کہ سب کچھ وہی سمیٹ لے،ہر چیز پر صرف اسی کا حق ہے،اس استحصال میں کرپٹ ،رشوت خور اور گٹھیا ذہنیت اور سوچ رکھنے والے سرکاری افسران بنیادی کردار ادا کرتے ہیں،ہر سال گندم کے سیزن میں حکومت دعوؤں کی بھرمار کر دیتی ہے کہ ملک بھر میں قائم خریداری مراکز گندم پر کسی قسم کی بدعنوانی نہیں ہونے دی جائے گی،لیکن ہوتا ہر سال اس کے متضاد ہی ہے، جن کا بنیادی حق ہے وہ محروم اور جو ساہوکار،بیوپاری اور ہوس پرست سرمایہ دار ہیں غریبوں کا سارا حق کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے،گندم کی خریداری اور سٹاک برقرار رکھنے کے لئے وفاقی ادارہ پاسکو اس لحاظ سے س فہرست ہے جبکہ تمام صوبے محکمہ خوراک کے ذریعے ایسا کرتے ہیں،ہر ضلع میں پاسکو اور محکمہ خوراک کے درجنوں مراکز قائم ئے جاتے ہیں،قانونی طور کسی کاروباری شخص کو سرکاری باردانہ برائے تجارت دینا جرم ہے یہ باردانہ صرف کاشتکاروں اور زمینداروں کے لئے مختص ہوتا ہے،لیکن سنٹرز پر موجود فوڈ و پاسکو انسپکٹرز قانون کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے،زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ مخصوص بیوپاریوں کے ساتھ خریداری کے آغاز سے قبل ہی مک مکا کا کام طے ہو چکا ہوتا ہے،ان میں نقدی کے ساتھ ساتھ شاہی افسران کو موٹر سائیکلیں سمیت دیگر تحائف الگ ہوتے ہیں،کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سیاسی اثرو رسوخ کی وجہ سے باردانہ اچک لے جاتے ہیں تاہم وہ بھی مناسب حد تک صاحب کی خدمت ضرور کرتے ہیں تا کہ سب اچھا ہے کی رپورٹ چلتی رہے اور ان کی پے منٹ میں بھی تاخیر نہ ہو،ایسے حالات میں غریب کاشتکار باردانہ کے حصول کے لئے ان سنٹرز پر۔رل۔ جاتے ہیں ،وہاں انہیں گھنٹوں لائن میں لگنے کا مزہ چکھایا جاتا ہے اور پھر صاحب کسی ضروری کام کا بہانہ کر کے باہر نکل جاتے ہیں اگر کوئی اس بات کا شکوہ کرے تو جواب ملتا ہے۔ کیا میں صرف تمہاری وجہ سے ہی بیٹھا ہوں مجھے اور کوئی کام نہیں،کیا میں بینک نہ جاؤں؟ ایسی بکواس کرتے ہوئے ان عام آدمیوں کو ڈانٹ بھی پڑتی ہے اور باردانہ بھی نہیں ملتا،زیادہ تر کاشتکار اس نوعیت کی ذلت سے بچنے کے لئے انہی بیوپاریوں کو گندم ارزاں نرخوں پر بیچ ڈالتے ہیں جو اپنی ٹرالیوں پر لیبر اور سرکاری باردانہ سجائے گاؤں گاؤں پھرتے ہیں،الراقم کے علم میں چند ایسے پاسکو انسپکٹر بھی ہیں جو بھرتی سے قبل کچھ نہیں ہوتے ،سیاسی سفارش یا رشوت کے بل بوتے پر بھرتی ہو کر وہ جس طرح کرپشن کا بازار گرم کرتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے،گندم کوئی مٹھی میں بند ہونے والی چیز تو ہے نہیں جسے چھپ چھپاکر سنٹرز تک پہنچایا جائے نہیں ایسا ہرگز نہیں،یہ سب دھندہ سر عام ہوتا ہے ان محکموں کے اعلیٰ افسران کو ہر بات ہے ان کا حصہ باقاعدگی سے انہیں فراہم کر دیا جاتا ہے،یہ افسران سرکاری گاڑیوں اور سرکاری تیل پر رشوت کا ریٹ مزید بڑھانے کے لئے وزٹ بھی کرتے ہیں،بعض پاسکو انسپکٹرز تو ایسے بھی ہیں جو گندم کی بوریوں میں سے گندم نکلوا کر ان میں ریت نما مٹی مکس کرا کر گندم آگے گوداموں میں پہنچوا دیتے ہیں،جو اس طرح کی مکروہ حرکات میں ملوث پائے گئے وہ آج بھی ڈیوٹیوں پر ہیں۔ یہ ہو رہا ہے اور ہر سال ہوتا ہے، وزیر خوراک اور افسران کس مرض کی دوا ہیں، گڈ گورنس کے دعوے یہاں تو مٹی اور جوتے کی نوک پر نظر آتے ہیں ،پتا نہیں یہ بے اختیار حکمران کس ڈھنگ کی حکمرانی میں مصروف ہیں جنہیں علم ہی نہیں کہ ان کی سربراہی میں کون سے ۔چن۔ چڑھائے جاتے ہیں،یہاں صرف رشوت اور اثرو رسوخ کی حکمرانی ہے اور کچھ نہیں،باقی سب خالی بڑھکیں اور خودنمائی کا چکر ہے،ہر سال آٹے کے لئے غریبوں کو ہی لائن میں کیوں لگنا پڑتا ہے؟ صرف اس لئے مٹی زدہ گندم گوداموں کی زینت بنی ہوتی ہے اس کا صحیح فائدہ فلور ملز مالکان ہی اٹھاتے ہیں،پنجاب کے وزیر خوراک المعروف ہیلی کاپٹر کے مسافر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سال ہم نے گندم کی خریداری میں پٹواری کلچر ختم کر دیا ہے ،دوسرے الفاظ میں یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ پنجاب میں ان کی گذشتہ حکومت کے دوران بھی اس ناسور پر قابو نہیں پایا جا سکا،بلال یٰسین صاحب اب بھی آپ کی بات میں کوئی وزن نہیں ان سنٹرز پر وہی کچھ ہو رہا ہے جو ہوتا رہا ہے ،جس میں یقیناً آپ کی سفارشیں بھی ہوں گی؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  داغ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker