شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / برفانی تودہ گرنےکے واقعہ کےبعدامدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع

برفانی تودہ گرنےکے واقعہ کےبعدامدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع

اسلام آباد﴿بیورو چیف﴾پاکستانی فوج نے اتوار کو کشمیر کے بلندوبالہ پہاڑوں پر فوجی کیمپ پر برفانی تودہ گرنے کے واقعہ کے بعد امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کردی ہیں تاکہ بچ جانیوالے افراد کو نکالا جاسکے ۔ اس واقعہ میں 135افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔
سیاچن گلیشئر پر یہ تلاش ہفتہ کو دیر گئے اندھیرے اور خراب موسم کے باعث روک دی گئی تھی اس علاقے کو پاکستانی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان دنیا کا بلند ترین جنگی میدان سمجھا جاتا ہے۔
پورے دن کی تلاش کے باوجود کوئی زندہ شخص نہیں نکالا جاسکا ۔ اس تلاش میں 150سے زائد فوجیوں کے ساتھ ساتھ جاسوس کتوں نے بھی حصہ لیا جبکہ ہیلی کاپٹرز بھی اس مقام پر پرواز کرتے رہے جس کا محیط ایک مربع کلومیٹر ﴿ایک مربع میل کا تہائی﴾بتایا جاتا ہے۔
فوج نے ایک بیان میں کہاکہ ہفتہ کے سانحہ کے بعد کیمپ سے 135افراد لاپتہ ہیں جن میں 124فوجی شامل ہیں۔
اس فوجی علاقے پر برفانی تودہ گرنے سے دب جانیوالوںمیں ایک درزی اور دو باربر بھی شامل ہیں، یہ علاقہ مسلم اکثریتی کشمیر میں بھارت سے غیر فعال سرحد کے قریب ہے جس پر پاکستان اور بھارت دو جنگیں لڑچکے ہیں۔
سیاچن 1984ئ میں اس وقت نازک مقام کے طور پر سامنے آیا جب بھارت نے ان علاقوں پر قبضہ کرلیا جن میں بڑی بڑی چوٹیاں شامل تھیں جس پر پاکستان کو فوری طور پر اپنی فوجیں وہاں لگانا پڑیں۔
بھارت اور پاکستان 1983ئ میں سیاچن پر شدید جنگ لڑ چکے ہیں جس سے وہاں کسی بھی وقت معرکہ آرائی کے خدشات رہتے ہیں اگرچہ 2004ئ میں امن کا عمل شروع ہونے کے بعد اس پہاڑی علاقے میں گنیں اکثر خاموش رہی ہیں۔
فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے اے ایف پی کو بتایاکہ مقامی میڈیا رپورٹس کے برخلاف ہفتہ کو 12گھنٹے کی تلاش کے بعد کوئی لاش یا کوئی زندہ شخص نہیں نکالا جاسکا۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے کہاکہ انتہائی دور دراز اور ناقابل رسائی علاقے تک امدادی سرگرمیوں کے لئے بھاری مشینری پہنچا دی گئی ہے ، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ایک ٹیم بھی برفانی تودہ گرنے کے بعد علاقے کی طرف جاچکی ہے۔
ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ برفانی تودہ ہفتے کی صبح گرا اور امکان ہے کہ اس میں دبنے والے فوجی اس وقت آرام کررہے تھے۔
بھارت اور پاکستان گلیشیئر پر فوج رکھنے کے لئے بھاری اخراجات برداشت کررہے ہیں۔
بھارت مبینہ طور پر سیاچن میں تعیناتی پر روزانہ 40ملین روپے سے زائد ﴿8لاکھ امریکی ڈالر﴾ خرچ کرتا ہے جس میں اضافی اجرت اور بونس شامل نہیں۔
ماہرین قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ بھارت کے پانچ ہزار فوجی گلیشیئر پر موجود ہیں جبکہ پاکستان کے فوجیوں کی تعداد اس کے نصف سے بھی کم ہے ، شدید سردی اور انتہائی بلندی کی وجہ سے جنگ سے زیادہ ہلاکتیں موسم کے باعث ہو جاتی ہیں۔
برفانی اور زمینی تودے گرنے سے کشمیر میں اور افغانستان کے ہمسایہ پاکستانی پہاڑی علاقوں میں سڑکیں اکثر بند رہتی ہیں جس سے مقامی لوگ الگ تھلگ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
فروری میں کشمیر کے پہاڑوں میں16بھارتی فوجی اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب فوجی کیمپوں پر دو برفانی تودے آن گرے تھے۔
کشمیر پر برطانیہ سے 1947ئ آزادی کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان میں تین میں سے دو جنگیں ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کا آخری ون ڈے کل کھیلا جائے گا