امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

مضرصحت برتن

موجودہ دورمیں شائد ہی کوئی انسان ہوجسے صحت کے مسائل کاسامنانہ ہوورنہ ہرشخص خرابی صحت کے باعث روزانہ کئی اقسام کی ادویات استعمال کرتاہے،ملاوٹ اس قدر عروج پرہے کہ ادویات کے خالص ہونے کابھی کوئی بھروسہ نہیں رہا،بیماریاں بھی ایسی ایسی ایجادہوچکی ہیں جن پرادویات کچھ اثرہی نہیں کرتیں،مہنگائی کایہ عالم ہے کہ دل کے امراض کے علاج کیلئے گردے فروخت کرنے کی نوبت آن پہنچتی ہے،ترقی یافتہ دورمیں جہاں جدیدسہولیات نے انسانی زندگی میں آسانیاں پیداکی ہیں ونہی بے شمار پیچیدگیاں بھی پیداہوچکی ہیں،پلاسٹک نے بھی انسانی زندگی میں بے شمارآسانیاں پیداکی ہیں پرانسانی لالچ اور بے احتیاطی نے پلاسٹک کونہ صرف انسان بلکہ روح زمین پر بسنے والی تمام ترمخلوقات کی زندگی کیلئے خطرہ بنادیاہے،دنیابھرکی طرح پاکستان میں بھی ویسٹ پلاسٹک یعنی استعمال شدہ پلاسٹک کودھوکر پگھلانے کے عمل سے گزاراجاتاہے یاکریش کرکے استعمال شدہ پلاسٹک کودوبارہ استعمال میں لاکر بہت ساری ایٹمزتیارکی جاتی ہیں،یہ ویسٹ پلاسٹک کچرے کے ڈھیروں،گٹروں،سیوریج کے گندے نالوں،اسپتالوں کے فضلے سمیت ہر قسم کی گندگی سے چناجاتاہے،ویسٹ پلاسٹک مارکیٹ میں نئے پلاسٹک کے مقابلے میں بہت کم قیمت پر دستیاب ہوتا ہے،اکثر کارخانہ دار تھوڑے زیادہ منافع کے لالچ میں اسے نئے پلاسٹک میں مکس کرکے ایسی ایٹمزتیارکرتے ہیں جن کااستعمال انسانی صحت اورزندگی کیلئے انتہائی خطرناک ہے،پلاسٹک کے برتن جن میں جگ،گلاس،پیلالی،کپ،پلیٹ یہاں تک کہ بچوں کے فیڈراوراُن میں استعمال ہونے والے نیپل تک شامل ہیں،یہ سارے برتن ہرگھرکی ضرورت ہیں،بدقسمتی اورغربت کے سبب استعمال شدہ پلاسٹک سے تیارہونے والے مضرصحت برتن ہرگھر میں پہنچ چکے ہیں،عام طورپرلوگ اس حقیقت سے آگاہی نہیں رکھتے کہ بازارمیں دستیاب کھانے پینے کے استعمال میں آنے والے پلاسٹک کے برتنوں میں زیادہ ترمضرصحت ویسٹ پلاسٹک کے بنائے جاتے ہیں،یہ برتن زیادہ تر غریب طبقے استعمال کرتے ہیں جبکہ نئے پلاسٹک کے اندرویسٹ پلاسٹک مکس کرکے تیار ہونے والے برتن بھی مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں،انتہائی فکرکی بات ہے کہ مضرصحت پلاسٹک کے برتن تقریباًہرگھر،ہردفتر،ہرکارخانے خاص طورپرمہمان خانوں میں استعمال ہورہے ہیں،ہرکام کی ذمہ داری حکومت پرنہیں ڈالی جاسکتی،اس سے قبل کہ حکومت ان مضرصحت برتنوں کی روک تھام کیلئے موثراقدامات اُٹھائے ہمیں ازخودنوٹس لیتے ہوئے ایسے برتنوں کی خریداری بندکردینی چاہیے،مضرصحت پلاسٹک سے تیارکردہ سستے برتن خریدکرہم لوگ جوبچت کرتے ہیں وہ مہنگے ترین علاج معالجہ پرخرچ ہونے والے پیسوں سے بہت کم ہوتی ہے،احتیاط علاج سے بہتر ہے لہٰذاتھوڑی سی بچت کی خاطراپنی جیب،صحت اورزندگی کے ساتھ ناانصافی کرنے کی بجائے برتن خریدتے وقت اس بات کاخاص خیال رکھیں کہ برتن کسی مضرصحت موادسے تیارکردہ نہ ہوں ورنہ تھوڑی سی بچت نہ صرف آپ سے آپ کی جمع پونجی بلکہ آپ کی صحت اورزندگی بھی چھین سکتی ہے

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker