تازہ ترینکالم

بڑ ے لو گ کیوں بڑ ے ہو تے ہیں ،

کچھ با تیں بس ادا ہو تی ہیں اور اثر چھو ڑ جا تی ہیں ، پرو فیسر اختر اما م رضوی مر حوم کہا کر تے تھے کہ کہیں ادبی محفل میں بے دل ہی چلے جا ؤ مگر تم لوٹ کے خا لی نہیں آ و گے ، بلکل ٹھیک کہا گیا ہے، ثبو ت بھی ہے ، اس کے لیے یہ ایک شعر
دو مثا لیں جہاں اندر
اک حقیقی اک مجا زی
جانا ہو ا کہ ایک ادبی محفل میں ، پر وگرام اسپین کے شہر با ر سلو نا میں منعقد کیا گیا تھا ،پر وگرام تھا ایک لکھا ری کی کتا ب رونما ئی کا ، کتا ب کا نام خو ابوں سے لپٹی کہا نیا ں اور لکھنے والی محتر م روبینہ فیصل ، اس پر گرا م کے شر وع میں چند مقا می شعرا ء اکرام نے اپنا کلا م پیش کیا ، جب یہ کہا گیا کہ مقامی شا عر کلا م سنا ئیں گے تو را قم نے سو چا میں کا نوں میں روی ڈا لنے کے لیے تو لا یا نہیں بھو ل گیا ہو ں اور خو د سے کہہ رہا تھا اب بھگتو، سا تھ کہنے وا لے خا فظ احمد صا حب نے کہا کہ شر کا ء پر یشا ن نہ ہو ں ، ہم وقت کی پا بندی کر یں گے ، یہ سن کر تھو ڑا حو صلہ ہو ا ، مگر سا تھ با ت یہ ذ ہن میں آ ئی کہ ہر پر وگرا م میں ایسے ہی کہا جا تا ہے ، خیر ، امید بہا ر رکھ ، خو د کو کہہ کے آ رام سے ہم بیٹھ گے ، شا عر آ ئے انہوں نے کلا م شر وع کیا ، یہ جب شعر کا نوں میں پڑ ھا
چو ستے خو ن ہو غر یبوں کا
یہ تیرا کا روبار ہے صا حب
یہ الفا ظ سنے تھے کے چو نک سا گیا اور سر نیچے کیے کا فی دیر سے بیٹھا تھا اک دم سر اوپر کیا اور کہا یہ آ ج کے دور میں وہ بھی یو رپ میں جالب جیسا کہاں سے آ گیا ، سا منے دیکھا تو بلکل نو جو ان شا عر ، اپنا کلا م سنا رہا تھا ، پورا کلا م ہی مز ے کا اور سبق آ مو ز تھا ،یہاں جگہ کم تب شا مل نہیں کر رہا ، اس کے بعد تھو ڑی دلچسپی پیدا ہو ئی ، خا فظ صا حب نے اگلے شا عر کا جب نام لیا تو سو چ کہ اس طر ح پڑ ھے لکھے لو گ اسپین میں رہا کہ اپنے ادب سے وابستہ ہیں تو ان کو مقا می کہہ کر نا انصا فی کی گئی ہے ، شا عر کا نام پر وفیسر آ فتا ب شیخ ، جب یہ نا م سنا تو پکا یقین ہو گیا کہ اب اور مز ے کی شا عر ی کا نوں تک پہنچنے وا لی ہے ،
اگر ترا شا ، مگر ترا شا
تعصب کی زہر یلی آ ند ھیوں میں
کٹھن فکر کا سفر تراشا
کفر وہ ہو گا کہ دل کے بت میں
میر ے سوا جو صنم ترا شا
ایسی شا عر ی ہو اور علا قہ یو رپ ہو سا تھ پر دیس تو قا رئین ہما رے بہت سمجھدار ہیں ، پر وفیسر آ فتا ب شیخ صا حب سے بات ہو ئی تو را قم نے عر ض کی کہ جنا ب آ پکی شا عر ی میں عربی ، فا رسی ٹچ بھی ملا تو کہنے لگے کہ علا مہ اقبا ل کی شا عری کا فی حد تک ہم سمجھ نہیں سکے کیوں کہ ہم کو فا رسی نہیں آ تی تو میں نے سو چا کہ اپنی شا عری میں اس طر ح عر بی اور فا رسی کے الفا ظ استعمال کیے جا ئیں کہ الفا ظ زیا دہ مشکل بھی نہ ہوں اور شعر سمجھ بھی آ جا ئے ۔ با ت بلکل بجا ہے ،مگر ہما رے وطن عز یز میں سیا ست کے انتے رولے ہیں کہ ادب اداب سب بھو لے بیٹھے ہیں ، پر وگرام کا دوسرا حصہ شر وع ہو ا ، جس میں خو ابوں سے لپٹی کہا نیاں کتا ب کے بارے ذکر تھا ، روبینہ فیصل نے بہت مختصر وقت میں کتا ب کے با رے اور جو سوال پیدا ہو تا کہ آ نے والی نسل کو ہم اپنے کلچر اور ادب کے ساتھ کیسے وا بستہ کیے رکھیں ، دونوں پر انہوں نے بہت فا ئد ہ مند با تیں کےءں ، اس کتا ب میں ان کہا نیوں کو شا مل کیا گیا جس میں خو اتین پر ظلم کیے جا تے ہیں اور اس کو برابری کا حق نہیں دیا جا تا ، سا تھ کہا کہ بے شک چھو ٹے موٹے پر وگرام ہی کیوں نہ ہوں یہ ادب سے وا بستگی قا ئم رکھنے میں مد د گا ر ثا بت ہوں گے ، ہما ری نئی نسل کو تن ہی پتہ چلے گا کہ ہما را ادب ، ہما را کلچر ہے کیا ، اگر بڑے اس سے دوری اختیا ر کر یں گے تو آ گے کیا امید یں لگا ئی جا ئیں ، ایک بات جو رو بینہ فیصل کی بہت عہد ہ لگی اور یہ با تیں ہی فر ق دیتی ہیں کہ بڑ ے لو گ بڑ ے کیوں ہو تے ہیں ، مو صو فہ نے شر کا ء پر نظر ڈا لی اور کہا کہ میں آ ج سے سا ت سا ل پہلے اردو کا نفر نس کے لیے اسی ملک میں ائی تھی تب ہما رے سفر میں یہاں سے ایک صا حب ہما رے ساتھ تھے ، ان کا با ت کر نے کا انداز ایسا تھا کہ پو رے سفر ہم بو ر نہیں ہو ئے مگر میں آ ج اس پر وگر ام میں اداس ہوں کے اس شخص کا ذ کر کر تے ہوئے مجھے سا تھ مر حوم ان کے لیے بو لنا پڑا ، پر وگرام وقت پر ختم ہو ا ، یہ روایت اگلے پر وگر ام میں آ نے کے لیے ہمت پیدا کر تی ہے ،ورنہ اکثر ہو تا یہ ہے کہ پر وگرام تا خیر سے شروع ہو تا ہے اور تا خیر سے ہی اختتام پذ یر ہو تا ہے ، واپسی پر آ تے ہو ئے پر فیسر اخترامام مر حو م بہت یا د آ ئے اور خو د سے افسو س کہ ان کی چند با تیں ہی پلے باند ھ سکا ہو ں ۔ کچھ با تیں بس ادا ہو تی ہیں اور اثر چھو ڑ جا تی ہیں ، پرو فیسر اختر اما م رضوی مر حوم کہا کر تے تھے کہ کہیں ادبی محفل میں بے دل ہی چلے جا ؤ مگر تم لوٹ کے خا لی نہیں آ و گے ، بلکل ٹھیک کہا گیا ہے، ثبو ت بھی ہے ، اس کے لیے یہ ایک شعر
دو مثا لیں جہاں اندر

یہ بھی پڑھیں  قصور:سیاسی جماعت "روشن پاکستان لیگ "کے سربراہ جاوید محمود 14 اگست کو پرچم کشائی کریں گے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker