بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

کرنسی فیڈرز اور انصاف

رواں ہفتہ کے آغاز پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے اہم اور بنیادی مفادِ عامہ کے متعلق دائر درخواستوںکی سماعت اور احکامات صادر کئے۔سپریم کورٹ کے سابق جج وجیہہ الدین احمد اور قاضی حسین احمد کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں فشن شوز اور دیگر پروگراموں کی ذریعے فحاشی پھیلائی جارہی ہے جنہیں بند کیا جائے۔اس مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔عدالت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی﴿پیمرا﴾کے چئرمین پیمرا عبدالجبار کو کہا ہے کہ اس ضمن میں کوئی دبائو ہے تو عدالت کو بتایا جائے اور ایسے ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی کی جانے کی ہدایت بھی کی گی عدلیہ کا فحاشی کے خلاف سنجیدہ اور تیز تر اقدام عوام میں قدر کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
بلاشبہ اکثر و بیشتر ٹی وی پروگرامز کی وجہ سے ہماری معاشرتی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہونا باعث تشویش ہے۔سنسنی خیز،فحاش،ماردھاڑ پر مبنی ٹی وی پروگرامز کا ناپختہ ذہنوں پر انتہائی مضر اور پورے سماج پر خطرناک اثرات نمودار ہونا قابلِ توجہ امر ہے۔دہشت گردگروہ ایک منظم سازش کے تحت ایسی فلمیں اور ڈاکومنٹریز مختلف چینلز سے چلوا رہے ہیں جن کی وجہ سے ذہنی انتشار،جرائم کی جانب رجحان ،اخلاق باختہ افعال اور بے راہ روی پروان چڑھ رہی ہے۔آج ہمارے معاشرہ میں جو معاشرتی ناہمواری پائی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے قتل و غارت، اغوائ،ڈاکہ زنی،چوری،سینہ زوری،بھتہ خوری،بے شمار مافیاز از قسم قبضہ مافیا،بھتہ مافیا،ڈرگ مافیا،لینڈ مافیا،چوہدراہٹ مافیا اور ان کا مرکب و منبع دہشت گرد مافیاکا جن سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان تمام بے اعتدلیوں کا بنیادی سبب الیکٹرانک میڈیا کی بے احتیاطی اور مجرمانہ غفلت ہے۔جو کسی بھی صورت میں انتہائی پُر خطر حالات کی نشاندھی کر رہی ہے۔
ملک کے اکثر و بیشتر کیبل آپریٹرز پابندی کے باوجود ممنوعہ چینلز بلا خوف و خطر چلا رہے ہیں اور اس کی کاروباری مفاد پر مبنی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ وہ ناظرین کے پر زور اصرار پر ایسے چینلز چلانے پہ مجبور ہیں ورنہ ان کا کاروبار ٹھپ ہونے کا اندیشہ ہے۔ایک بات جو ہماری حکومت کے لئے لائقِ توجہ ہے کہ بھارت سمیت دیگر ممالک جو دہشت گردی کے خلاف ہمیں نشانہ بنا رہے ہیں اگر تاریخ سے انصاف کیا جائے تو بالخصوص بھارتی فلموں کی کثرت دہشت گردی کی کھلی تعلیم و تر بیت دے رہی ہیں ۔بعض اطلاعات کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کے تربیت کا رنو خیز ذہنوں کو اشتعال انگیزبنانے میں بھارتی فلموں کے ایسے کلپزدکھاتے ہیں جن سے ان کے مکروہ عزائم کو آکسیجن ملتی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ عالمی دنیا سطحی وجوہات کو پیش ِ نظر رکھ کر ہمیں نشانہ بنارہی ہے جبکہ عالمی میڈیا دہشت گردی میں کھلا ملوث ہے۔
حالانکہ دہشت گردی کی رغبت اور اس کے فروغ میں بے شمار پروگرامزاس کا بین ثبوت ہیںبد قسمتی سے ہمارے ملک میں آئے روز دہشتگرد کارروائیوں کا تسلسل الیکٹرانک میڈیا کی اسی غفلت کا نتیجہ ہیں۔
ان معاشرتی عدمِ توازن سے پیدا شدہ حالات کا تقاضہ ہے کہ فرد سے لیکر ہر سطح کے ذمہ داران پوری یکسوئی کے ساتھ آنے والی نسلوں کو تباہی سے بچانے کے لئے عملی کر دار ادا کرے۔مذہبی ،سیاسی ،سماجی اور صحافتی تنظیموں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔روپے پیسے کی مکروہ لالچ میں ملوث سماج دشمنوں کی حوصلہ شکنی اور سماج کی بر بادی میں شامل ایسے گرہوں اور افراد کو کیفر کر دار کیا جانا از بس لازم ہے۔ عدلیہ بے شمار محاذوں پر مصروفِ عمل ہے۔بالخصوص سیاسی معاملات نے عدلیہ کو کئی ایسے ایشوز میں الجھائو میں ڈالا ہوا ہے جس سے تعمیری فکر مفقود دکھائی دے رہی ہے۔تاہم ان تمام حالات کے باوجود عدلیہ کا تاریخی کردار لائق تحسین رہے گا۔معاشرتی بے راہ روی کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کا زیر تذکرہ کردار قابل قدر ہے۔عوام عدلیہ سے یہی توقع رکھتی ہے کہ ان کے بہتر مفادات کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ وقت زیر کار لایا جائے تاکہ ہر شہری انصاف کے ثمرات سے مستفید ہو سکے۔ایسے نان ایشوز جن کا مفاد عامہ سے کم تعلق ہے ان کو ثانوی حیثیت دی جائے ۔انصاف کے حصول میں اب بھی بے شمار رکاوٹیں ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بر سبیل تذکرہ ایک نقطہ کو بطور مثال پیش کرتا ہوں کہ اگر کسی کی گاڑی چوری ہو جائے اور خوش قسمتی سے چور سمیت بر آمد بھی ہو جائے تو گاڑی کے مالک کو گاڑی کی قیمت سے ذیادہ اس کی حوالگی کے پروسس پر اخراجات محض قانوں کی مشگافیوں کے سبب اٹھانا پڑتے ہیں۔انگریز تو 65برسوں سے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا مگر اس کا بنا ہوا قانون ہمارے لئے عذابِ جان ہے۔خدا راہ پولیس گردی ،وکیل مافیا اور کرنسی فیڈرز قانونی پروسس سے قوم کو نجات دلائی جائے ۔یقینا ایسے اقدامات سے عوام میں حقیقی عدل و انصاف کے ثمرات عدلیہ کی نیک نامی ،حب الوطنی،انسان دوستی اور ہر پہلو سے ممتاز کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گی۔امید کے سائے میں قوم توقع رکھتی ہے کہ ایسے تاریخی فیصلے جن سے ہر سطح کی خرابیوںکا ازالہ اور روشن مستقبل کی راہ ہموار ہووہی عدلیہ کی آن و شان ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں  طالبان کے خلاف آپریشن،جلدبازی نہیں حکمت و بصیرت کی ضرورت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker