بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

حرمت رسولﷺ پر جان بھی قربان ہے

گزشتہ چند دنوں سے پورے عالمِ اسلام میں ہمارے پیارے رسولﷺ کی توہیں پر بنائی گئی فلم کے ردعمل میں پُرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔امریکہ میں اسرائیلی شیاطین کے مکروہ عزائم یوٹوب کے ذریعے بے نقاب ہوتے ہی لیبیا،مصر،یمن ،پاکستان،افغانستان سمیت تمام مسلم ممالک میں شدید ردعمل شروع ہوا۔لیبیا میں امریکی سفیر کو واصلِ جہنم بھی کر دیا گیاجبکہ دیگر ممالک میں امریکہ کے خلاف نفرت آمیز ردعمل جاری ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل کے 300بااثر شخصیات نے اس فلم کے لئے باقاعدہ فنڈنگ کی اور امریکی یہودی نے اس ہتک آمیز فلم کو تیار کیا بعد ازاں عربی زبان میں اسے ڈبنگ کر کے سوشل نیٹ ورک ’’یو ٹوب‘‘ پر لوڈ کیا گیا۔
مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ،اس سے قبل بھی درجنوں بار مختلف انداز سے اسلام کے بارے ہتک آمیز حرکات کی جاتی رہیں ہیں۔بھی قران الحکیم کی بے حرمتی ،کبھی قران الحکیم کو جانے کے اقدام اور کھبی اللہ اور رسولﷺ کے بارے توہین آمیز ریمارکس ریکارڈ پر ہیں۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود مسلم اُمہ نے صبر سے کام لیتے ہوئے مرتکب افراد تک کارروائی محدود رکھی تاکہ بین المذاہب تصادم پیدا نہ ہونے پائے مگر مسلمانوں کے اس عمل کو کچھ حلقوں میں کمزوری سمجھا گیا۔اب کی بار امریکہ کے ہوش اس وقت ٹھکانے آئے جب اس کے سفیر کی درگت کی گئی اور وہ جہنم رسید ہوا۔
حیران کن بات تو یہ ہے کہ آج تک کسی مسلمان نے کسی بھی مذہب کے پیشواء یا کسی مذہب کی مْقدس کتاب کی توہین تو درکنار بلکہ ان کے مذہبی رسومات تک مداخلت نہیں کی۔عیسائی اور یہودی جانتے بھی ہیں کہ ان کے نبیوں حضرت عیسیٰ ؑ ،حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت داود ؑ کے بارے کوئی مسلمان توہیں کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ ان انبیاء کرام کا ذکر قران الحکیم میں ہے اور ان کی رسالت پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے لئے بنیادی شرط ہے۔یہاں تک کہ کسی ایک بھی رسول کے بارے شک تک کرنے سے مسلمان ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔
ایسے شیطانی کام کرنے والے دراصل بڑے دہشت گرد ہیں جو دنیا کا امن تباہ کرنے کے لئے مختلف انداز سے بھیانک سازشیں کرنے سے باز نہیںآتے ہیں۔مسلمانوں نے دیگر مذاہب کے بارے بھی اخلاقی رویات برقرار رکھی ہیں ۔بھارت میں 30سے40کروڑ مسلم آباد ہیں آج تک کہیں بھی کسی مندر،گردوارے یا چرچ اور ان کی مقدس کتب کے بارے کبھی بھی توہین آمیز حرکت نہیں کی ۔پاکستان میں بھی اقلیتی مذاہب موجود ہیں ان کے مذہبی سرگرمیوں کو کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔یہ سب امریکہ اور اسرائیل کے اردگرد شاتم رسول ﷺ پیدا ہوتے رہے اور ان کا مقصد یہی رہا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر کے قیام امن کی کوششوں کو سبوثاز کیا جائے۔
یہ امر خوش آئیند ہے کہ امریکی صدر نے ان فلم سازوں کے خلاف کارروائی کے لئے حکم جاری کیا ہے مگر مسلم اُمہ کو چاہئے کہ وہ ان سب بد کرداروں کی حوالگی کے لئے امریکی حکام پر زور دیں تاکہ ان کا ٹرائل بجائے واشنگٹن ،طرابلس،قائرہ،یمن ،کابل یا اسلام آباد میں کیا جائے ۔اس اقدام سے جو بین المذاہب نفرت پیدا کی گی ہے اور جس سے بڑا تصادم ممکن ہے اس سے بچا جا سکے۔جہاں تک لیبیا میں امریکی سفیر کی ہلاکت کا مسئلہ ہے اس ضمن میں امریکہ کو اس کے بقول قاتلوں کی حوالگی کا مطالبہ رد کر کے توہین رسالتﷺ کے مرتکب افراد کی حوالگی پر دباؤ بڑھایا جائے۔اس طرح آئندہ کوئی بھی ایسی جرات رندانہ کرنے کا مرتکب نہیں ہو گا۔اگر اس معاملہ کی سنگینی کا احساس نہ کیا گیا تو پھر امریکیوں کا چلنا پھرنا مشکل تر ہو جائے گا۔
ان شیاطین صفت عناصر کو سمجھ آجانی چاہئے کہ کوئی مسلمان حرمت رسولﷺ پر ذرا بھر بھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہو سکتا۔ایسی بے شمار مثالیں تاریخ میں موجود ہیں کہ حرمت رسولﷺ پر جان قربان کرنے والوں نے ذرا بھر رعایت نہیں کی ۔ماضی قریب میں راج گوپال کو ایک عام آدمی ’’غازی علم دین شہید‘‘ اور حال ہی میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثر کو ایک نچلے درجے کے پولیس ملازم ممتاز قادری نے جہنم رسید کر کے جان کی پرواہ تک نہیں کی ۔ایسے علم دین اور قادری بے شمار ہیں جو چن چن کر توہین رسالت ﷺ کے مرتکب شیاطین کو واصلِ جہنم کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔لہذا دنیا کو باخبر رہنا چاہئے کہ کسی مذہب کے رہبر و رہنما کے بارے توہین آمیز کلمات و حرکات کے نتائج موت کے سوا کچھ نہیں۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اکثر ممالک میں ان کے پیروکاروں کے بارے توہین کرنے والوں کے لئے سزائے موت رکھی گئی ہے مگر ہمارے پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے عالمی قانون خاموش ہے ۔مسلم اُمہ کو چاہئے کہ عالمی قوانین میں گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت کا قانون رکھے جانے کی باقاعدہ تحریک کرنی چاہئے تاکہ آئند ہ کوئی بھی ایسی شیطان صفت حرکت سے باز رہے۔امید کی جاتی ہے کہ عالم اسلام میں پائے جانی والی کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے امریکہ انصاف پر مبنی اقوام اٹھائے گا۔اگر اس نے طاقت کے زور سے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی ناکام کوشش کی تو پھر حرمت رسولﷺ پر کوئی بھی مر مٹنے کے سواء کسی اور آپشن کو قبول نہیں کرئے گا۔حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر امریکی سفیر کو طلب کر کے حالات کی سنگینی سے آگاہ کرئے اور مذکورہ اسلام دشمن فلم کو یوٹوب سے ہٹانے کے علاوہ مرتکب افراد کو کڑی سزا دئے جانے کا فیصلہ کرئے۔یقینی طور پر حکومت پاکستان کے اس دلیرانہ موقف کی نا صرف پاکستانی عوام بلکہ پورے عالم اسلام میں پذیرائی ہو گی اور امریکہ کے خلاف پائے جانے والے شکوک و شبہات بھی ماند پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  جعلی بینک اکاؤنٹس کیس: ای سی ایل میں شامل افراد کی فہرست جاری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker