بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

آمدہ انتخابات ۔۔۔۔۔۔۔۔ میچ فیکسنگ

امیرِشہر نے کا غذ کی کشتیاں دے کر
سمندر کے سفر پہ روانہ کیا ہمیں

آج کل اہم موضوعات میں سرِ فہرست عام انتخابات کے انعقاد کی باز گشت مسئلہ ہر مجلس و محفل میں زیرِ بحث ہے۔عام انتخابات کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ کون بنے گا مقدر کا سکندر؟یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نگران حکومت فروری تک تشکیل پا سکتی ہے اور عام انتخابات مئی2013ء تک ہونگے جبکہ نئی منتخب حکومتبھی مئی 2013 تک بن جائے گی۔سیانے کہا کرتے ہیں کہ تخم سے پتہ لگتا ہے کہ درخت کیسا ہوگااب اسی تخم یعنی بیج کی قسم و نسل کو دیکھتے ہیں کہ مستقبل میں کیا عوام پھل پھول اور سائے سے مستفید ہو گی یا ماضی و حال کا رونا دھونا جاری رہے گا۔
کچھ لوگ آئندہ عام انتخابات کے نتائج پر خوش فہم ہیں اور کچھ غلط فہمی کا شکار ہیں ۔ ذرا ہماری عوام کے بہی خواہ صبر سے اپنے دامن کو ملاحظہ کریں ۔سب سے پہلے یہ جائزہ لگاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے سربرہ عمران خان المعروف سونامی خان کس سیڑھی پر پہنچ پائے ہیں ؟ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کے مطابق عمران خان کو مجموعی طور پر 10 سے 15فی صد پذیرائی حاصل ہو سکے گی ممکن ہے کہ شہری حلقوں میں یہ تناسب دوگنا ہو لیکن دیہی علاقوں میں امیدوار ہی مل جائے تو بڑی با ت ہو گی۔ اس بری خبر پر پی ٹی آئی والوں کو غصہ آئے گا لیکن یہ معصوم عوام کی بد قسمتی ہوگی اور ان کی غلط فہمی کا پیشگی ازالہ ضروری بھی ہے۔یہ شک بھی حقیقت بن سکتا ہے کہ ن لیگ سمیت حکمران اتحادیوں نے اکٹھ کر لیا تو عمران خان سمیت ان کے قصوری ،ملتانی اور شیر راولپنڈی حیران کن طور پر چت ہو سکتے ہیں۔اب یہ پلانیگ کی بات ہے جو اندرونِ خانہ تخم ریزی کے مراحل سے گذر رہی ہے۔
ایسا کیوں عمران خان کے ساتھ ہوگا؟ یہ واضح حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں مختلف رنگ و روپ میں چند طاقت ور خاندانوں کا دور دورہ رہا اور آئندہ بھی ان کے اثرات موجود رہیں گے۔ان خاندانوں کو شکست دینا نا ممکن رہا اور آئندہ بھی مشکل تر ہے۔تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو آپ کو یہی خاندان ہر دور میں مہکتے و چمکتے نظر آئیں گے۔سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے حصار کو توڑنا ایک خواب تو ہو سکتا ہے مگر حقیقت نہیں ۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ اس پر ذرا سی گستاخی کرتے ہیں۔جاگیر دار،سرمایہ دارجسے ایلیٹ کلاس کہا جاتا ہے اور اشرافیہ سے موسوم بھی ہے جو کل آبادی کا 2فی صد ہے اس نے سول سوسائٹی کے نام سے ایسا گروہ بنا رکھا ہے جن کا ہماری انتظامیہ ،مقننہ سمیت تمام فیصلہ ساز اداروں تک بھر پور رسائی اور عمل دخل موجو د ہے۔جہاں میچ فیکسنگ ہو وہاں شائقین لطف اندوز تو ہو سکتے ہیں مگر کچھ کر نہیں سکتے۔عوام بے چاری ایسی مخلوق ہے جسے جمہوریت اور کبھی آمریت کے نام پر لوٹا گیا مگر لٹیروں نے کبھی بھی ان بے زبانوں پر رحم نہ کھایا ۔اس بہتی گنگا میں ہمارے مذہبی پیشواؤں نے بھی اپنے ہاتھ رنگنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ماضی قریب میں دیکھیں ۔۔۔۔۔۔1977ء میں نظام مصطفے ﷺ کے نام پر تحریک چلانے والوں نے قوم کو آمریت کی شکل میں لوٹا۔بے نظیر بھٹو کے دور میں 14کروڑ روپے لیکر اسلامی جمہوری اتحادبنانے والے کون تھے؟ المیہ تو یہ ہے کہ اب ماضی کی غلطیوں کے تسلسل سے امریکہ کو اس قدر نفوز مل چکا ہے کہ کسی بھی تبدیلی کا انحصار پینٹا گون کی مرضی کے مغائر ممکن نہیں،تو پھر کسی انقلاب کی بات کرنا دیوانے کی بھڑ ہو سکتی ہے۔
آج کل الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے شور سنا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ خریدے جا رہے ہیں۔یہ کوئی انہونی بات نہیں ،ماضی میں تو میڈیا پر بے شمار پابندیاں لگائیں جاتیں رہیں اور من پسند پروگرام ہوتے رہے بلکہ میڈیا کو گروی رکھا جاتا رہااس وقت اتنا شور شرابہ نہیں سنا گیا۔آج میڈیا آذاد ہے اور اس مقابلے کے دور میں ہر ایک کو میدان میں اترنا چاہئے۔جہاں تک میڈیا کے بکنے کا الزام ہے تو جناب !سچی بات کڑوی سہی ۔۔۔۔ناراض نہ ہونااور نہ ہی برا منانا،صحافی کوئی ایسی مخلوق نہیں جن کو نہ دن ،نہ رات آرام میسر ہے اور نہ ہی گھریلو زندگی نصیب ہوتی ہے۔ہمہ وقت قوم کی فکر رکھنے والوں کا پیٹ بھی ہوتا ہے ۔دنیا میں کون سا کام بغیر سرمائے سے چلتا ہے اگر کوئی محسن تعاون کر جائیں تو اس کو ایشو بنا دینا اچھی بات نہیں۔رہی یہ بات کہ ہونا کیا ہے اس کا رونا دھونا میڈیا پر نہ نکالا جائے۔جیسی عوام ویسے حکمران ہوتے ہیں۔عوام کو جب تک شعور ی طور پر تیار نہیں کیا جاتا تب تک انقلاب کی راگنی فضول بحث ہے۔
انتخابی حالات پر موضوع کا آغاز کیا گیا تھا اب اسی طرف غور کرتے ہیں۔پی ٹی آئی کی بات تو طے ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہونا ہے ، دوسری جماعتوں نے بندربانٹ کر کے پھر مفاہمتی فارمولے کے مطابق حکومت بنا لینی ہے۔ہاں ایک خطرہ منڈلا رہا ہے کہ اگر امریکہ بہادر کو ہماری جمہوریت راس نہ آئی تو حکمرانی کی شکل بدل سکتی ہے مگر عوام وہیں کی وہیں رہے گی۔ البتہ ایک اور موومنٹ متوقع ہے ۔23دسمبر کو تحریک منہاج القران کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری کی لاہور آمد ہو رہی ہے جس کے لئے بڑے پیمانے پر تیاریاں جا رہی ہیں ۔ان کا نعرہ ’’ سیاست نہیں ریاست‘‘ ہے جس کے پس پردہ آمریت کی بو آ رہی ہے ۔مگر جمہوریت پسند قوتیں متحرک ہیں جو ان کی مہم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔بہرحال زیادہ خوش فہمی اچھی نہیں ہوتی لہذا رو دھو کر عوام کو ان ہی چہروں سے واسطہ پڑے گا جو ماضی سے مسلط چلے آرہے ہیں۔بہرحال ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ جمہوری اقدار پنپ رہی ہیں اگر وطن عزیز میں تسلسل سے انتخابی عمل جاری رہا تو بیلٹ سے بہتر تبدیلی آنے کے روشن امکانات ہیں۔تمام سیاسی قوتوں کو چاہئے کہ وہ آمدہ انتخابات کو شفاف اور غیر جانب دار بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کریں ۔ووٹر فہرستوں کو غلطیوں سے پاک کرنے کے لئے بھرپور انداز سے ان کی نظر ثانی کا عمل یقینی بنایا جائے۔جمہوریت کا مغز ووٹ ہے جس کا استعمال آذادانہ ہونا ضروری ہے۔اس بارے سیاسی قوتوں کو سنجیدہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔محض اپنی ناکامی چھپانے کے لئے بے جا الزام تراشی سے پرہیز کیا جائے۔ہمارے ملک میں جمہوریت کا پودہ ابھی جوان نہیں ہے ۔بھیڑ بکریوں اور درندوں سے اسے بچانا سب کا فرض ہے اگر اب بھی کوتائی کی گئی تو پھر اغیار کی غلامی سے بچنا مشکل ہو جائے گا۔ہماری اشرافیہ کو بھی خدا کا خوف کرنا چاہئے ۔عوام نانِ شبینہ کے لئے درپدر ہیں ،مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے ،اگر عوام کو زیرِ بار رکھا گیا تو پھر اغیار کی سازشیں روکنا مشکل ہونگی۔قومی مفاد کا تقاضہ ہے کہ آئین و قانون کی عمل داری ، جمہوری استحکام اور درپیش مسائل کا حل یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  حکومتی اورطالبان کمیٹی کے درمیان آج ملاقات نہیں ہوگی،پروفیسرابراہیم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker