امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

بیٹی اللہ تعالیٰ کی رحمت

نیک اور صالح ا ولاد اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اور اسی نعمت کے دم قدم سے ہی زندگی کا احساس ہوتا ہے ۔اُولاد سے ناصرف انسان بلکہ جانور اور پرندے بھی بہت زیادہ محبت کرتے ہیں ۔اُولاد کی چھوٹی چھوٹی خو شیاں زندگی کے بڑے بڑے غموں اور مصیبتوں کو پس پشت ڈال دیتی ہیں ۔ بچہ جب پہلی بار آنکھ اٹھاکر والدہ کی طرف دیکھتا ہے تو والدہ اس بات پر بہت خوش ہوتی ہے ۔بچے کا والد جب شام کوکام سے گھر واپس آتا ہے تو بڑے فخراور مسرت سے اسے بتاتی ہے کہ آج بچے نے پہلی مربتہ میرے چہرے کو غور سے دیکھا ہے ۔اب یہ ہمیں پہچاننے لگ گیا ہے ۔ اسی طرح بچے کے رینگنے ،بولنے اور چلنے کے درمیان بھی بہت سی باتیں ہیں جو والدین کے لیے خوشی کے ایسے لمحات بن جاتیں ہیں ۔جن کا دنیا میں کوئی بھی خوشی متبادل نہیںہوسکتی۔ بچوں کی میٹھی میٹھی باتوں،ننھی ننھی شرارتوں اورمسکراہٹوں پر والدین خوشی اور فرحت سے پھولے نہ سماتے ہیں۔والدین کے لیے اپنے بچوں سے ایک پل کی دوری بھی قیامت سے کم نہیں ہوتی خاص طور پر ایک مسلمان معاشرے میں بیٹی کو نظروں سے اوجل نہیں ہونے دیا جاتا لیکن بندگی کے ایسا آتا ہے جب ہاتھوں مجبور اپنے خُدا تعالیٰ اور نبی کریم (ص)کا حکم مانتے ہوئے والدین اسی بیٹی کوبالغ ہونے پربڑے اہتمام کے ساتھ ساری زندگی کے لیے اپنے گھر سے رخصت کردیتے ہیں۔والدین ایسا کرکے نہ صرف اپنے فرض سے سبکدوش ہوتے ہیں۔بلکہ نبی کریم(ص) کی حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے اپنی بیٹی کی پرورش اچھے طریقے سے کی اور پھر اس کے بالغ ہونے پر بغیر دیر کئے اس کی شادی کردی اس کے لیے جنت ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیک وکار ہے ،ایک جگہ اور فرمایا کہ نیک اُولاد صدقہ جاریا ہے ۔لیکن اگر یہی اُولادنیک نہ ہو تو انسان سے اس کا ایمان چھین کر اسے جہنمی تک بنا دیتی ہے ۔اُولاد کے لیے والدین کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایسی محبت رکھی ہے جس کی مثال نہیں ملتی اسی لیے ہر حال میں والدین اپنی اُولاد سے محبت کرتے ہیں۔ قارائین محترم اس بات میں تومسلمان شک نہیں کرسکتا کہ انسان کے دل میں دوسروں کے لیے محبت صرف اللہ تعالیٰ ہی ڈالتا ہے ۔ اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اُولاد جیسی نعمت سے محروم رہتے ہیں ۔اور اگراس نعمت کی قدر پوچھنی ہے تواس نعمت کی صحیح قدر ان لوگوں سے پو چھیے جو اس نعمت سے محروم ہیں اور جن کی ساری زندگی اس نعمت کی تمنا کرتے گزر گئی ہو۔انسان جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے ۔انسان سمجھتا ہے کہ محنت کے بل بوتے پردنیا جہان کی بہت سی نعمتیں حاصل کرلیتا ہے ۔حقیقت میں سب قدرت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اور سب اسی کی بادشاہی ہے ۔جسے جو چاہے عطا کردے ،جسے جو چاہے عطا نہ کرے۔دنیا کی کوئی شے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور عطا نہیں کرسکتا ،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کچھ عطا کرسکتا تو وہ سیدھے راستے پر نہیں ہے ۔قارائین اولاد اس کائنات کی خوبصورت ترین نعمت ہے اللہ تعالیٰ سب کو یہ نعمت عطا فرما ئے اور صحیح معنوں میں اس کی قدر کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔قدرسے میری مراد یہ ہے اللہ تعالیٰ جن کو نعمت اولاد سے نوازے وہ بیٹوں اور بیٹیوں میں کسی بھی قسم کی تفریق نہ کریں کیونکہ ہمارے یہاں زیادہ تر لوگ بیٹیوں کو کمتر سمجھتے ہیں ۔بیٹیوں کی پرورش کرتے وقت سوچتے ہیں کہ یہ تو پرائی ہیں انہوں نے تو شادی کے بعد کسی دوسرے گھر چلے جانا ہے ۔ان کو زیادہ پڑھانے لکھانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ارے بے وقوف انسان ذرا غور کر اگر تیری بیٹی نے بیاہ کر دوسرے گھر جانا ہے تو تیرے گھر بھی تو کسی کی بیٹی نے آنا ہے۔اگر تو اپنی بیٹی کوپڑھا لکھاکر باشعور بناکر کسی کے گھر بھیجے گا توپھر تیرے گھر آنے والی بہو بھی پڑی لکھی اورباشعور ہوگی جوتیری آنے والی نسل کواس دنیا میں سراٹھا کرجینے کے گرُ سکھائے گی ۔اگر تو اپنی بیٹی کو تعلیم سے محروم رکھتا ہے تو پھر پڑی لکھی بہو کی ڈیمانڈ کیوں کرتاہے۔افسوس سد افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میںلڑکے اور لڑکی میںتفریق کی فرسودہ رسم نے پھر سے جنم لے لیا ہے ۔جس کی چودہ سو سال پہلے نبی کریم (ص)نے جڑیں اکھاڑکر مسلمانوں کو بیٹی کی عزت وتعظیم کا حکم دیتے ہوئے فرمایاکہ﴿ترجمہ﴾تم اپنی اولاد کے درمیان مساوات کروتم اپنی ا و لاد میں عدل سے کام لواپنی ا و لاد میںعدل وانصاف سے کام لو۔ چنانچہ قرآن کریم کے اس حکم اورنبی کریم(ص)کی اس رہنمائی کو بموجب تاریخ کی ابتدا اورہر زمانے میں والدین نے اپنی ا ولاد کے سلسلہ میں اس بنیادی نقطہ نظر کو سامنے رکھا جس نے عدل مساوات ‘محبت والفت ورحم اور برابری کا سبق دیا تاکہ لڑکے اور لڑکیوں میں کوئی امتیاز اور تفریق نہ برتی جائے ۔یعنی اسلام میں مسلمانوں کوبیٹے اوربیٹی کی پرورش بلا امتیاز کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ اسلامی معاشرے میں جووالدین آج بھی لڑکی کی نسبت لڑکے سے امیتازی سلوک روا رکھتے ہیں ۔اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایسے والدین مسلمان ہونے کے باوجود،وہ دور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ایسے لوگ اسی گندے اور فاسد معاشرے کی پیداوار ہیں جس کی کڑیاں دور جہالت سے جا ملتی ہیں۔جن کو گھٹی میں ہی وہ عادات ملی ہیں جن کا اسلام کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں موجودہ دور میں ہم پڑھے لکھے،باشعور، ویل ڈریس،بزنس ،سوسائٹی،الغرض کہ ہم نے اپنا گھر بار، رہن سہن ،طورطریقے،میل ملاپ ہر چیز بدل لی ہے اگر نہیں بدلی تو ہماری سوچ نہیں بدلی بیٹے اور بیٹی میںفرق

یہ بھی پڑھیں  چونیاں:بارایسوسی ایشن الیکشن ،چوہدری سرفراززکی صدر،اشفاق کھوکھر جنرل سیکرٹری منتخب

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker