انور عباس انورتازہ ترینکالم

بطور وزیر اعظم نواز شریف کا انتخاب محمود خان اچکزئی کا صائب ہدایت نامہ

anwar abasیہ میاں نواز شریف جانتے ہیں یا ان کا اللہ کہ جب وہ پاکستان کے ستائسویں وزیر اعظم کی حثیت سے پاکستان سے وفاداری کا حلف لے رہے تھے ۔اس وقت ان کے دل میں کیا تھا؟ان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔ لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت میاں نواز شریف اپنے خالق اور پروردگار کی ذات کا لاکھ لاکھ شکر بجا لارہے ہوں گے کہ اس نے چودہ برس قبل جس متکبر جنرل نے اسے جس منصب سے اٹھا کر پس دیوار زنداں پھینکا تھا ۔وہ آج ان کے حلف اٹھانے کے مقام سے کچھ فاصلے پر ہی قید میں ہے۔اور میرے تیسری بار اسی عہدے کا حلف اٹھانے کا منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوگا۔برحال یہ بھی طے ہے کہ اگر جنرل مشرف کو بیرون ملک جانا ہے تو اب انہیں اپنے سابقہ قیدی (نواز شریف ) سے ہی مکالمہ کرنا ہوگا۔ان کے روبرو ہی اپنی معافی کی درخواست گذارنی وگی۔ اگر کوئی این آر او ہونا ہے تو وہ نواز شریف اور جنرل مشرف کے مابین ہی ہونا ہے۔میاں نواز شریف کی اسوقت کی کیفیت کا اندازہ بھی لگانا ابھی مشکل ہوگا کہ جب جنرل مشرف اپنی معافی کی درخواست کے ساتھ میاں نواز شریف کے حضور دست بستہ حاضر ہوں گے تو میاں نواز شریف کی ذہنی اور جسمانی کیفیت کیا ہوگی۔یہ بات بھی طے ہے کہ عدالتوں سے جنرل مشرف کو کسی قسم کے ریلیف ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔جو کچھ ہوناہے میاں نواز شریف اور انکے رفقائے کار کے ہاتھوں سے ہونا ہے۔میں بات کر رہا تھا وزیر اعظم نواز شریف کی وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد انکی پہلے تقریر کی تو میں اسے انتہائی محتاط تقریر کہوں گا۔
میاں نواز شریف نے ڈرونز حملوں کے بند ہونے کی دو ٹوک بات کی تو ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ڈرونز حملے کرنے والوں کی شکایات کے ازالے کا بھی ذکر کیا ہے ۔باقی انہوں نے پاکستان اور اس کے عوام کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے اپنے انتخابی وعدوں کا اعادہ کیا۔مجھے تو وزیر اعظم کی تقریر سے زیادہ جناب محمود خاں اچکزئی کی تقریر زیادہ اہمیت کی حامل نظر آئی ہے۔جو انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر کے جواب میں انہیں مبارکباد دینیاور خیر مقدمی کلمات کہنے کے لیے کی تھی۔امین فہیم کی جانب سے نواز شریف کے ہمرا یجنسیوں کو مبارکباد دینے کو کسی نے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔البتہ محمود خان اچکزئی کی تقریر کو پارلیمنٹ میں موجود تمام حلقوں نے انتہائی سنجیدگی سے نہ صرف سنا ہے بلکہ اسے میاں نواز شریف کے لیے ایک ’’ ہدایت نامہ‘‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔اگر نواز شریف نے ان کے ہدایت نامے کو سنجیدگی سے لیا اور ان پر عمل بھی کیا تو نواز شریف نے واقعی مشکلات سے سبق لیا ہے اور اگر محمود اچکزئی کی باتوں کو ادھر سے سنا اور دوسرے کان سے نکال دیا تو پھر نہ صرف جمہوریت کا مستقبل غیر محفوظ ہو سکتا ہے بلکہ ملک کی قومی سلامتی بھی خطرات سے دو چار ہونے کا احتمال ہے۔خاص طور پر محمود اچکزئی کی تقریر کا یہ حصہ میاں نواز شریف کے لیے اتہائی قابل غور اور لائق توجہ ہے۔کہ’’ملک کی سیاست سے ایجنسیوں کا کردار ختم ہونا چاہئے ۔اور ماضی کی غلطیوں کا شریفانہ انداز میں اصلاح کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ پاکستان کی سیاست میں افواج اور خفیہ اداروں کا کردار نہیں ہونا چاہئے۔محمود اچکزئی نے زور دیکر نواز شریف پر واضع کیا کہ جنرل مشرف کا احتساب کرنا ہے تو پھر جنرل مشرف کا ساتھ دینے والے سب افراد کا احتساب کیا جائے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ 1999 سے 2007 تک جنرل مشرف آئین کو پامال کرنے والا تنہا نہیں تھا۔گویا محمود خان اچکزئی یہ کہہ رہے ہوں یا انکا مطلب یہ ہو کہ ’’اس کے اپنے ادارے ،سیاستدانوں اور ججوں اور صحافیوں نے اسکا ساتھ دیا ۔اسے پاؤں پر کھڑا ہونے میں معاونت فراہم کی ہے ۔ان سب کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے چاہئے اس کی زد میں ججز جرنیل صحافی اور سیاستدان ہی کیوں نہ آتے ہوں۔اگر ایسا نہیں کرنا تو پھر مشرف ڈرامہ بند ہونا چاہئے۔‘‘ اس اکیلے کو ذیلی و خوار نہ کیا جائے کیونکہ اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔محمود خاں اچکزئی نے جہاں آئین کو پامال کرنے والواں کے لیے سخت احتساب کرنے کی بات کی ہے وہاں انہوں نے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے آمروں کے غیر جمہوری اور آئین کو اپنے بھاری بوٹوں تلے روندنے والے جنرلوں کے اقدام کی توثیق نہ کرنے والے ججوں کے اہل خانہ کے روبرو انکے جراتمندانہ اقدام کا اعتراف کیا جائے اور انہیں انکی بقیہ تنخواہوں کی ادائیگی کا انتظام بھی کیا جائے ۔اسی طرح محمود خان اچکزئی نے پاک فوج کے سابق چیف جنرل جہانگیر کرامت کے اس استعفی کا بھی اعتراف کرنے کی بات کی جو جنرل جہانگیر کرامت نے 1998نیوزیر اعظم کی اتھارٹی کو تسلیم کرتے ہوئے انکے احکامات پر اپنا استعفی انہیں پیش کر دیا تھا۔
مشرف کیس کے حوالے سے میاں نواز شریف کو انتہائی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوگی اور پھونک پھونک کر قدم آگے کی جانب اٹھانا ہوگا۔کیونکہ اگر زرا سی بھی بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا گیا تو ممکن ہی نہیں اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ملکی اداروں میں ٹکراؤ ہوجائے۔ اورایک بار پھر ملک عزیز غیر جمہوری تاریکی کے اندھیروں میں ڈوب جائے۔کچھ مبصرین،دانشور اور سیاسی تجزیہ نگار اس خدشہ کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ میں نواز شریف کے گرد’’ٹی ٹی سی سروس‘‘ اپنا نیٹ ورک قائم کر چکی ہے۔یعنی کہ ملک کے معروف خوشامدی گروپس میاں نواز شریف کی قربت حاصل کرنے کا شرف پاچکے ہیں اور وہ اپنے جلوے دکھانے ہی والے ہیں۔جس کے باعث نواز شریف انکی ’’ میں ہوں ناں‘‘ کے جادو کے اثر کے تحت کچھ کمال دکھا سکتے ہیں۔جو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پہلے سے موجود غیر جمہوری اور غیر سیاسی عناصر بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
ہماری تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ محنت کرنے ،جیلوں کی سختیاں جھیلنے والیاور جانی و مالی قربانیاں دیکر ملک عزیز کو جمہوریت کی پٹری پر واپس لانے والے پیچھے رہ گے اور تی ٹی سی سروس والے مراعات اور فائدے اٹھا لے جاتے رہے ہیں۔میاں نواز شریف کا یہ بھی امتحان ہوگا کہ وہ ابتلا کے دور میں جو ان کے ساتھ کھڑے رہے اور آمریت سے لڑتے رہے ہیں ان کو انکا مقام دیتے ہیں یا پھر ٹی ٹی سی سروس(خوشامدی عناصر) کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر انہیں اپنی مہربانیوں سے نوازتے ہیں؟ note

یہ بھی پڑھیں  دپیکا پڈوکون سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ بن گئیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker