تازہ ترینطارق حسین بٹکالم

۔،۔ بے بسی ۔،۔

یہ سچ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار پر قبضے کیلئے ہمیشہ ہی اپنے من پسند گھوڑ ے میدان میں اتارے لیکن یہ اس زمانے کی بات ہے جب اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں انتظامی امور کی سر نجام دہی کیلئے ۵۸ ٹو بی کی دو دھاری تلوار بھی ہوا کرتی تھی۔ جنرل ایوب کا زمانہ اس لحاظ سے بالکل مختلف ہے کہ اس زمانے میں آئین صدارتی تھا اور سارے اختیارات جنر ل محمد ایوب خا ن کی مٹھی میں بند ہو تے تھے لہذا اس سارے ڈرامے میں وزیرِ اعظم کا منصب ہی نہیں ہوتا تھا اسی لئے تو عوامی شاعر حبیب جالب نے کہا تھ اکہ ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتا۔ ۱۹۷۳ ؁ کے آئین کے بعد پارلیمانی جمہوریت کا نیا دور شروع ہوا جس میں وزیرِ اعظم سارے اختیارات کا منبہ ٹھہرا اور صدر علامتی طور پر سر براہِ مملکت بنایا گیا جس طرح کی پوزیشن اس وقت دنیا کے سب سے جمہوری ملک بھارت میں صدر کی پوزیشن ہے۔جنرل ایوب خان کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول جنرل ضیا الحق کے ہاتھ میں آیا کیونکہ اسی نے ہی تو ذولفقار علی بھٹو کی آئینی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس نے آئی ایس آئی کے زیرِ کمان ایک نئی اسٹیبلشمنٹ تشکیل دی جس میں فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح سارے اختیارات جنرل ضیا الحق کی ذات میں ضم ہو گئے تھے۔ جنرل ضیا الحق کی الم ناک موت کے بعد جنرل مرزا اسلم بیگ اس کے جانشین ٹھہرے ۔ انھوں نے اگر چہ مارشل لاء کا نفاذ کر کے اقتدار پر قبضہ تو نہ کیا لیکن آرمی چیف کی حیثیت سے ان کے کسی بھی حکم سے سرتابی کرنا اور اختلاف کرنا وزیرِ اعظم کے لئے ممکن نہیں تھا۔ جنرل مرزا اسلم بیگ کا آرمی چیف،غلام اسحاق خان کا مسندِ صدارت ، اورمیاں محمد نواز شریف کا پنجاب کی وزارتِ اعلی پر فا ئز ہو جانا اسٹیبلشمنٹ کی بے پناہ قوت کا مظہر تھا۔ آئی ایس آئی، صدارتی محل اور پنجاب کا ٹرائیکا سارے ملکی معاملات کے فیصلے کرتا تھا اور وزیرِ اعظم ایک خاموش تماشائی کی طرح بساط کے ان طاقتور مہروں کے سامنے بالکل بے بس ہو تا تھا۔ ۵۸ ٹو بی کی تلوار سر پر لٹک رہی ہو تو ا سٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کی جرا ت کون کر سکتا تھا؟ یہی وجہ تھی کہ ۱۹۸۸ ؁ کے انتخابات میں پی پی پی کی شاندار فتح کے باوجود اسے اقتدار منتقل نہیں کیا جا رہا تھا۔ بہت سے تحفظات کے بعد اقتدار پی پی پی کے حوالے کیا گیا اور وہ بھی بہ امر مجبوری اور پھر صرف اٹھارہ مہینوں کے بعد اگست ۱۹۹۰ ؁ میں اسے اقتدار سے چلتا کیا گیا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ پی پی پی کی حکومت سے نا خوش تھی۔ پی پی پی کی حکومت کو فارغ کرنے کے بعد انتخابات میں دھاندلی کے منصوبے پر عمل در آمد نے اسٹیبلشمنٹ کی بے پناہ قوت اور طاقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔پی پی پی ایک بے بس جماعت کی حیثیت یہ سارا کچھ برداشت کرتی رہی لیکن منہ سے کچھ نہ کہہ سکی کیونکہ اس سے پہلے وہ اسٹیبلشمنت سے ٹکر لینے کی پاداش میں اپنے قائد ذولفقار علی بھٹو کی قربانی دے چکی تھی۔
صدرِ پاکستان غلام اسحاق خان اور سر دار فاروق احمد خان لغاری کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی کا یہ ڈرامہ بڑی کامیابی کے ساتھ دھرایا جاتا رہا اور اسٹیبلشمنٹ اپنی من پسند حکومتوں کی تشکیل کے معجزے سر انجام دیتی رہی۔ ۱۹۹۷ ؁ کے انتخابات میں میاں محمد نواز شریف کی دو تہائی اکثریت سے کامیابی نے پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کے اندر نئی صف بندیوں کا اشارہ دیا ۔ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرا مت کی سبکد وشی ایک نئی اسٹیبلشمنٹ کے قیام کا اعلان تھا جسے قدیم ا سٹیبلشمنٹ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ ؁ کو جنر ل پرویز مشرف کا اقتدار پر شب خون اس نئی اسٹیبلشمنٹ کو ملیا میٹ کر کے پرانی اسٹیبلشمنٹ کی بحا لی کا عزم تھا جسے میاں محمد نوز شریف نے ماننے سے انکار کر دیاتھا اور یوں اس بغاوت کے نتیجے میں دس سالہ جلاوطنی میاں برادران کا مقدر بنی۔ جنرل پرویز مشرف نو سالوں تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک رہے اور آئی ایس آئی اور اسٹیبلشمنٹ باہم رضا مندی سے سارے فیصلے کرتے رہے ۔ ۲۰۰۲ ؁ کے انتخابات کے بعد جنرل پرویز مشرف کی قائم کردہ نئی جماعت مسلم لیگ (ق)کی حکومت تشکیل کی گئی اور یوں ان کے اپنے دورِ حکومت میں تین وزرائے اعظم بدلے گئے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ فیصلے کر نے کا مکمل اختیار جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں میں تھا اور وہی سارے فیصلے کیا کرتا تھا تبھی تو اس کی نئی تخلیق شدہ جماعت مسلم لیگ (ق) اسے وردی میں سو بار صدر منتخب کروانے کا اعلان کیا کرتی تھی۔مسلم لیگ(ق) کی قیادت کو علم تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے پاس ریاست کی ساری طاقت ہے لہذا ا سکی مخالفت کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہو گا ۔ مسلم لیگ(ق) کی قیادت نے جنرل پرویز مشرف کی ہاں میں ہاں ملا کر جمہوریت کا جنازہ نکال دیا لیکن اپنے اقتدرا کی راہیں مسدود نہ ہونے دیں۔وہ اسے اپنی سیاسی چابکد ستی پر معمول کیا کرتے تھے کیونکہ اس طرح وہ ا قتدا ر کی غلام گردشوں کا حصہ بننے یں کامیاب رہے تھے ۔۔۔
فروری ۲۰۰۸ ؁ کے انتخابات میں جنرل پرویز مشرف کی جماعت مسلم لیگ (ق) کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور پی پی پی ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ آصف علی زرداری نے میاں محمد نواز شریف کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھا یا اور سید یوسف رضا گیلانی متفقہ طور پر ملک کے نئے وزیرِ اعظم چنے گئے۔جنرل پرویز مشرف ابھی تک قصرِ صدارت میں جلوہ افروز تھے لیکن ستمبر ۲۰۰۸ ؁میں جنرل پرویز مشرف کی صدارتی محل سے رخصتی کے ساتھ ہی آصف علی زرداری نئے صدر منتخب ہو کر قصرِ صدارت میں مسند نشین ہو گئے تو اسٹیبلشمنٹ کی ساری طاقت بھی ہوا میں تحلیل ہونی شروع ہو گئی۔ صدرِ پاکستان کی حیثیت سے آصف علی زرداری کا انتخاب ملک میں جمہوریت کے استحکام اور اس کی بقا میں بنیادی عنصر کی حیثیت بھی رکھتاہے اور اس کے تسلسل کا ضامن بھی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کے دور میں کسی سیاسی جماعت کے قائد کا صدرِ پاکستان بن جانا پہلی دفعہ ہوا تھا لیکن یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو بڑا دور رس نتائج کا حامل تھا اور اس فیصلے نے پاکستانی سیاست پر بڑے گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ صدارتی محل سے اپنی سازشوں کا آغاز کیا کرتی تھی جس کی واضح مثال غلام اسحاق خان اور سردار فاروق احمد خان لغاری تھے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میان محمد نواز شریف کی تینوں حکومتیں انہی صدور کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی تھیں لہذا ضروری تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو شکست دینے کیلئے صدر کے عہدے پر کسی ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جاتا جو مضبوط اعصاب کا مالک ہو اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کو سمجھنے اور انھیں ناکام بنانے کاشعور، جرات اور ہمت رکھتا ہو اور اس منصب کیلئے آصف علی زرداری سے زیادہ کوئی اس کا اہل نہیں تھااور انھوں نے اپنی فہم و فراست اور اول ا لعزمی سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اس منصب کے اہل ہیں۔ان کے اندازِ حکمرانی،سیا سی سیاسی سوچ، فکر اور فلسفے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس بات پر پوری قوم متفق ہے کہ آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کو بے بس کر کے رکھ دیا ہے۔
ابتدائی چند سال تو اسٹیبلشمنٹ نے صبر کے ساتھ گزار لئے لیکن جیسے جیسے پی پی پی کی اقتدار پر گرفت مظبوط ہو تی گئی اسٹیبلشمنٹ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی ۔ملکی معاملات میں اس کی آوازمددھم پڑتی گئی اور یہی وہ مقام تھا جہاں پر پی پی پی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رسہ کشی کا آغاز ہوا۔ میمو گیٹ سکینڈل اور این آر او کے مقدمات میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی تا کہ انھیں صدارت سے نا اہل قرار دے کر چلتا کیا جائے اور یوں اسٹیبلشمنٹ کو ایک دفعہ پھر گل کھلانے کے مواقع میسر آ جائیں ۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے جس دانش مندی سے اسٹیبلشمنٹ کو ناکوں چنے چبا نے پر مجبور کر دیا ہے وہ ان کی سیاسی بصیرت کا نقطہ کمال ہے۔ میمو گیٹ سکینڈل تو اپنی موت آپ مر چکا ہے اور این آر او پرعدالتی فیصلہ بھی جگ ہسا ئی کا سامان فراہم کررہا ہے لہذا مجھے کہنے دیجئے کہ اسٹیبلشمنٹ کو منہ کی کھانی پڑ ی ہے ۔ انتظامی معاملات میں تو اسٹیبلشمنٹ کی بے بسی دیکھی جا سکتی ہے لیکن فوجی جنتا کے پاس شب خون کا جو آخری حربہ ہے اسے بھی پی پی پی ، مسلم لیگ (ن) اور کچھ سکہ بند جمہور ی سیاسی جماعتوں کی باہمی رضا مندی اور اتحاد نے کند کیا ہوا ہے۔ فوجی جنتا کے حواری صبح شام فوجی جنتا کو آوازیں دے رہے ہیں کہ خدارا اس حکومت کی چھٹی کروا کے اقتدار کو اپنے ہاتھوں میں لے لیجئے کیونکہ ملک سنبھالنا موجودہ حکومت کے بس میں نہیں ہے لیکن لگتا ہے کہ ان سکہ بند حواریوں کی آواز بھی نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو رہی ہے کیونکہ غیر آئینی طریقے سے حکومت کی رخصتی کو کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔یہ سچ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے حواریوں کے پاس بے رحمانہ حکومت کرنے کا بڑا لمبا تجربہ ہے اور معصوم اور بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کا بڑا نادر نسخہ بھی ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ پاکستانی عوام ان جغاریوں کو جمہوریت کا قاتل تصور کرتے ہیں اور انھیں حکومت کرنے کے اہل نہیں سمجھتے۔فروری ۲۰۰۸ ؁ کے انتخابات نے عوام نے ان کے ساتھ جو رویہ روا رکھا تھا اس کی روشنی میں تو انھیں سیا ست کو خیر باد کہہ دینا چائیے تھا لیکن وہ بھی کسی ڈھیٹ مٹی کے بنے ہو ئے ہیں لہذا فوجی مدا خلت کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے اپنے کارڈز کھیلنے سے باز نہیں آرہے لیکن ہمیشہ کی طرح شکست ان کا مقدر ہوگی کیونکہ پاکستان کے عوام جمہوریت سے محبت کرتے ہیں اور ان کے سازشی چہروں کو بڑی اچھی طرح سے پہچانتے ہیں ۔مسائل سے کسی کو بھی انکار نہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ غیر آئینی طریق کو اختیار کیا جائے اور جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے۔جمہوریت غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کا نام ہے اور آگے بڑھنے کے اس سفر کو جاری و ساری رہنا چائیے کہ یہی سازشی عناصر کی موت کا پیغام ہے اور جمہوریت کی جیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ساہیوال: انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات 7 مئی سے شروع ہوں گے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker