بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

بے بس عوام کا درد

bashir ahmad mirیوں تو رواں ہفتے وزیر اعظم کا بیرون ممالک دورہ ،طالبان کی دھمکی ، جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ ،تحریک انصاف کا نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنا ملتوی ،افغان صدر کا طالبان کو جرگے میں دعوت سمیت بہت سے موضوع زیر نظر ہیں،سانحہ راولپنڈی پر لکھا جا چکا ہے۔اب کی بار عوامی مسئلہ کو زیر قلم کر رہا ہوں ،چونکہ مسئلہ نمبر ایک یہی ہے۔میاں برادران کی عوامی حکومت آتے ہی عوام یہ توقع کر بیٹھی تھی کہ ان کے روز شب میں تبدیلی لائی جائے گی مگر عوام بے حد مایوسی میں پھنستی دکھائی دے رہی ہے۔بہرحال پھر بھی عوام کسی مسیحا ۔۔۔۔۔۔کی تلاش میں منتظر حال ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ زرداری صاحب نے جمہوری ریل کو پٹری سے اترنے نہیں دیا مگر عوام کی بد دعاؤں نے انہیں ملک کا نہیں ۔۔۔۔۔چھوڑا،اب میاں صاحب آپ کی باری۔۔۔۔ ہے ،اللہ کرئے کہ آپ سرخرو نکلیں۔۔۔۔۔۔ مگر جو بیج بویا ۔۔۔۔۔جارہا ہے اس کا پھل ۔۔۔۔۔اب میٹھانظر نہیں آتا۔مہنگائی نے نہ جانے کیوں ڈیرے پکے ڈال رکھے ہیں۔۔؟؟؟آگ کہیں اور بھڑکتی ہے ،جھلسنا ہمارا مقدر بنا ہوا ہے۔
کتنے مردہ خواب پڑے ہیں
میری زندہ آنکھو ں ؂ میں
حیران کن امر یہ ہے کہ پانچ جون سے اب تک ٹماٹر چالیس روپے سے بڑھ کر ایک ستر روپے تک روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں حالانکہ امسال وطن عزیز میں ٹماٹر کی پیداورآٹھ لاکھ ٹن ہوئی ہے،اسی طرح پیاز چھبیس روپے سے ستر روپے فی کلوچھو رہے ہیں،یہی نہیں بلکہ روز مرہ ضرورت کی اشیاء جن میں چاول ایک سو پینتس سے ایک سو پچاس،آلو چوبیس سے ایک سو ،لہسن پچہتر سے ایک سو دس،چینی باون سے ستاون روپے،ادرک دوسو سے دوسو پچاس روپے،مٹر ایک سو سے ایک سو اسی روپے فی کلو گرام تک پہنچ چکیں ہیں۔اسی طرح دالیں،سبزیاں اور دیگر اشیاء ضروریہ کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ جمعہ،اتوار اور منگل بازارو ں میں سکہ بند مہنگائی نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ذخیرہ اندوز اور منافع خورعناصر عوام کی چمڑی ادھیڑنے کے لئے پل بھر بھی نہیں رکتے،ہر ماہ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کئے جانے والے ردوبدل کے بہانے عام اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا جاتا ہے ،پرائس کنٹرول کمیٹیاں بے اثر اور انتظامیہ بے خبر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی میں مگن ہے۔اگر یہی صورت حال جاری رہتی ہے تو آئندہ چند ماہ کے دوران مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ سکتا ہے جو حکومت کے لئے مشکلات کا سبب بن جائے گا۔
ہمارے قومی ادارے جن کے قیام کا مقصد قومی ترقی ،عوامی فلاح بہبود اور منافع بخش نتائج دینا ہے وہ اپنی ساکھ کھو رہے ہیں،اطلاعات کے مطابق پی آئی اے روزانہ دس کروڑ روپے کا خسارہ کر رہی ہے،جبکہ چائے کی غیر قانو؂؂نی تجارت سے قومی خزانے کو پچاس کروڑ
روپے کی پھکی دی جا چکی ہے،اسی طرح دیگر ادارے جن میں واپڈا ،ریلوے،سٹیل ملزکی کارکردگی سوالیہ نشان بنتی جاری ہے۔
عوام کو نان ایشوز میں لگا کر معاشی بحران پیدا کرنے کی سازش ہو رہی ہے،ملک دشمن عناصر مذہبی،سیاسی انتشارکو ہوا دے رہے ہیں،تاکہ جذبات کو اچھال کر ملکی سلامتی کو پارہ پارہ کردیا جائے۔
آخر ان حالات کا مقابلہ کیسے ممکن ہے۔۔۔؟؟؟خلیفہ اول امیر المومینین سیدناحضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب امارت کا قلمدان سنبھالا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنا اعزازیہ ایک عام محنت کش کی مزدوری کے برابر مقرر کرنے کی ہدایت کی،اس پر بیت المال کے خازن نے اصرار کیا کہ بطور امیر آپ کے اخراجات بہت زیادہ ہونگے لہذا نظرثانی کی جائے،فرمایا کہ ’’جب اخراجات زیادہ ہوئے تو پہلے مزدور کی مزدوری میں اتنا ہی اضافہ کروں گا جتنا مجھے درکار ہوگا‘‘تو جناب عرض یہ ہے کہ ہمارے حکمران کیا مزدور کی ضرورتوں سے آگاہ ہیں۔،؟؟ آج بھی ہمارا مزدور محنت کشی کے تناسب سے کئی گنا کم مزدوری لے رہا ہے،وجہ ظاہر ہے کہ جب قومی خزانہ ایک طبقہ کا اسیر ہو جائے تو عوام کی سوچ کسے ہو گی۔جب تک حکمران از خود نہیں بدلیں گے تب تک اصلاح ممکن نہیں۔
وزیراعظم میاں نواز شریف سے عوام کی بڑی توقعات وابستہ ہیں،انہیں رب العالمین نے بڑا انعام عطا کیا ہے کہ وہ تیسری بار اس ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں،تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی،آپ کا ہر قدم ،ہر لفظ،ہر ادا عوام اور تاریخ دان دیکھ رہے ہیں،آپ اس خداوندی انعام کو ضائع نہ ہونے دیں،ہزاروں سال کی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں،یہی سمجھیں کہ آج کا دن اللہ نے جو مہلت دی ہے اس کا تصرف عوام کی خاطر کیا جائے،اگر یہ سوچ راسخ ہوگئی تو آسو فی صد کامیاب ہونگے۔حکمرانوں کو ان کے مزاج خراب کرنے میں مصاحبین کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے،جن میں ان کے اردگرد پارٹی کے وفادار اور آفسرشاہی کے ’’رنگباز‘‘نمایاں ہوتے ہیں۔انہی کرم فرماؤں نے آپ کو دو مرتبہ ڈسا ہوا ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی قریب میں بھٹو شہید کو تختہ دار تک پہنچانے میں یہی مہربان طبقہ ساتھ ساتھ رہا،ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں ،آپ کو جس اعتماد سے عوام نے چنا ہے اب آپ اس مخصوص حصار سے نکل کر اپنی سوچ سے انقلابی اقدامات کریں،عام شہری کی زندگی بدلینے کا سوچیں جس نے آپ سے بے شمار توقعات لگا رکھی ہیں،یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں کہ آپ اس پر طویل مشاورت ،کمیٹی کا قیام کریں۔سیدھا سادہ عمل ہے کہ اشیاء خورد نوش پر سبسٹڈی دی جائے،ہر ماہ پیٹرولیم مصنوعات ،بجلی کے نرخوں میں ردوبدل کا سلسلہ بند کرکے کم ازکم چھ ماہ تک کوئی نرخ نہ بدلا جائے،یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن بند کر دی جائے،کیونکہ کارپوریشن اپنی کارکردگی بہتر نہیں دکھا سکی بلکہ بلیک مارایک کیٹنگ میں اس کارپوریشن نے ایک نام کا اضافہ کردیا ہے۔نجی ملازمین جو سیکیورٹیز کمپنیوں میں پانچ سے نو ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھے ہیں ان کی تنخواہ کم از کم پندرہ ہزار مقرر کی جائے نیز دیگر شعبوں میں بھی درجہ بندی کے تحت تنخواہ میں ضروریات زندگی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے،پرائیویٹ سیکٹر کو جس قدر مضبوط کیا جائے وہ معیشت پر مفید اثرات کا باعث ہونگے۔بلاشبہ مسائل بہت ہیں مگر ان کی گردان کرنے سے کوئی حل بر آمد نہیں ہو گا ۔شومئی قسمت اگر عوام کی بنیادی ضرورتوں سے پہلو تہی کی گی تو خطرے کا آلارم بجنے میں بھی دیر نہیں،لوہا پہلے سے گرم ہے ،اسے مزید تپش نہ دی جائے ورنہ جو ہوگا وہ شاہد ابھی بلند و بالا ،عالی شان محلوں تک اس کی بُو نہ آ رہی ہو لیکن اس کا جال پرویا جا رہاہے۔جو ہماری نظر میں آتا ہے اسے من و عن پیش خدمت کرتے ہیں ۔آگے مرضی ہے کہ اہل کرم کیا تماشہ لگائیں گے۔
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں    note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button