تازہ ترینکالمنصرت سرفراز

بے چینی کا سبب

بہت زمانہ پہلے کی بات ہے کسی چھوٹے سے قصبے میں پانچ دوست رہتے تھے۔ پڑ ھتے پڑھاتے بڑے ہوتے گئے۔ اُن میں سے چار بڑے ذہین نکلے ۔ انہوں نے بڑے پیسے بنائے۔ کاروبار کئے۔ گاڑیاں خریدیں۔ امیرکبیر گھرانوں میں شادیاں کیں۔ غرض یہ کہ بڑی کامیاب زندگی گزارنے لگے جبکہ ایک دوست واجبی سا آدمی بنا۔ تھوڑا پڑھ لکھ کر وہ فوٹوگرافر بن گیا۔ اپنے قصبے میں ہی رہا ۔ اپنے ساتھ پڑھنے والی ایک لڑکی سے شادی کر لی۔ گزارا چلتا رہا۔ کبھی کبھی وہ اپنے کامیاب دوستوں کو فون کرلیتا تھا۔ کبھی بتاتا تھا کہ اُن کے فلاں رشتہ دار کا انتقال ہو گیا۔ کبھی کہتا کہ فلاں استاد بہت بیمار ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ شہر جانے والے دوست بھی کبھی کبھی اُس کو یاد کر تے تھے۔ جب انہیں اکٹھے ہونے کا موقع ملتا تو وہ بڑا افسوس کرتے کہ ہمارا فوٹوگرافر دوست ناکام آدمی رہا۔ کچھ کر نہیں سکا۔
ایک بار سارے کامیاب دوست اکٹھا ہوئے تو سب نے اپنی اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کیا۔ کوئی کاروباری پریشانی میں تھا ، کوئی گھریلو، کوئی اولاد کی ۔ مزید آگے بڑھنے اور مزید پیسے بنانے کی پریشانی تو سب دوستوں کی مشترکہ تھی۔ سب نے سوچا کہ چلو سارے مل کر اپنے قصبے میں چلتے ہیں اپنے قصبے کے پرانے استاد سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس پریشانی اور بے چینی کا سبب کیا ہے؟ اس بہانے اپنے پرانے (اور غریب۔) فوٹوگرافر دوست سے بھی مل لیں گے۔
سارے دوست ایک ساتھ اپنے قصبے پہنچے ۔ اپنے پرانے فوٹوگرافر دوست سے ملے۔ چھوٹے سے اسٹوڈیو میں بیٹھنے کی جگہ بھی نہ تھی بلکہ اب تو ان کے قصبے کی سڑکیں اُ ن کی گاڑیوں کے لئے بھی تنگ ہو گئیں تھی۔سب اکٹھے استاد کے گھرگئے ۔بیٹھے گپ شپ شروع ہوئی۔اپنی بے چینی کا تذکرہ کیا۔ بات چیت چل رہی تھی کہ اتنے میں چائے آ گئی۔ ملازم ایک ٹرے میں طرح طرح کے کپوں میں چائے لایا تھا۔ کچھ کپ پرچ کے ساتھ تھے کچھ بغیر پرچ کے تھے۔ کچھ بڑے شوخ رنگوں کے تھے۔ کچھ بڑے سادے سے۔ کچھ نئے نویلے چمک رہے تھے اور کچھ کی حالت خود اُن کی عمر بتا رہی تھی۔ البتہ ایک مگ کا تو ہینڈل بھی ٹوٹا ہوا تھااور کنارا بھی۔ ملازم سب کے سامنے ٹرے لے جاتا رہا اور سب ایک ایک کپ اٹھاتے گئے۔
سارے شہری دوستوں کی لاشعوری خواہش تھی کہ ان کو اچھے سے اچھا کپ مل جائے۔ سب سے زیادہ پریشان سب سے آخر میں بیٹھا ہوا دوست تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سارے افراد اچھے اور صاف ستھرے کپ اٹھا لیں گے اور آخر میں اُس کے حصے میں ٹوٹا ہو ا کپ آئے گا۔ سب سے پہلے دو شہری دوستوں نے چائے لی۔ انہوں نے نئے اور پرچ والے کپوں کا انتخاب کیا۔ پھر فوٹوگرافر دوست کی باری آئی اُس نے جھٹ سے ٹوٹا ہوا بغیر ہینڈل والا کپ اٹھا لیا ۔ چائے کا گھونٹ بھرا اور بولا : واہ ! کیا چائے ہے مزہ آ گیا۔ ساری تھکن اُتر گئی ۔
دوستوں نے حیرانی سے اُس کو اور اُس کے ٹوٹے کناروں والے کپ کو دیکھا اور زیرِلب مسکرانے لگے۔ استاد نے فوٹوگرافر شاگرد سے پوچھا : تمہارے سارے دوستوں نے اچھے اچھے کپ لئے تم نے ٹوٹا ہوا کپ لیا پھر بھی تم کو چائے سب سے اچھی لگی آخر کیوں ؟؟
فوٹوگرافر نے اپنے ٹوٹے ہوئے کپ کو دیکھا تو اُس کو اپنے دیگر دوستوں کی زیرلب مسکراہٹ کا سبب سمجھ میں آیا (جو اب مزید گہری ہو چکی تھی)۔ اُس نے بڑی بے نیازی سے کہا : استادِ محترم ۔ چائے تو سب میں ایک جیسی تھی۔ کپ سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ استاد نے سارے شاگردوں کی دیکھا اور کہا : میرا خیال ہے اب تم اپنی پریشانی اور بے چینی کا سبب سمجھ گئے ہو گے۔ تم سب نے کپ کی حالت دیکھی یہ نہیں سوچا کہ چائے سب میں ایک جیسی ہے۔ تم صرف ظاہری چیزوں کی طرف توجہ دیتے رہتے ہو اور یہی تمہاری بے چینی کا سبب ہے !!
یہی ہماری قوم کا اصل مسئلہ ہے ۔ ہمارے مسائل کچھ اور ہیں اور ہم علاج کچھ اور سمجھتے ہیں۔ ہمارے سوال کچھ اور ہیں اور ہم جواب کہیں اور ڈھونڈتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ خواندگی ہے۔ جی ہاں ۔ ہمارا مسئلہ صرف اور صرف تعلیم کی کمی ہے۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہم غربت کا شکار ہیں۔ یہی کمی ہمارے لئے معاشرتی محرومی کا سبب ہے۔ سیاسی فہم و ادراک بھلا کہاں سے آئے گا۔جو کچھ ہمیں ہمارا وڈیرا یا چودھری یا مکیا یا سائیں کہہ دیتا ہے وہی سچ لگتا ہے۔ آج کل جو ہمیں میڈیا پڑھا دیتا ہے وہی پان کی دکانوں پر، ہوٹلوں میں، بسوں میں ہر جگہ زبان زدِ عام ہوجاتا ہے۔ دوسری جماعت پاس پان والا بھی ملک کے اسٹریٹیجک معاملات پہ سرِ بازار تبصرے کر رہا ہوتاہے۔
پچھلی پڑھائیوں کا حال تو سب کو معلوم ہی ہے۔
اللہ کرے کہ اس معصوم قوم کو اسِ بار پڑھانے والے ٹھیک پڑھا رہے ہوں۔
پچھلی چھ دہائیوں کی بے چینی کس سے پوشیدہ ہے۔
اللہ کرے کہ اس قوم کو اب تو بے چینی کا صحیح علاج مل جائے

یہ بھی پڑھیں  بیداری!

یہ بھی پڑھیے :

5 Comments

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker