تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

بی بی سی کی رپورٹ اور ایم کیو ایم

zafarویسے توامن وامان کی غیریقینی صورتحال اورتوانائی بحران کے باعث ملک بھرمشکلات کی زدمیں ہے تاہم ایک عرصے سے متحدہ قومی موومنٹ سے جڑے جنم لیتے واقعات او رنظرآتے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتاہے کہ ایم کیوایم مشکلات کے بھنورمیں پھنس چکی ہے الزامات ہیں جو تسلسل کے ساتھ اس کاپیچھاکررہی ہیں۔کبھی منی لانڈرنگ کیس میں برطانیہ کی میٹروپولیٹین پولیس ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے گھرپر چھاپہ مارکروہاں سے رقم کی برآمدگی کادعویٰ کرتی ہے اور الطاف حسین کوشامل تفتیش کرتی ہے،کبھی مچھ جیل میں قید پھانسی کی سز ا پانے والا مجرم صولت مرزاایم کیوایم کی قیادت پر سنگین الزامات عائدکرتاسنائی دیتاہے،کبھی رینجرزکراچی میں ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرو پرچھاپہ مارنے پہنچتی ہے اور سینئررہنماء عامرخان سمیت متعدد کارکنوں کوگرفتارکرکے لے جاتی ہے توکبھی سیکورٹی فورسزکے اہلکار پاک افغان بارڈرسے مبینہ طورپر دوافرادکی گرفتاری عمل میں لاتے ہیں جن کاتعلق ایم کیوایم کے مقتول رہنماء ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس سے ظاہرکیاجاتاہے ۔مبینہ کارروائیوں پر مبنی مذکورہ واقعات ایک طرف تاہم 24جون کوبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے متحدہ قومی موومنٹ سمیت ملک بھرمیں تہلکہ مچادیاہے۔مذکورہ رپورٹ میں جوانکشافات کئے گئے ہیں ان میں چیدہ چیدہ یہ کہ بھارت ایم کیوایم کی مالی مددکرتارہاہے،گزشتہ دس برسوں میں ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنوں نے بھارت میں تربیت حاصل کی ہے،بھارت میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کوانتشارپھیلانے اور ہتھیارچلانے کی تربیت دی گئی ہے،مالی مددلینے کااعتراف لندن میں مقیم ایم کیوایم کے دوسینئر رہنماء 2012میں گرفتاری کے بعددوران تفتیش برطانوی حکام کے سامنے کرچکے ہیں،2005سے قبل ایم کیوایم کے سینئرکارکنوں کو تربیت کے لئے بھارت بھیجاجاتاتھابعدمیں جونیئرکارکنوں کوبھی بھیجاجاتارہاہے،جون 2013میں ایم کیوایم کے رہنماء کے گھرپر چھاپہ ماراگیا چھاپے کے دوران اسلحہ اورقم کی فہرست برآمد ہوئی۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی پیش کردہ اس تہلکہ خیزڈاکومنٹری کو اگرچہ متحدہ قومی موومنٹ یکسرمسترد کرچکی ہے سینئررہنماء واسع جلیل نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم پر الزامات عائد کرناکوئی نئی بات نہیں1990ء سے اس قسم کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔بعد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی نے بی بی سی کی رپورٹ میں عائد کردہ تمام الزامات کومستردکرتے ہوئے بیان دیا کہ ایم کیوایم ایک محب وطن سیاسی جماعت ہے،بی بی سی کی رپورٹ ایم کیوایم کے خلاف میڈیا ٹرائل کاحصہ ہے جوکہ اس کاامیج خراب کرنے کی کوشش ہے،ماضی میں بھی اس قسم کے الزامات لگائے گئے جوبعدمیں جھوٹے ثابت ہوئے ۔ دوسری جانب بی بی سی کی رپورٹ اور ایم کیوایم پر عائد کردہ سنگین الزامات کے معاملے پر قومی دھارے کے مختلف سیاسی جماعتوں کاردعمل بھی سامنے آیا۔تحریک انصاف کے رہنماء عمران اسماعیل نے زوردیاکہ وزیرداخلہ رپورٹ سے متعلق تحقیقات اور بی بی سی سے ثبوت حاصل کرکے فوری کارروائی کریں،ان کے مطابق ہندوستان سے پیسے لینے والاپاکستان کادشمن ہے۔امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ بی بی سی کی رپورٹ حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، حکمرانوں نے سیاسی مفادات کی خاطرآنکھیں،کان اورزبان بند کرکھے تھے، ان کے مطابق اب بھی دہشت گردوں کومنطقی انجام تک نہ پہنچایاگیاتویہ ملک دشمنی ہوگی۔وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ لندن میں سچ اور جھوٹ کافیصلہ ہوگاایم کیوایم کو اپنی ساکھ بچانے کے لئے عدالت جاناچاہئے صرف تردیدوں اور ٹیبل سٹوری کہنے سے کام نہیں چلے گا،الزامات سچ نکلے توثابت ہوجائے گاکہ ایم کیوایم والے ہندوستانی ہیں۔ادھر ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الظاف حسین نے بی بی سی کی رپورٹ پر شدید ردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ رپورٹ میں لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں او تمام الزامات کومستردکرتاہوں،ایم کیوایم کوختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور چاروں طرف سے سازشوں کاجال بچھایا گیاہے لیکن ایم کیوایم کوتوڑاگیانہ مجھے راستے سے ہٹایاگیا،تمام ترسازشوں کے باوجود ایم کیوایم کوختم نہیں کیاجاسکتا،پانچ سال میں ڈاکٹرعمران فاروق کے قاتل نہیں ملے پانچ سال بعد ملے توچمن بارڈرسے۔انہوں نے وزیرداخلہ چودھری نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ حقائق قومی اسمبلی میں لائیں۔انہوں نے کہاکہ چودھری نثاربرطانوی حکام کو کاغذات کی ترسیل کررہے ہیں وہ برطانوی ہائی کمشنرکواسحاق ڈار کے منی لانڈرنگ بیان سے متعلق تحقیقات کاکہیں۔ایم کیوایم کے قائد نے مزید کہاکہ ان کے وکلاء بی بی سی کی رپورٹ کاجائزہ لے رہے ہیں۔اس سے قبل برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات کے بعد وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثارنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے بی بی سی کی رپورٹ پر برطانیہ سے شواہد مانگ لئے ہیں،بی بی سی کی رپورٹ میں اہم انکشافات کئے گئے ہیں، ان کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات میں بی بی سی کی رپورٹ پر تبادلہ خیال کیاگیااور انہیں حکومتی مؤقف سے آگاہ کردیاہے، بی بی سی کی رپورٹ انتہائی اہم ہے جس کے حقائق تحقیقات کاتقاضاکرتے ہیں جبکہ یہ پاکستان کی سیکورٹی سے متعلق اہم معاملہ ہے اس کی تحقیقات کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حقائق تک ہر حال میں رسائی چاہتے ہیں اس کومنطقی انجام تک پہنچائیں گے ا وراس کے لئے برطانوی حکومت سے مدد مانگتے ہیں۔چودھری نثارکے مطابق بی بی سی کی رپورٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس نے ہمارے اندیشوں کو تقویت دی ہے کیونکہ حکومت کے پاس ایم کیوایم سے متعلق مستند رپورٹس تھیں تاہم واضح ثبوت کے بغیر انکوائری آگے نہیں چل سکتی۔انہوں نے مزید کہاکہ بی بی سی کی رپورٹ کوایم کیوایم کے ساتھ بحیثیت پارٹی منسوب نہ کیاجائے کیونکہ ایم کیوایم میں اچھے لوگ اوراچھے سیاستدان بھی ہیں یہ معاملہ چند مخصوص لوگوں سے متعلق ہے۔بہرحال ایم کیوایم اور اس کے سیاسی مخالف جماعتوں کاردعمل اپنی جگہ تاہم بی بی سی کی رپورٹ کامعاملہ بہرصورت تحقیقات کامتقاضی ہے تاکہ سچ اور جھوٹ کاپتہ چل سکے کیونکہ مذکورہ رپورٹ میں سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں جووطن عزیز کی سیکورٹی سے متعلق ہیں۔اگرچہ وزیرداخلہ نے اس معاملے میں حکومتی مؤقف کوظاہر کردیاہے لیکن حکومت کہاں تک اپنے مؤقف پر قائم رہ سکے گی اور کیابرطانوی حکومت شواہد کی فراہمی کے معاملے میں پاکستان کی مدد کرے گی کہ نہیں اس بارے ابھی کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ:معصوم بچییوں اوراپنی جان کی بھیک مانگتی مانگتی سیلابی پانی میں پھنسی مامتاایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker