اعجاز راناتازہ ترینکالم

’’ بی بی سی کے انکشافات ۔۔۔ ملکی ایجنسیاں کہاں ہیں؟‘‘

Rana Aijaz sada e waqtبھارت جو کہ روز اول سے ہی پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے اور اسکی ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں مصروف ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں انتشار اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کرکے اسکی سا لمیت کو کمزور کرنا ہے۔ اس وقت جبکہ بھارت کی مودی سرکار کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان کی سا لمیت پر اوچھا وار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی اس نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر پر بھی ہاتھ صاف کرنے کی زہریلی منصوبہ بندی کررکھی ہے جس کیلئے کنٹرول لائن پر مسلسل کشیدگی کی فضا قائم رہتی ہے، جبکہ پاکستان دشمنی میں معروف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بنگلہ دیش جا کر 1971ء کی پاکستان توڑنے کی بھارتی سازش میں خود حصہ لینے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ اسی طرح وہ خود کالا باغ ڈیم کے بعد پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، جبکہ بھارت ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان پر خودساختہ الزام کے ذریعے اقوام متحدہ کی پابندیاں لگوانے کی بھی سازش کر چکا ہے جسے گزشتہ دنوں چین نے سلامتی کونسل میں بھارتی قرارداد کو ویٹو کرکے ناکام بنایا ہے تو پاکستان کی سا لمیت کیخلاف جاری ایسی گھناؤنی سازشوں کے دوران برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے گذشتہ بدھ کے روزاپنی خصوصی رپورٹ میں مذید انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم متحدہ کو بھارتی حکومت سے مالی مدد ملتی رہی ہے۔ اس سلسلہ میں رپورٹ میں مقتدر پاکستانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متحدہ کے دو سینئر رہنماؤں نے برطانوی حکام کے روبرو بھارت سے مالی معاونت حاصل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق برطانوی حکام پہلے ہی ایم کیو ایم متحدہ کیخلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات کررہے ہیں۔ بی بی سی کے بقول متحدہ کے رہنماؤں نے یہ انکشافات باضابطہ ریکارڈ کئے گئے انٹرویوز میں کئے جو انہوں نے برطانوی حکام کو دیئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکنوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں قائم کیمپوں سے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت حاصل کی تھی۔ متذکرہ اہلکار کے مطابق 2005۔2006ء سے قبل ایم کیو ایم کے چند درمیانے درجے کے ارکان کو تربیت دی گئی جبکہ حالیہ برسوں میں متحدہ کے مزید جونیئر ارکان کو تربیت دی گئی ہے۔ برطانوی حکام نے ایم کیو ایم کیخلاف 2010ء میں اس وقت تحقیقات شروع کی تھیں جب اس پارٹی نے ایک سینئر رہنماء ڈاکٹر عمران فاروق کو شمالی لندن میں انکی رہائش گاہ کے قریب چاقو سے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ اس کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس کو لندن میں متحدہ کے دفتر اور اسکے قائد الطاف حسین کے گھر سے پانچ لاکھ پاؤنڈ کی رقم ملی جس کے بعد منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی گئی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تحقیقات کے دوران برطانوی حکام کو ایم کیو ایم کی ایک عمارت سے ہتھیاروں کی فہرست بھی ملی جس میں مارٹر گولوں اور بموں کا ذکر تھا اور انکی قیمت بھی درج تھی۔ اگرچہ بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان الزامات کی تصدیق یا تردید کیلئے بی بی سی کے نمائندے نے بھارتی ہائی کمشنر اور متحدہ کے قائدین سے کئی سوالات پوچھے مگر انکی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا جس کے بعد یہ رپورٹ جاری کی گئی ہے تاہم متحدہ کے عہدیداروں نے دوٹوک الفاظ میں بی بی سی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے متحدہ کیخلاف جاری میڈیا ٹرائل کا حصہ قرار دیا ہے۔ متحدہ رابطہ کمیٹی کی جانب سے اس سلسلہ میں ایک بیان بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم نے بی بی سی نمائندے کو جواب دینے سے ہرگز گریز نہیں کیا بلکہ انہیں تحریری طور پر وضاحت پیش کردی تھی۔ اسی طرح لندن میں مقیم بھارتی ہائی کمشنر نے بھی بی بی سی کی رپورٹ میں بھارت کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ حکومتی خامیوں کا ہمسایوں کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ متحدہ پر پاکستانی حکام کے ذرائع سے پہلے بھی اس نوعیت کے الزام لگتے رہے ہیں جن پر متحدہ کی جانب سے فوری طور پر تردید بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم اس بار یہ الزامات ایک مستند برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے اسکی تحقیقاتی رپورٹ میں عائد کئے گئے ہیں اس لئے جہاں پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے یہ صورتحال پاکستانی حکام کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ یہ حیران کن صورتحال ہے کہ متحدہ پر بھارت سے مدد حاصل کرنے کے گزشتہ دو دہایوں سے الزامات لگ رہے ہیں جس کی ابتداء 1992ء کے کراچی اپریشن سے ہوئی تھی جب متحدہ کے دفاتر سے بھارتی ساختہ اسلحہ کے علاوہ مبینہ طور پر جناح پور کا نقشہ بھی برآمد ہوا تھا جبکہ پیپلزپارٹی کے دور میں جنرل (ر) نصیراللہ بابر کی کی نگرانی میں ہونیوالے آپریشن کے دوران بھی حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے متحدہ کیخلاف ایسے شواہد سامنے لائے گئے اور ان حالات میں ہی متحدہ کے قائد الطاف حسین جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے تھے جنہوں نے 2002ء میں باقاعدہ برطانوی شہریت حاصل کرلی۔ انکے مخالف ان کے چند حالیہ بیانات سے بھی بھارت کے ساتھ متحدہ کے روابط کا تاثر لے سکتے ہیں جبکہ دو ماہ قبل ایس ایس پی راؤ انوار نے باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے متحدہ کے گرفتار کارکنوں کے بیانات کی بنیاد پر بھارت سے رابطوں کے الزامات لگائے۔ اسی طرح سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی متحدہ پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے مگر حکومتی ایجنسیاں ٹھوس شواہد دستیاب ہونے کے باوجود آج تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کر پائیں۔ حالانکہ ملک کی سلامتی کی خاطر اس نوعیت کے الزامات پر فوری تحقیقات اور مناسب ایکشن ضروری تھا۔ ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کو ملک کی سا لمیت کو مقدم رکھتے ہوئے مملکت خداداد پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں خلاف کے شواہد ملتے ہی ان کی سرکوبی کیلئے سرگرم ہو جانا چاہیے تھا۔ اگر اس وقت بھارت ہماری کسی اندرونی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ہماری سا لمیت پر 1971ء جیسا وار کرنے کی بدنیتی رکھتا ہے جس کے اسکے طرز عمل سے شواہد بھی مل رہے ہیں تو ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کو یکجہت ہو کر ملک کی سلامتی کیخلاف دشمن کی ایسی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا اور اس امر کا جائزہ بھی لینا ہوگا کہ کہیں ایم کیو ایم متحدہ کے کارکنوں کو عسکری تربیت دے کر اور اسکی مالی معاونت کرکے اسے مکتی باہنی جیسا کردار ادا کرنے کیلئے تو تیار نہیں کررہا تھا۔بہترین دفاع وطن کی خاطر جہاں ان الزامات کی تصدیق کرنا ضروری ہے وہاں ملکی سیکورٹی اداروں کو اپنا کردار مذید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بیرونی رپورٹ اور اس کی انکوائری سے پہلے ہی انہیں حقیقت حال کا علم ہو۔ ہمیں ملکی سیکورٹی اداروں کے درمیان باہمی روابط کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ ملک دشمن عناصر کی ہر قسم کی حرکات پر نظر رکھی جاسکے اور ان کے ناپاک عظائم اور سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں  100 دنوں میں حکومت نے کیا کھویا کیا پایا، وزیراعظم آج اعلان کریں گے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker