تازہ ترینکالم

بلدیاتی انتخابات میں ’’حکمران جماعت‘‘ کا ووٹ تقسیم

mriza rizwanبلدیاتی انتخابات کا میدان اپنی پرانی روایات لئے ’’سج ‘‘چکاہے ۔بڑی بڑی اہم اور محب وطن شخصیات عرصہ دراز کے بعد غریب عوام کے دکھ درد بانٹنے اور ان کے بنیادی مسائل کو فی الفور حل کروانے کیلئے ’’میدان ‘‘میں اترتی دکھائی دے رہی ہیں۔سیاسی پارٹیوں کی جانب سے پہلے آئیے پہلے پائیے کی پالیسی پر اپنے اپنے حامیوں کو’’ ٹکٹیں ‘‘اور اپنی ’’سپورٹ ‘‘فراہم کردی گئی ہے ۔ایسے لوگوں پر بھی وطن عزیز کی ’’محب وطن‘‘ سیاسی پارٹیاں ’’مہرباں ‘‘ہوئی ہیں کہ جواپنے علاقے میں انتہائی منفی اثروسوخ کے ’’بے تاج بادشاہ ‘‘ہیں ۔لیکن کیا کرتے ’’بچارے ‘‘قائدین ان کی بھی مجبوری تھی کہ جیسے شاید انہوں اپنے ایسے نمائندے جو اچھے اخلاق و کردار اور بے داغ ماضی کے مالک ہوں ان کو تلاش کرنے میں وقت نہیں ملا اور بالکل ایساہی لگ رہاہے بلدیاتی انتخابات لڑوانے کیلئے ہر سیاسی پارٹی کے ’’بڑوں ‘‘ کی جانب سے من چاہے کارکنوں کو نوازتے ہوئے ان کے نام کی ’’پرچی‘‘جاری کرکے چیئرمین ، وائس چیئرمین اور جنرل کونسلرز کو بغیر تحقیق ’’سلیکشن ‘‘کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہو۔جبکہ وہ خود ’’نومولود ‘‘سیاستدان اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتے ، لیکن اب پارٹی کی رضاپر راضی ہوتے ہوئے ان کے ’’وارے نیارے‘‘ہوگئے ہیں ۔ہر پارٹی نے صرف ان کی قربانیاں، دوران احتجاج سڑکوں پرنعرے لگانے والوں اور سیاسی قائدین کے آگے پیچھے دن رات چکر کاٹنے والوں کی ’’جہدمسلسل‘‘کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات میں ہرصورت حصہ لیکر ’’کامیابی کے جھنڈے‘‘ گاڑنے کا’’فری سٹائل ٹاسک ‘‘دے دیا ہے ۔لیکن تمام تر پارٹیوں نے جگہ پرُکرتے ہوئے اپنی بنیاد بننے والے ’’نومولود‘‘سیاستدانوں کی ’’سکریننگ‘‘کے عمل کو فراموش کردیا ہے ۔پاکستان کی تمام تر’’محب وطن ‘‘ جماعتوں کی کوشش یہی تھی کہ پارٹی میں صاف شفاف، اچھی شہرت اور اچھے کردار کے مالک لوگ شامل ہونا چاہیئے تاکہ مستقبل قریب میں ملک وقوم کی بہترطریقے سے خدمت ہوسکے ۔لیکن ’’کرسی ‘‘کے حصول کی’’ جنگ‘‘اور پارٹی قائدین کی ’’نظرشفقت‘‘میں پروان چڑھنے کی دوڑ نے ’’سرپنچوں‘‘کواس مرتبہ تو موقع اور وقت ہی نہیں دیا کہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والوں کی ’’چھان بین ‘‘کی جائے۔لیکن شاید اگلی مرتبہ ہر پارٹی اپنے امیدوار کے ماضی اور حال کی اچھی طرح سے ’’چھان بین ‘‘اور ان کی شخصیت کا جائزہ لیکر ہی ٹکٹ و سپورٹ دے۔۔۔
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی تمام تر ’’نومولود‘‘سیاستدانوں کے نام فائنل کرکے ’’میدان سیاست‘‘میں اتاردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں انتحابی مہم کا پوری آب وتاب سے آغازہوچکاہے ۔اور یہاں بھی کچھ ’’دال میں کالا‘‘ہی دکھائی دے رہاہے۔ایسے ایسے چہرے بھی سامنے آئے ہیں کہ جن پر کسی بھی قسم کا اعتراض کرنا اب کسی خاص’’ تبدیلی‘‘ کو دعوت نہیں دے سکتا لیکن یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ن لیگ کی تقسیم میں بھی کئی ایسے چہروں کو ماضی کی روایات برقرار رکھتے ہوئے ’’نظر انداز ‘‘کردیاگیا ہے کہ جو اب بطور ’’آزاد ‘‘امیدوار عوامی خدمت کا جذبہ لیکر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور ن لیگ کی جانب سے مکمل طور ’’سپورٹ ‘‘ کے حامل امیدواروں سے زیادہ اچھے اخلاق و کردار اور مثبت اثرواسوخ کے مالک ہیں اور ن لیگ کے نامزد امیدوار سے زیادہ ’’ووٹ‘‘حاصل کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں ۔ یہ بات نہیں کہ ان کا ن لیگ میں کوئی قدکاٹھ نہیں یا انہوں نے پارٹی کیلئے مار نہیں کھائی ، ہرطریقے سے وہ بھی ن لیگ کے ’’جیالے و متوالے ‘‘گنے جاتے ہیں اور حکمران جماعت کے دیرنہ کارکن بھی ہیں ۔ اب وہی ن لیگ کے ’’دیرانہ کارکن‘‘ جو اچھی شہرت اور اچھے اخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ معززین علاقہ کی حقیقی و عملی حمایت لیکر ’’متوقع انتخابات ‘‘میں ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں کے ہی مدمقابل آکھڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ ن لیگ کا ووٹ بنک خاصا تقسیم اور دوسری پارٹیوں کے امیدواروں کے پلڑوں میں جانے کا خدشہ ہے،یہ بھی واضع ہورہاہے کہ یہی ’’نظرانداز ‘‘ہونیوالے کارکن جو بطور آزاد امیدوار بلدیاتی انتخابات کی ’’سیج‘‘پر مسند نشیں ہیں کسی دوسری سیاسی پارٹی سے ’’خفیہ ڈیل‘‘کا حصہ اور سب کے سب ووٹ انکی ’’جھولی ‘‘کی زینت بن جائیں۔ لیکن ن لیگ کے سرکردہ قائدین اس ساری صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود ’’خاموش تماشائی ‘‘بنے بیٹھے ہیں ۔جس کا نقصان سیدھا سیدھا ن لیگ کو ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کو ’’کلین سویپ‘‘کرنے کا خواب لئے متعلقہ ہر علاقے کے ایم این ایز اور ایم پی ایز ’’نومولود‘‘سیاستدانوں کو پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر خاصے مطمئن دکھائی دے رہے ہیں ۔ جبکہ ن لیگ کے ’’دیرانہ ووٹرز‘‘اس مرتبہ خاصے تذبزب کا شکار ہیں کہ ن لیگ کا اصل امیدوار کون ہے کو نسا امیدوار اچھی شہرت و اچھے اخلاق و کردار کا مالک ہے اور کس امیدوار کو ’’ووٹ ‘‘دیکر اپنے محبوب قائدین میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کے ’’سر‘‘احسان چڑھایا جائے ۔یقینامتوقع بلدیاتی انتخابات میں بہترنتائج کے حصول کیلئے ن لیگ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تمام تر ’’محب وطن ‘‘سیاسی جماعتوں کے ’’سرکردہ ‘‘ سربراہوں کو اپنے ووٹ بنک کو تقسیم ہونے بچانے اور ملک وقوم کی خدمت کیلئے ’’نومولود‘‘امیدواروں کے چناؤ کیلئے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی انہیں سوچناہوگاکہ جن امیدواروں کو ’’میدان سیاست‘‘میں اتار رہے ہیں کیا وہ اس کے اہل بھی ہیں یاپھر ملک وقوم کیساتھ ناانصافی اور ہر مرتبہ عوام کو ’’بیوقوف‘‘بنانے کا سلسلہ اپنی ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اسی طرح جاری وساری رہیگا ۔عوامی طاقت کے صحیح استعمال کے خواب کو کب شرمندہ تعبیر کیا جائے گا۔آخرمیں اللہ رب العزت کے حضور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صاف و شفاف کردارکے مالک اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو آگے لانے کی توفیق عطافرمائے تاکہ ملک وقوم کی حقیقی معنوں میں خدمت ہوسکے ۔

یہ بھی پڑھیں  براڈ شیٹ سکینڈل: ن لیگ نے جسٹس (ر) عظمت سعید کی تقرری مسترد کر دی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker