تازہ ترینغلام مرتضیٰ باجوہکالم

بلدیاتی الیکشن قربانیاں دینے والے کے نام

ghulam murtazaملک کو اس وقت مہنگائی‘ بے روزگاری دہشت گردی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کیلئے حکومت اپنے طور پر تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے مگر عوامی تعاون کے بغیر ان مسائل کا حل ممکن نہیں حکومت نے بے روزگاروں کیلئے بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے قرضہ سکیم کا اجراء کیا ہے جس سے نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلدیاتی الیکشن میں قربانی دینے والے کارکنوں کو ٹکٹ دیئے جائیں گے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیابی سے ہم کنار ہونگے۔ 6 ماہ کے دوران ابھی حکومت اپنے پاؤں پر صحیح طریقے سے چلنا بھی شروع نہیں ہوئی کہ مختلف جماعتوں نے اس کیخلاف دھرنے کے بیانات دینا شروع کردیئے ہیں ورثاء میں ملنے والے مسائل اور بحرانوں کو حل کرنے میں وقت درکار ہے ادارے کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں جن سے نکالنے کیلئے بولڈ اسٹیپ لے رہے ہیں اور انشاء اللہ اپنی حکومت کا پہلا سال مکمل کرنے پر عوام محسوس کرینگے کہ انہیں کچھ نہ کچھ ریلیف ملا ہے ۔یہ بات وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے ضلعی راہنما ملک اسلم نوید سے کہی کہ بلدیاتی الیکشن کے موقع پر کارکنوں کو ٹکٹ دیئے جائیں گے اراکین اسمبلی اور وزراء کے لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیئے جائیں گے بلدیاتی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن ایک مرتبہ پھر عوامی جماعت بن کر ابھرے گی جو سیاسی جماعتیں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ناکام ہوگئی ہے انکو کو منہ کی کھانا پڑیگی حکومت کی طرف سے کئے جانیوالے اقدامات کے باعث عوام کو اس کو ثمرات جلد ملنا شروع ہوجائیں گے۔
وزیر داخلہ چوہدری نثارکہتے ہیں کہ ایک جماعت نے ووٹوں کی تصدیق کا تماشا لگا رکھا ہے، معاملے پر اپوزیشن جو چاہتی ہے تیار ہیں، نادرا کو الیکشن کمیشن کے ماتحت کر نے کی تجویز نہیں دی، نادرا قانونی طورپر وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، مقناطیسی سیاہی فراہم کرنا اور دھاندلی کو روکنا الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی ذمہ داری تھی موجودہ حکومت پر ملبہ نہ ڈالا جائے، مقناطیسی سیاہی استعمال نہ کرنے والوں کو کٹہرے میں لائینگے جبکہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے وزیر داخلہ کے ریمارکس پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیر داخلہ کی جانب سے ریمارکس واپس نہ لینے پر بائیکاٹ جاری رہے گا اور ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لینگے۔ متحدہ اور جماعت اسلامی نے اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کیا۔
کئی ماہ گزرگئے ہیں ابھی تک ووٹوں کی تصدیق کا معاملہ حل نہیں ہو سکا تو بلدیاتی الیکشن تو پنجاب میں چندروزتک ہونے والے ہیں۔اگر اس الیکشن میں کوئی مسئلہ ہواتووہ حل ہوتے ہوتے کئی سال گزر جائیں گئے۔اس معاملہ سے لگتاہے کہ اس بار بلدیاتی الیکشن میں ریکارڈ ردوبدل ہوگاجس کیلئے پاکستانی عوام کئی سالوں احتجاجی مظاہروں کی دوڑشامل رہے گی۔ اگربات کی جائے جمہوریت کی تو چند ماہ پہلے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کی اوراقتدار دوسری جمہوری حکومت کے حوالے کیا۔ یہ اقتدارمسلم لیگ ’’ن‘‘ کودہشتگردی ،مہنگائی سمیت درجنوں بحرانوں کے خاتمے کے دعدہ پر ملا، کیونکہ اقتدار کی یہ منتقلی اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں جمہوری طریقے سے نہیں آئی تھیں، بلکہ یہاں پر اقتدار منتقلی نہیں اقتدار پر قبضہ بار بار ہوتارہاہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ اگر تاریخی حقائق کو مد نظر رکھ کر پاکستان میں جمہوریت کی صورت حال کا ماضی کے تناظر میں تجزیہ کریں تو اس کی مثال اس شیر خوار بچے کی مانند ہے جو اٹھنے اور چلنے کی آرزو میں بار بار اپنے پاوں پر کھڑا تو ہوجاتا ہے، لیکن ہر بار منہ کے بل گر پڑتا ہے۔ جب بھی جمہوریت نے سنبھلنا شروع کیا تو کسی فوجی جرنیل نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔اس وقت پاکستان میں جمہوریت کا پودا نشونما پارہا ہے اور اب یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ جمہوریت مخالف نادیدہ قوتوں کی خواہشات کے برعکس یہ ایک تناور درخت میں تبدیل ہونے کی جانب آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف جمہوریت مخالف عناصر اپنے لائحہ عمل پر گامزن آئے دن پاکستان کے طول وعرض میں مختلف شکلوں میں نمودار ہورہے ہیں۔کبھی دہشت گردوں کی صورت میں تو کبھی غیر ملکی اسپانسرڈ اور غیر ملکی ہدایات پر مشتمل لانگ مارچوں کی صورت میں، لیکن ان سب عوامل کے ہوتے ہوئے بھی جمہوریت کی گاڑی ہچکولے کھاتی ہوئی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔
اگربات کی جائے حکومت یعنی مسلم لیگ ن کی توکبھی یہی لوگ دوسرے سیاست دانوں پر الزام ترشی کر نے میں بہت ماہر تھے ۔الزام ترشی کے ذریعہ پاکستانی عوام سے وعدے کیے اور اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن اب کیونکہ اس وقت پاکستانی عوام حکومتی پالیسایوں سے سخت پر یشان ہے۔حکمران سچ سننے کو تیارنہیں۔تواس سلسلے میں پیاز،آلو،ڈالر اور لون سکیم جسے نئے نئے طریقہ کار سے عوام کا مذاق اڑایا جارہاہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری کہتی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت تحریک انصاف کے 22 دسمبر کے سونامی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے، مہنگائی قومی مسئلہ ہے، احتجاج ہر جماعت کا بنیادی حق ہے، وفاقی وزیر اطلاعات تحریک انصاف کے احتجاج سے ڈر گئے ہیں اس لئے ایسی باتیں کر رہے ہیں، لاہور کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں، عمران خان قومی لیڈر ہیں جہاں چاہیں جلسہ کر سکتے ہیں۔ پرویز رشید عمران خان پر تنقید سے پہلے اپنا سیاسی قد بڑھائیں۔
پاکستانی عوام کا کہنا ہے کہ شہری غربت کے ہاتھوں پہلے ہی پریشان ہیں مگر پھر بھی ہر چند روز دودھ و دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے غربت کا سامنا ہی نہیں کیا ہے اس لئے وہ جانتے ہی نہیں کہ غریب افراد کس طرح گزارا کرتے ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جتنی لوٹ مار اس منافع خور مافیاز اور لٹیروں نے کی ہے وہ تاریخ کا ایک حصّہ ہے جبکہ حکومت کی خاموشی نے ان کو اور دیدہ دلیر بنا دیا ہے۔عوام ان کے ہاتھوں بے بس اور مجبورہے لیکن حکومت کی بے بسی سمجھ سے بالاتر ہے۔روزانہ قیمتوں میں اضافہ اب ایک مشغلہ بن چکا ہے۔حکومت کو شاید علم نہیں کہ مہنگائی کر کے عوام کو اس کے خلاف سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں۔حیرانی اس امر پر ہے کہ حکومت اس طرف بالکل توجّہ نہیں دے رہی۔ بنیادی ضروریات زندگی اتنی مہنگی کر دی گئی ہیں کہ دو وقت کی روٹی کا حصول عوام کیلئے مشکل ہو گیا ہے یہ صورتحال انتہائی خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے حکومت بلدیاتی الیکشن قربانیاں دینے والے کے نام کرنے کی بجائے اپنی توجہ ملک مسائل کی طرف کرے تاکہ پاکستانی عوام کو اپنی حقوق کیلئے احتجاج نہ کرنے پڑیں۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!