انور عباس انورتازہ ترینکالم

بے نظیر بھٹو کی بے نظیر شہادت

anwar abasاکیس جون انیس صد اکیاون کو سندھ کے عظیم سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کے ہاں انکی پوتی پیدا ہوئی تو کس کو خبر تھی کہ آج کی نوزائیدہ بچی مستقبل میں دنیا میں امر ہو جائیگی۔اور وہ بے نظیر بھٹو واقعی بڑی ہو کر مستقبل میں باپ دادا اور بھٹو خاندان کا نام روشن کریگی ۔بے نظیربھٹو شہید پاکستان کی سیاست کا لازمی جز بن کر مقبولیت کے حوالے سے بلندیوں کی انتہاؤں کو کمند ڈالے گی اور مصور پاکستان حضرت علامہ اقبال کے شعر محبت مجھے ان جوانوں سے ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند کو حقیقت کا روپ دے گی۔بے نظیر کے معنی ہی بے مثال ہیں اور اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنے ہم عصر تمام سیاست دانوں سے منفرد سیاست کو اسلوب دیا۔اور ان کے مقابلے میں اپنی خداداد صلاحیتوں ’ قابلیت اور اپنی سیاسی بصیرت کی بدولت دنیا بھر کے عالمی راہنماؤں میں اپنا الگ مقام اور شناخت حاصل کی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی خداداد صلاحیتوں اور سیاسی بصیرت کی آج دنیا معترف ہے۔گو محترمہ بے نظیر کو اپنے والد اور دادا کی نسبت انتہائی بد ترین 249کم ظرف اور کمینگی حد تک جانے والے سیاسی مخالفین سے واسطہ پڑا لیکن انہوں نے اپنے مخالفین کے اپنی زات پر کیے جانے والیانتہائی غلیظ 249 توہین آمیز اور رکیک حملوں کا جواب اعلی دینی 249اخلاقی اور تہزیبی روایات کی پاسداری کو ملحوظ خاطر رکھا۔یہ انکی بہترین خاندانی تربیت اور اعلی اخلاقی روایات کا پیرو ہونے کا نتیجہ تھا۔کہ اپنے عظیم والد اور پیاری بوڑھی والدہ پر ضیائی آمریت کے بدترین تشدد جیلوں کی سختیاں اور صعبتیں بھی انہیں ان کے مشن سے ہٹانے میں کامیاب ہو سکیں اور نہ ہی ان کے عزم اور پایہ استقلال میں معمولی سی بھی لغزش پیدا کر سکیں۔بھائی شاہنواز بھٹو کی دیار غیر میں پر اسرار موت کا صدمہ کے باوجودبھی بے نظیر بھٹو شہید نے خود کو بکھرنے نہیں دیا۔ انہوں نے اپنے اعصاب اور حواس کو مضبوطی سے سنبھالے رکھا۔ یہی قائدین کی بہترین خوبی ہوتی ہے ۔کہ وہ خود ظلم 249 زیادتی اور تشدد جیسی صعوبتیں برداشت کر لیتے ہیں لیکن قوم کے مستقبل کو محفوظ کرجاتے ہیں۔اگر لیڈر خود اندر سے ٹوٹ جائیں تو وہ قوم کی راہنما ئی نہیں کر سکتے۔ پیپلز پارٹی کو بھٹو خاندان خصوصا بیگم نصرت بھٹو اورمحترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت سے محروم کرنے کی سر توڑ کوششیں اور سازشیں کی گئیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے پیپلز پارٹی کے سنیئر راہنما غلام مصطفی جتوئی249 غلام مصطفی کھر 249 افضل سندھو 249 میاں احسان الحق اور ملک معراج خالد اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں میں استعمال ہوئے۔پارٹی کے ان انکلز نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو باور کرایا کہ ہمارا ان سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے اور پارٹی پر انکا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ انکا …بلکہ ہمارا حق پارٹی پر ان سے زیادہ ہے کیونکہ وہ ابھی بچی ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے انکلز پر مشتمل چار کے ٹولے کی اسٹبلشمنٹ کے اشاروں پر کی جانے والی سازشوں کو ا پنی سیاسی بصیرت سے ناکام بنایا بلکہ آمریت کے خلاف عوامی جدوجہد کو بھی سبوتاز کرنے کی کوششوں کو ناکامی سے دوچار کیا۔مجھے وہ دن اور راتیں اچھی طرح یاد ہیں اور وہ مناظر میری آنکھوں میں آج بھی محفوظ ہیں جب بے نظیر بھٹو اندرون سندھ کے دورے پر نکلی تھیں اور انکی گاڑی اس وقت کے پی پی پی سندھ کے صدر مخدوم خلیق الزماں چلایا کرتے تھے ۔محترمہ سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں جا رہی تھیں ۔ میں نے بچشم خود دیکھا کہ سندھ دھرتی کی سو سو سال کی بزرگ خواتین راتوں کو دو دو تین تین بجے تک دیہاتوں کے باہر کھڑی ہو کر اپنے قائد کی بیٹی کے آنے کا انتظار کیا کرتی تھیں۔اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہوتیں رہتی تھیں اور ہاتھوں میں لا لٹینیں پکڑنے جئے بھٹو کے نعروں کی گونج میں کہتی تھیں کہ آج بیٹی آئی ہے تو کل باپ آئے گا۔کیونکہ ان بزرگ خواتین کو آس اور امید تھی کہ ایک نہ ایک دن انکا محبوب قائد بھٹو ان سے ملنے ضرور آئے گا۔افسوس کہ پاکستان کے دوسرے صوبوں کے عوام کی طرح سندھ کے عوام کی بھی یہ امید اور آس ادھوری رہ گئی۔تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کس جرآت اور بہادری کے ساتھ سکھر ائیر پورٹ پر آمریت کے ظلم اور زیادتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔کس طرح محترمہ نے ایم آر ڈی کی تحریک میں دلیرانہ اور قائدانہ کردار ادا کیا۔انیس سو پچاسی میں منعقد ہونے والے عام انتخابات ایم آر ڈی کی تحریک کا ہی نتیجہ تھے۔پھر انیس سو چھیا سی کی دس اپریل کی صبح جب محترمہ کئی سالہ جلاوطنی کو خیر باد کہہ کر وطن لوٹیں تو پوری دنیا نے بے نظیر بھٹو کے بے نظیر اور فقید المثال عوامی استقبال کا نظارہ کیا ۔لاہور ائر پورٹ سے لیکر مینارے پاکستان تک عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا ہر طرف انسانی سر ہی سر دکھائی دیتے تھے۔عوام کا یہ عظیم الشان ہجوم بیکراں اپنی قائد کی ایک جھلک دیکھنے اور انہیں ان کے والد کی شہادت کا پر سہ دینے آیا تھا۔بھٹو خاندان خصوصا محترمہ بے نظیر بھٹو سے عوام کی وابستگی کا یہ نظارہ دیکھ کر جنرل ضیا اور انکے سیاسی اور سرکاری رفقائے کار حواس با ختہ ہو گے۔اور انہیں عام انتخابات ہونے کی صورت میں اپنے منصوبے خاک میں ملتے دکھائی دئیے تو انہوں نے بے نظیر بھٹو کو اقتدار کے ایوانوں سے زبر دستی دور رکھنے کے لیے سازشوں کا جال بھننا شروع کیا۔جنرل ضیا ء الحق نے انیس سو اٹھاسی کے انتخابات کروانے کے لیے ای

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:سول جج کواس فیملی کےہمراہ گن پوائنٹ پرڈاکوؤں نےیرغمال بناتے ہوئےلوٹ لیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker