تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

بچاری عوام

ملک جی سنا ہے کہ آج پھر پٹرول مہنگا ہورہاہے یہ الفاظ میرے ایک پیارے دوست نے مجھے ایس ایم ایس کیا میں نے کہاہاں ایسی ہی بات سامنے آرہی ہے اس نے کہا کیوں ؟میں نے کہا پتہ نہیں!!خیر دن گزر گیا میں رات کو تقریباً9بجے بازارکسی کام سے نکلا میرے موٹرسائیکل میں پٹرول نہ ہونے کے برابر تھا تو سوچا پٹرول ڈلوالوں خیرمیں دو تین پٹرول پمپ پر گیا تو وہاں پر عوام کا ہجوم لگاہواہے اور پٹرول نہیں مل رہا ایک ہی جواب کے پٹرول ختم ہوگیا واہ جی مزے کی بات کہ تمام پٹرول پمپس پر ایک ہی ٹائم میں پٹرول ختم ہوگیا یہ سب ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے تھے پٹرول ہونے کے باوجود نہیں دیا جارہاتھا کہاں جاتی ہے انتظامیہ کہاں جاتے ہیں اس سسٹم کو چلانے والے جو اس عوام کی وجہ سے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور عوام کی حالت یہ ہے کہ ہاتھ میں پیسے لئے پٹرول نہیں مل رہا ہمارے ساتھ تو ہمیشہ بُراسلوک ہی کیاجاتارہاہے دودفعہ پہلے پٹرول کی قیمتیں کم کردیں گئیں اور پھر بڑھا دی گئیں یہ مذاق بنارکھاہے یہ ایک ٹوپی ڈرامہ ہے رمضان میں ہوشربا مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو حکومت نے پیٹرول اور سی این جی مہنگی کرکے مزید امتحان میں ڈال دیا ہے۔عالمی سطح پر پیٹرول معمولی مہنگا ہونے اورروپے کی قدرمیں کمی کو جواز بناتے ہوئے حکومت نے شہریوں پر پٰیٹرول اور گیس بم گرانے میں کسی پس وپیش سے کام نہ لیا۔ اْوگرا کی پٰیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ہر تجویز منظور کرتے ہوئے حکومت نے پیٹرول یکمشت سات روپے چھیاسٹھ پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا۔ ۔ بھائی جب قیمتیں کم کرہی دیں تو کچھ مہینے تو ان کو رہنے دو ہماری حکومت ہی تو عوام کاخیال نہیں کررہی معذرت کے ساتھ اب عوام کی حالت ایک گدھاگاڑی کی طرح ہے جب اس کا مالک چاہتاہے اس پر وزن ڈال دیتاہے اور جب چاہتاہے اس کو آرام کا موقع دے دیتاہے مگر اس وقت جو کچھ پاکستان کے عوام کے ساتھ ہورہاہے شاید کسی کے ساتھ نہ ہو۔ ایک اور عذاب لوڈشیڈنگ کا ہے کوئی بھی سڑک پرآنے کی ہمت نہیں کرے گا لہٰذا لوڈشیڈنگ کے عذاب میں کمی کی بجائے شدت نظر آرہی ہے عوام الناس کو حکومت کی ہر پالیسی سے اتفاق ہے ، ظاہر ہے لوڈشیڈنگ کے بارے میں بھی حکومت نے جو پالیسی مرتب کی ہے وہ بھی اس کی پالیسیوں کا ایک حصہ ہی تو ہے۔ پر جھوٹ کی بھی ایک حد ہوتی ہے کہاں گئے حکومت کے وہ بلند دعوے کہ رمضان شریف میں لوڈشیڈنگ میں کمی کی جائے گی ! دکھ ہوتا ہے آپ نے اکثر اس قسم کے نعرے سنے ہوں گے ’’ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں ‘‘ ہم صرف عوامی عدالت کا فیصلہ مانتے ہیں ‘‘ اور یہ کہ ’’ آخری فیصلہ عوام کا ہوتا ہے ‘‘۔ بچاری عوام کیا فیصلہ کرے گی؟؟

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:بااثربھٹہ مالکان اوراس کے بیس مسلح ساتھیوں کا اینٹیں بنانے والے محنت کش کے گھرپردھاوا

 

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker