تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

بیداری!

m javid iqbalایسے وقت یا دور میں زندہ رہنا بڑے حوصلے کی باتی ہے جب نوجوان اپنی شناخت منوانے میں ناکام ہو رہے ہوں۔ یہاں تک کہ متوسط خاندان کے نوجوانوں کو تو اپنی شناخت منوانے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔ملک میں نا انصافیوں اور اقربا پروری کا یہ عالم ہے کہ متوسط طبقے کے لوگ یا نوجوان اپنے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہیں کر سکتا، اور کر بھی کیسے سکتا ہے کہ ہمارے یہاں تو ہر دفاتر، فیکٹری، این جی اوز، ملٹی نیشنل ادارے لگ بھگ سبھی جگہ پر No Vacancyکا بورڈ آویزاں ہے۔میری نظر میں ایک ایسا نوجوان بھی ہے جس نے ماسٹر کر رکھا ہے اور نوکری ہیلپروں کی کر رہا ہے، پوچھنے پر پتہ چلا کہ مرتا کیا نہ کرتا ، بھائی بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے اس لئے یہی نوکری کر لی ہے۔ آج ایک ماسٹر ڈگری یافتہ شخص میسن اور پلمبر کے ساتھ ہیلپری پر مجبور ہے۔ یہ ہمارے ملک کا انتہائی درد ناک پہلو ہے۔میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں غریبی کا دور دورہ بہت زیادہ ہے اور اس غریبی کی بڑی وجہ بھی یہی نوکری کا نہ ملنا ہے۔ اگر مستقبل کے ہونہاروں کو نوکری مل جائے تو کم از کم کنبے کی داد رسی تو ہو سکے گی۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ نوکری کی فراوانی کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں اضافہ بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر ایک نوجوان بحا لتِ مجبوری کہیں نوکری کر بھی لیتا ہے تو اسے تنخواہ کیا ملتی ہے صرف آٹھ ہزار روپئے ؟ سو روپے لیٹر پیٹرول ہے اس حساب سے روزآنہ کا ایک لیٹر پیٹرول آنے جانے پر اگر خرچ کیا جائے تو مبلغ تین ہزار روپئے کنوینس کی صورت میں نکل جاتا ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ اسے دوپہر کا کھانا بھی کھانا ہے ۔ اگر دال بھی کھائے تو چالیس روپئے اور ساتھ دو روٹی لے تو مزید سولہ روپئے بن جاتے ہیں ، یوں مبلغ ساٹھ روپئے روزآنہ کا یہ خرچ الگ، جوایک ماہ میں تقریباً پانچ ہزار روپئے بنتے ہیں۔ اُس آٹھ ہزار روپئے ماہانہ تنخواہ میں سے اب بچے تین ہزار تو جنابِ من! اس تین ہزار سے کیا راشن، دوائیاں،دودھ، اسکول کی فیس، بجلی، گیس، پانی کا بل اور دیگر لوازمات پورے کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ غالباً نہیں اس لئے نوکری کے ساتھ ساتھ اجرت میں بھی اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
خاکم بہ دہن ہماری نوجوان نسل اب شاید جاگ رہی ہے ، اور کہیں دہلی کے نوجوانوں کی طرح ہماری نسل جاگ گئی تو پھر سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ آپ نے تو دیکھا اور سنا ہی ہوگا کہ آج کل دہلی میں ایک عصمت دری کے واقعہ پر کس قدر شور و غل مچا ہوا ہے۔ وہاں کی نوجوان نسل بشمول بوڑھے اور خواتین کے سڑکوں پر دھرنا دے رہے ہیں جبکہ وہاں کڑاکے کی سردی ہو رہی ہے پھر بھی انڈیا گیٹ پر جمع ہوکر صدائے احتجاج بلند کر رہے تھے۔یہ لوگ اپنے احتجاج میں اس قدر سخت گیر تھے کہ کڑی سردی میں ٹھنڈے پانی کی تیز دھار (water canon)، آنسو گیس کے گولے اور آخر میں سخت لاٹی چارج بھی ان کو روک نہ سکے ، اسی عمل کو ہم بیداری کی لہر سے تشبیح دے سکتے ہیں۔عوام کا یہ عمل ایک مثبت تبدیلی ہے اور یہی مثبت عمل کسی بھی جمہوریت کی معراج ہو سکتی ہے ، ویسے بھی زیادہ تر کالم نگاروں، ادیبوں، دانشوروں کو کہتے سنا ہے کہ جمہوریت حکمرانوں سے نہیں عوام سے چلتی ہے۔ اس لئے جمہوریت کی بہتری کے لئے یہ امر بھی ضروری ہے کہ عوام الناس کی یہ بیداری بھی غیر متعصب، غیر جانبدار اور پوری طرح انصاف پسند ہو۔ عوام کی بیداری کسی خاص فرقے کی نہ حامی ہو اور نہ ہی مخالف، عوام کا کام یہ ہو کہ وہ ملک کے ہر فرد کو عوام شمار کریں۔
آج کل ہمارے یہاں ایک اور بیداری جاگی ہوئی ہے جو شاید ایک نیک مقصد اور عوامی فلاح کی طرف ایک قدم ہو۔ اور وہ ہے لانگ مارچ جو کہ چودہ جنوری کو ہونے جا رہا ہے۔ ہمارے یہاں بھی سخت سردی کی لہر برقرار ہے، اور مارگلہ کے دامن میں تو سردی کچھ اور بھی زیادہ ہوگی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ لانگ مارچ اپنا نظریہ حاصل کر پاتا ہے یا نہیں ، اور باشعور عوام لانگ مارچ کو کامیاب بناتے ہیں یا نہیں۔ اگر لانگ مارچ نے کامیابی کا سفر طے کر لیا تو نوشتۂ دیوار سب کی سمجھ میں آ جائے گا وگرنہ اللہ اللہ خیر صلّہ! جیسے ہمیشہ اس ملک میں ہوتا رہا ہے وہی سلسلہ جاری و ساری رہے گا اور بس!
مغربی تحقیقی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے سیاسی تجزیہ نگاروں کی رپورٹوں کو پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کہ موجودہ دنیا میں بہت تیز رفتاری کے ساتھ سیاسی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ اگر یہ تمام تبدیلیاں عوام کے اُمنگوں کے مطابق آجائیں اور عوام کوان کے جائز حقوق میسر آجائیں جیسے کہ غریب عوام اس وقت شدید معاشی ناہمواریوں اور بے روزگاریوں کی چکی کے دونوں پاٹوں میں پِس کر زخم خوردہ ہیں ۔ اس کا ازالہ ہو جائے اگر جامع اورموثر طریقۂ کار وضع کیا جائے ۔بہرحال مستقبل قریب میں جو تبدیلیاں ہم سب دیکھ رہے ہیں ان کے مقابلے میں عوامی بھلائی کیلئے کچھ رنگ تو ضرور شامل ہوگا۔
زیست وقفہ ہے فقط خواب سے بیداری تک
اور اس راہ میں صدیوں کا سفر بھی میں ہوں
عام تاثریہی ہے کہ ہمارے اکثرسیاسی کھلاڑی کوئی نہ کوئی عہدشکنی اوربے وفائی کو معیوب نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے اپنی پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں اور انہیں ظاہرہے اس کام سے فائدہ پہنچتا ہی ہوگا ورنہ ہمارے یہاں تو کوئی بھی بغیر فائدے کے کوئی کام کرتا ہی نہیں ہے۔خیر ہمیں کیا وہ جو چاہیں کریں مگر ساتھ ہی ساتھ عوام کی پریشانیوں پربھی نظررکھیں اور اس کو حل کرنے کی سعی کریں کیونکہ عوام توویسے ہی اپنی پیشانی پرہزاروں مسئلوں کو سجائے بیٹھے ہیں مگرہماری عوام کے آنسوؤں کی ایک آدھ برسات کو بھی کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔
امن اور چین سے دو وقت کی روٹی مانگو
اور اس دور میں کیا ہے جسے مانگا جائے
یا بدلتے ہوئے حالات ہیں یا فکرِ معاش
اور اس دور میں کیا ہے جسے سوچا جائے
بعض دوستوں کا خیال ہے کہ لانگ مارچ کے ذریعے ایک شفاف، غیر جانبدار اور آزاد الیکشن ہو جائیں گے اور عوام اپنی مرضی کے مطابق نمائندے چننے کی سعی کریں گے ایسے نمائندے جو دستورِ پاکستان کے ہر شق پر پورے اترتے ہوں کرپشن سے پاک ہوں اور مستقبل میں کرپشن نہ کرنے والے ہوں، عوام کو سہولیات بہم پہنچانے کی جستجو رکھتے ہوں، ایسے نمائندے جو بیروزگاری کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور اس جیسے کتنے ہی مسائل ہیں جن کے بھنور میں پاکستان قوم پھنسی ہوئی ہے جس کا خاتمہ ممکن بنانے میں نئے نمائندے اور نئی اسمبلی دیکھئے کیا کارہائے نمایاں سر انجام دیتے ہیں۔کیونکہ آج تک عوام سے ووٹ تو ضرور لیا جاتا رہا مگر ووٹ لینے کے بعد عوام کو کوئی پوچھتا ہی نہیں ۔ان کی حیثیت ردّی کی ٹوکرے میں پڑے ہوئے کاغذ کی طرح ہی رہتی ہے۔ پھر عوام کی باری پانچ سال بعد ہی آئے گی اس لئے عوام اور نوجوان نسل ہوشیار اور بیدار ہو جائیں تاکہ صحیح نمائندے چُننے میں اپنی رہنمائی خود کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں  معروف کالم نگار ایس ایم عرفان طا ہر کا نیشنل یونین آف جرنلسٹ برطانیہ کے عہدیداران کے ساتھ گروپ فوٹو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker