تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

بیگم نسیم کی سیاست مگر نشانہ تنقید کون

امریکہ اور پاکستانی بیوروکریسی نے مل جل کر اسفندیارولی خان کو ایسا استعمال کیاکہ لروبریعنی تمام پختونوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ اسفندیارٹولے نے باچاخان اور ولی خان کی سیاست کاجنازہ نکال دیاہے۔پڑوسی ممالک میں دخل اندازی کا خمیازہ آج پوری قوم دہشت گردی کی صورت میں بھگت رہی ہے۔دعاہے کہ امن مذاکرات کامیاب ہوں مگربظاہر جاری مذاکرات سے کوئی بڑی امید وابستہ نہیں کرنا چاہیے۔یہ کہناہے حال ہی میں تشکیل پانے والی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی ولی خان کی سربراہ بیگم نسیم ولی خان کاجس سے اس بات میں اب کوئی ابہام باقی نہیں کہ اسفندیارولی نشانے پر ہیں بیگم نسیم ولی خان کے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق 14مارچ کو ولی باغ چارسدہ میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری فرید طوفان اور دیگررہنماؤں کی موجودگی میں عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم ملگری وکیلان مردان بار کے بعض ممبران کی ان کی جماعت میں شمولیت کے موقع پرہنگامی پریس کانفرنس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ باچاخان کی 80سالہ اور ولی خان کی نصف صدی پر محیط سیاسی جدوجہد کامرکزومحور پختون قوم کی بقاء ،سا لمیت اور ترقی سمیت ان کے تمام حقوق کا حصول رہاہے مگر اے این پی کے سابق دور میں جب کہ وہ صوبے کی حکمراں جماعت تھی تواسفندیارولی خان نے اپنے باپ دادا کے متعین کردہ اہداف تک رسائی کے لئے توانائی صرف کرنے کی بجائے اپنے ٹولے کے ساتھ مل کر پیسے اور کرپشن کی سیاست کوفوقیت دی جس سے ان کے پرکھوں کی سیاست کوناقابل تلافی نقصان پہنچاہے۔انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہاہے کہ ان کی عمر 78 سال ہے مگر اس ضعیف العمری میں بھی وہ پختون قوم کی خاطرقیدوبند کے لئے تیاربیٹھی ہیں۔بیگم نسیم ولی خان کامزیدکہنایہ تھاکہ عمر کے اس حصے میں وہ کسی سازش کے تحت نہیں بلکہ سنجیدہ اور نظریاتی کارکنوں کی مشاورت سے باچاخان اورولی خان کے فلسفہ خدمت و سیاست کے علم کوکوزندہ و جاوید کرنے کے لئے پختون قوم کو ایک پلیٹ فارم تلے اکٹھاکرنے کی خاطر ایک بارپھر سیاسی میدان میں کھودپڑ ی ہیں جس میں فرید طوفان نے ساتھ دے کر ان کے جذبے کوجلابخشاہے۔قطع نظراس کے کہ بیگم نسیم ولی خان کاسیاست میں دوبارہ آنا سازش کے تحت ہواہے یا نظریہ ضرورت کے تحت کہ واقعی اسفندیارولی خان اور ان کی جماعت جسے وہ اسفندیارولی کاٹولہ قراردے رہی ہے نے خان عبدالغفارخان (باچاخا)اور رہبرتحریک ولی خان کے فلسفے کو نقصان پہنچایاہے جس سے پختون قوم کو باقابل تلافی نقصان ہواہے۔ لیکن اگردیکھاجائے توطویل کنارہ کشی کے بعدبیگم نسیم ولی خان کی سیاست میں دوبارآمد کسی بھی طرح ہنگامی طور پرنہیں ہوئی بلکہ اس کے لئے ماحول بنایاگیا۔سیاسی امور پر گہری نظررکھتے ماہرین بیگم نسیم ولی کے بھائی اعظم خان ہوتی کی جانب سے اسفندیارولی خان اور عوامی نیشنل پارٹی کی دیگر قیادت پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ اور ان الزامات کابرابرجواب دینے کے لئے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیرحیدر خان ہوتی کااپنے والد کے مقابلے میں آنے کے بعد بیگم نسیم ولی خان کی آمد اور بھائی کی طرح اسفندیارولی کو الزامات کی زد میں لاکرتنقید کانشانہ بنانے کے اس پورے عمل کو اس ماحول کے بنیادی محرکات قرار دے رہے ہیں جبکہ یہ کہنادرست ہے یاغلط تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اے این پی جیسی روائتی جماعت کومشکلات سے دوچارکرنے اور بالخصوص چارسدہ میں اپنے لئے راستہ صاف کرنے کی غرض سے بیگم نسیم کی پشت پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے ہاتھ کارفرماہیں۔یہاںیہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسفندیارولی اور اے این پی کی دیگر قیادت پر سنگین الزامات لگاتے اعظم خان ہوتی اپنی بہن بیگم نسیم کے منظرعام پر آنے اور اپنی الگ جماعت تشکیل دینے کے بعد حیران کن طور خاموش ہوگئے ہیں ۔اعظم ہوتی کی اس معنی خیزخاموشی سے یہ کھلاتاثرمل رہاہے کہ ان کی جانب سے اسفندیارولی خان اور کے رفقاء کے خلاف سنگین الزامات بھری لب کشائی کے پیچھے کچھ خاص مقاصد تھے جن کی شائد تکمیل ہوگئی ہے۔ بیگم نسیم ولی خان کی جانب سے اسفندیارولی خان پر الزامات، باچاخان اور ولی خان کے فلسفے کوزندہ وجاویدرکھنے اور عوامی نیشنل پارٹی کے ناراض کارکنوں کو منانے کے دعوے اپنی جگہ لیکن زمینی حقائق کو بھی رد نہیں کیاجاسکتا سویہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے الیکشن میں بدترین شکست جس کے کئی دیگر عوامل بھی ہیں کے باوجود عوامی نیشنل پار ٹی خیبر پختونخواکے اندر ایک بڑی منظم سیاسی قوت کانام ہے جس کی قیادت اسفندیارولی خان کررہے ہیں ۔اس بات کو بھی رد نہیں کیاجاسکتاکہ ذاتی مفادات یا پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کے باعث کئی سارے کارکن پارٹی سے نالاں اور ناراض بھی ہونگے لیکن چونکہ عوامی نیشنل پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے جس میںآپس کے اختلافات اور کارکنوں کا آناجانا معمول کاعمل ہوتاہے ۔ کارکنوں کاپارٹی قیادت اور پالیسیوں سے اختلاف رکھنااورناراض ہوناالگ جبکہ پارٹی کوخیربادکہناالگ بات ہوتی ہے جب کہ دعوے کے ساتھ یہ کہنابھی مناسب نہیں ہوگاکہ عوامی نیشنل پارٹی کے ناراض کارکن خوامخواہ اور لازمی طورپر بیگم نسیم ولی خان کی زیر قیادت جنم لینے والی نئی جماعت میں شمولیت اختیار کریں گے جب کہ کارکن اس بات کابھی بخوبی ادراک رکھتے ہوں گے کہ عوامی نیشنل پارٹی ولی ابھی نووارد سیاسی جماعت ہے اور اسے قومی وعلاقائی سیاسی افق پر اپنامقام بنانے میں طویل سفر درکارہوگاجب کہ یہ جماعت کامیابی سے ہمکنارہوگی یا جاری سفر میں کسی پڑاؤ پر دم توڑکر ڈھیر ہوجائے گی اس بات کی بھی
کوئی ضمانت نہیں ہے۔اگرچہ ماضی میں بیگم نسیم ولی خان کی سیاسی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں اور ان کے قدکاٹھ کاایک زمانہ معترف ہے سوان کا کسی بھی پلیٹ فارم سے سیاست میں آنا کوئی معیوب بات نہیں بلکہ سیاسی ماحول میں ایک خوشگوار اضافہ ہے لیکن اگر واقعی اسفندیار ولی خان اور ان کے ٹولے نے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے توبیگم نسیم نے ان کاراستہ روکنے کے لئے اتنی دیرکیوں کردی۔ اگر ان کی نظرمیں کارکن مایوس اور پارٹی سے ناراض ہوگئے ہیں توکیایہ ایک دون کی بات ہے یاسالوں پر محیط عمل ہے۔ فرید طوفان آج بیگم نسیم ولی خان کے ساتھ کھڑے ہیں اس میں کوئی شک نہیں اور یہ بھی کہ ماضی میں بھی جب بیگم نسیم پارٹی کی صوبائی صدر تھیں تو وہ پارٹی میں ان کے دست راست سمجھے جاتے تھے جس کاخمیازہ شائدوہ ابھی تک بھگت رہے ہیں لیکن اے این پی سے نکل جانے کے بعد وہ کبھی پیپلزپارٹی اور کبھی مسلم لیگ نواز جیسی جماعتوں کا حصہ کیوں ر ہے کیااس کامطلب یہ نہیں لیاجائے کہ پختون قوم کی خدمت نہیں سیاست میں رہناہی ان کی ضرورت تھی ورنہ محض پختون قوم کی خدمت کرناپیپلزپارٹی کی ترجیح تھی اور ہے نہ ہی مسلم لیگ نواز کی ۔یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں جن کے جواب بیگم نسیم اوران کی جماعت نے دینے ہوں گے۔ یہ بھی کہ اگلے بلدیاتی اور پھرعام انتخابات میں بیگم نسیم کی جماعت حصہ لے گی کہ نہیں اور اگر حصہ لیتی ہے تو خاطرخواہ انتخابی نتائج دے گی کہ نہیں۔بہرحال دیکھتے ہیں ہوتاہے کیا۔

یہ بھی پڑھیں  روز ویلٹ بنا بھوت بنگلہ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker