تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

بہرا اورپہرا

پچھلے سال کی طرح امسال بھی 27 فروری کوبھارت میں سوگ کاماحول تھا،قصر مودی اور بھارتی لوک سبھا میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی جبکہ پاکستان میں افواج پاکستان اوربالخصوص پاک فضائیہ پرعقیدتوں کے گلاب نچھاورہورہے تھے۔ میرصادق کی منافق باقیات کی منافقانہ اورعاقبت نااندیشانہ سازشی تھیوری کے باوجود پاکستان کے لوگ پاک فوج سے والہانہ عشق اوراس پررشک کرتے ہیں۔جس پاک فوج کے جوان ماں دھرتی پرقربان ہورہے ہوں اس پرکیچڑاچھالنا فطری طورپرکسی کیچڑاورچیچڑ کاکام ہوسکتا ہے۔پاک فوج کاہراندرونی وبیرونی ناپاک دشمن راکھ اورخاک کاڈھیر بن جائے گا، پاک فوج کے حاسدوں کاحسد کی آگ میں جلنا اور بک بک کرنا یقینا اُن بددعاؤں کانتیجہ ہے جووہ چاردہائیوں سے سمیٹ رہے ہیں۔قومی چوراوران کے شعور سے عاری پیروکار پاک فوج کے اُجلے دامن کوداغدارنہیں کرسکتے۔1965ء کے بعد27فروری 2019ء کوایک بار پھرپاک فضائیہ نے بھارت کی رعونت اوراس کاغرور خاک میں ملاتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی دھاک بٹھادی جبکہ مودی سرکار کے حامی اسرائیلی شیطان اور سات سمندر پاربیٹھے پشت بان میں پریشان ہیں،پاک فضائیہ کاہر شاہین ایم ایم عالمؒ ثانی ہے۔پاکستان کی افواج اور شاہینوں کی پرواز کے منفرد انداز پرپاکستانیوں کوناز ہے، ہماری پاک فضائیہ کاسرپرائز بھارت صبح قیامت تک فراموش نہیں کرسکتا۔عامرخان کی بھارتی فلم "ستارے زمین پر”باکس آفس پربیحدکامیاب ہوئی لیکن ونگ کمانڈر ابھی نندن کی ”طیارے زمین پر”بری طرح فلاپ ہوگئی اورسیاسی پٹواریو ں کاجونام نہاد نجات دہندہ دوبرس بعد بھی”ابھی لندن”سے واپس نہیں آیا اس کی "انگارے زمین پر” یعنی پاکستان میں تحریک افراتفری بری طرح ناکام ہوگی تاہم پاکستانیوں کے ہاتھوں پٹنے کے بعد ابھی نندن پاک فوج کی تحویل میں آگیاتھاجہاں اسے زخموں کی ٹکور کیلئے گرماگرم چائے پیش کی گئی تھی۔ "اپوزیشن” کیمپ میں بیٹھی سیاسی اشرافیہ” فوٹوسیشن "سے اپنی سیاسی "پوزیشن” بچانے جبکہ” زراورزور” سے منتخب وزیراعظم کوہٹانے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ بھارت اورابھی نندن کی طرف واپس آتے ہیں،اب ہر سال 27فروری کادن آتا ہے توبھارتیوں کوپاک فضائیہ کی "چائے” اور ہمارے شاہینوں کے بارے میں ابھی نندن کی مثبت "رائے” شدت سے یادآتی ہے۔
27فروری 2019ء کے تاریخی معرکے میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں بدترین شکست کاسامنا کرنے اورخفت اٹھانے کے بعدبھارت کابس چلتا تووہ اپنے کیلنڈر میں فروری کامہینہ26 ایام کاکردیتا اوراس کے ہاں 26فروری کے بعد یکم مارچ کی تاریخ آتی کیونکہ ہرسال27فروری کواس کے زخم تازہ ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں 27فروری 2022ء کاروز کرکٹ کے مداحوں کیلئے بھی عیدسعید کادن تھا۔پی ایس ایل جس آن بان سے شروع ہوا تھا اسی شان اورامن وامان کے ساتھ اختتام پذیرہوگیا۔پاکستان میں امن کے حامیوں کی استقامت، اُمید اورنوید جیت گئی جبکہ” ڈر”اورامن دشمن مائنڈسیٹ اس بار بھی بری طرح ہار گیا اورالحمدللہ اس کاکریڈٹ ہماری فرض شناس لاہور پولیس کوجاتا ہے،اس کے بعد ہمارے مستعد محافظ رائیونڈ اجتماع کی ڈیوٹی پرمامور رہے جبکہ آنیوالے دنو ں میں کوئی اوربڑی اسائنمنٹ آجائے گی۔ جس پاکستان کے عوام فطری طورپر انتہائی نڈراوربہادر ہیں،اس کے فوجی جانبازوں اورپولیس اہلکاروں کو للکارنے کی جسارت کون کرے گا۔حالیہ پی ایس ایل کے دوران شہریوں کاجوش وجذبہ اور لاہورپولیس کی انتھک محنت سے قائم ڈسپلن قابل دید تھا۔کرکٹ کے مداح ابھی تک لاہور قلندر اورلاہورپولیس کی جیت کے گیت گارہے ہیں،شہرلاہور میں پی ایس ایل کے آغاز سے اختتام تک سی سی پی اولاہور فیاض احمددیو اورڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر محمدعابدخان، ایس ایس پی آپریشنز لاہورکیپٹن (ر) مستنصرفیروز اوران کے ٹیم ممبرز نے بھرپور کمٹمنٹ اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نادیدہ خطرات اورچیلنجز کامقابلہ کیا۔قذافی اسٹیڈیم میں دائرے کے اندر دوایمپائرز،دوبلے بازوں سمیت 15 افراد ہوتے جبکہ دائرے سے باہرہزارو ں مداح بلے بازی اورگیندبازی سے محظوظ ہوتے ہیں، شرکاء کا جوش اوربلے بازوں کے شانداراسٹروکس پرشورماحول کومزید جاندار اوریادگار بنادیتا ہے جبکہ اسٹیڈیم سے باہر سینکڑوں وردی پوش بلکہ کفن پوش اورسرفروش پولیس اہلکار بلے بازی کے دوران پلیئرز اور شرکاء کوکسی بھی طرح کی شرانگیزی سے بچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔اسٹیڈیم میں دائرے کے اندر15افراد سے یاد آیاپولیس کاایمرجنسی رسپانس نمبر بھی15اور یہ ہنگامی حالات میں شہریوں کے بہت کام آتا ہے۔ 15پرآنیوالی فون کال کے اعدادوشمار بتاتے ہیں شہرلاہورمیں مجموعی طورپر مجرمانہ سرگرمیوں کاگراف کافی حدتک ڈاؤن ہوا ہے جبکہ "انڈرورلڈ” کے متعدد” ڈان” بھی "انڈرگراؤنڈ” ہوگئے ہیں،اس مثبت تبدیلی کاکریڈٹ یقینا لاہور پولیس کے کمانڈر فیاض احمددیو اورڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر محمدعابدخان کوجاتا ہے تاہم اخبارات کے مطابق پی ایس ایل کے دوران ہرطرح کی وارداتوں کا زور رہا کیونکہ پولیس اسٹیشن ویران اورڈاکوشادمان وکامران تھے۔ پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے لہٰذاء اہلکار اپنا بنیادی کام کرنے کی بجائے قذافی اسٹیڈیم کا”پہرا "دے رہے تھے کیونکہ ریاستی نظام” بہرا” ہے۔اس دوران بیچارے سائلین دفاتر اورتھانوں میں مارے مارے پھرتے جبکہ سماج دشمن عناصرآزادانہ دندناتے رہے۔قذافی اسٹیڈیم کے آس پاس مقیم شہریوں کیلئے بھی محاصرہ ناقابل برداشت تھا،میں سمجھتا ہوں شاہراہوں پربدترین رش اور شہریوں کی دشواریوں کودیکھتے ہوئے راوی کنارے نیا،جدیداورقلعہ نما محفوظ ترین اسٹیڈیم اوراس سے ملحقہ فائیوسٹار ہوٹل تعمیر کرلیاجائے،اس اقدام سے شہرلاہور اورشہریوں کیلئے بہت آسانی ہوجائے گی۔
باریش اور فطری طورپردرویش فیاض احمددیوکی زبان دوران ڈیوٹی بھی اللہ رب العزت کے ذکر اورشکرسے تر رہتی ہے، ان کی شخصیت سے تحمل اورتدبر جھلکتا ہے۔ ان کی طرح جوانسان معبودبرحق اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں انہیں زمینی خداؤں،فرعونوں اوریذیدوں سے ڈر نہیں لگتا، سی سی پی اولاہور فرض منصبی کی بجاآوری کے دوران کسی سیاسی دباؤمیں نہیں آتے اورنہ اپنے دائرے سے باہرجاتے ہیں ورنہ ان سے قبل ایک "شیخی مار” نے اپنے نام نہادویژن کا چورن بیچتے ہوئے لاہور پولیس کوتختہ مشق بنالیا تھا۔فیاض احمددیو شروع میں کسی شفیق ومہربان بزرگ کی طرح اپنے ٹیم ممبرز کونصیحت اوراچھی کارکردگی کی ہدایت جبکہ حکمت و مصلحت کے تحت ان کی معمولی غلطیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں لیکن جو اہلکار بار بار غلطیاں دہرائے اوردانستہ قانون شکنی کاارتکاب کرے اس کے ساتھ وہ ہرگزنرمی کامظاہرہ نہیں کرتے۔ فیاض احمددیو کی سنجیدہ اصلاحات کی بدولت حالیہ دنوں میں لاہور پولیس کاڈسپلن کافی بہتر ہوا ہے،اس ضمن میں ایس ایس پی ڈسپلن اعجاز رشید بھی مثبت اور مستحسن کرداراداکررہے ہیں۔میں نے سی سی پی اوآفس میں آنیوالے سائلین کی فریادرسی ہوتے اورانہیں عزت ملتے دیکھی ہے اورانہیں یہ شفقت اور عزت فیاض احمددیو کی صورت میں ایک شفیق و نفیس اور عزت دار انسان ہی دے سکتا ہے،وہ سائلین کو عزت اوراپنے ماتحت آفیسرزکوان کی نمایاں خدمات پرشاباش دینے کے معاملے میں واقعی بہت” فیاض” ہیں۔انہیں ریٹائرڈ ہونیوالے اپنے ماتحت آفیسرز اوراہلکاروں کوعزت، نیک خواہشات اوردعاؤں کے ساتھ رخصت کرنابہت پسند ہے۔اب عام سائلین کیلئے سی سی پی اولاہور کوملنا اوراپنا مدعابیان کرناانتہائی سہل ہے، فیاض احمددیو شہریوں کی شکایات بغور سنتے،انہیں بروقت انصاف کی فراہمی کیلئے احکامات صادراورپیشرفت کومانیٹر کرتے ہیں۔ڈاکٹر محمدعابدخان کی تیاری اوران کے تیوردیکھنے سے پتہ چلتا ہے وہ آنیوالے دنوں میں مزیدڈیلیور اوران کے جوان شرپسندوں کیخلاف کامیاب کریک ڈاؤن کریں گے، لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز ایک "ڈاکٹر” ہیں معاشرے کے گلے سڑے اعضاء کا”آپریشن” ان سے بہتر کون کرسکتا ہے، معاشرے کے اندر دندناتے آدم خور درندے یقینا سرکوبی کے مستحق ہیں اورایک” عابد” کی کمانڈ میں درندوں کامنطقی انجام تک پہنچنا بھی عبادت ہے۔سی سی پی اولاہورفیاض احمددیو اورڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر محمدعابد خان کے دوٹوک احکامات اورسخت ہدایات کے باوجود لاہورمیں پتنگ سازی اورپتنگ بازی کاسلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا۔پتنگ سازوں وپتنگ بازوں کامقام زندانوں میں ہے،اس ضمن میں راقم کی تجاویز ریکارڈ پرہیں۔میں سمجھتا ہوں پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کیخلاف قابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمات بے سود ہیں۔قاتل ڈور کے ہاتھوں بے موت مارے جانیوالے بچوں سمیت شہریوں کی اموات کو قتل عمد ڈکلیئر جبکہ گرفتار ہونیوالے پتنگ سازوں اورپتنگ بازو ں کوان مقدمات میں مرکزی ملزمان نامزدکیاجائے کیونکہ اگر یہ پتنگ بنانے اوراڑانے والے ناسور نہ ہوں توشاہراہ پرکسی شہری کی شہ رگ کٹے اور نہ وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے۔سی سی پی اوفیاض احمددیو، ڈی آئی جی آپریشنزڈاکٹر محمدعابدخان اورڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان منشیات فروشوں،اسلحہ لہرانے والے شعبدہ بازوں،پتنگ سازوں اورپتنگ بازوں کو ہرگزڈھیل دینے کیلئے تیارنہیں۔یادرکھیں بر وقت اورسخت” سزاؤں ” کے بغیر” خطاؤں "کاسلسلہ نہیں رکتا،قانون سازی کے بغیرپتنگ سازی اورپتنگ بازی سے مستقل نجات نہیں ملے گی۔منتخب ارکان اسمبلیوں میں اپنے اپنے قائدین کی خوشامد کیلئے قراردادیں پیش کرنے کی بجائے ہروہ بل پیش اوراسے پاس کریں جس سے سماج دشمن عناصر کیلئے قرارواقعی سزا کاراستہ ہموارہو۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button