انور عباس انورتازہ ترینکالم

بے حس حکمران

anwar abasآجکل ملک میں دو دھرنے موضوع بحث ہیں۔ایک سانحہ کوئٹہ کے خلاف کوئٹہ میں دیا گیا۔دوسرا اسلام آباد میں دیا گیا دھرنا۔سانحہ کوئیٹہ کا دھرنا۔۔۔ جس میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں افراد نے تین دن تک سخت سردی اور بارش میں دھرنا دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔اس دھرنے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں زندہ افراد کے ساتھ ستاسی میتوں نے بھی شرکت کی۔ اور یہ منفرد د ھرنا اپنے مطالبات منوانے کے بعداب ختم ہو چکا ہے ۔اس دھرنے کی آہیں بلوچستان کی حکومت کو لے ڈوبیں۔سانحہ کوئٹہ کا خون رنگ لایا اور شہداء کے ورثا کے ا حتجاج اور دھرنے کے آگے حکمران گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگے۔۔۔مظلوم جیت گے اور ظالم ہار گے۔بلوچستان کی بے حس اور مردہ ضمیر حکومت برطرف کر دی گئی اور صوبے میں گورنر راج لگا دیا گیا۔جتنا بے حسی اور بے ضمیری کا مظاہرہ اسلم رئیسانی اور ان کی کابینہ کے وزراء نے کیا ہے اتنی بے ضمیری اور بے حسی پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی دکھائی ہے ۔ہزارہ برادری اور شیعہ مسلمان گذشتہ چار ساڑھے چار سال سے ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنتے جارہے ہیں ۔مگر نہ توہمارے آزاد میڈیا اور نہ ہی ہماری حد سے آزاد بلکہ خود سر عدلیہ کے ضمیر نے انگڑائی لی جس کے باعث دہشت گردوں کے حوصلہ روز بروز بڑھتے رہے۔ جس سے پوری دنیا میں ہماری ناک کٹتی گئی۔ستم بالائے ستم یہ کہ ہماری منتخب سول اور جمہوری وفاقی حکومت نے بلوچستان کی تاریخ کی بد ترین نااہل اور بے ضمیر حکومت کے خلاف کسی قسم کا اقدام کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔۔۔پتا نہیں صدر زرداری کی کیا مجبوری تھی جو بلوچستان کے عوام کے مطالبات کے برعکس اسلم رئیسانی حکومت کو برطرف کرنے یا انہیں تبدیل کرنے پر آمادہ کیوں کر نہ ہوئے۔حکومت تو ہوتی ہی عوام کی خدمت کے لیے ہے مگر رئیسانی حکومت عوام کے قتل عام میں مصروقف کار تھی۔نہ جانے اب تک کتنے لوگ بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے مگر ایک رئیسانی حکومت تھی جس کے کانوں پر نہ تو جوں رینگی اور نہ ہی انکا ضمیر نے انگڑائی لی۔ سنا تھا کہ حکمران بے ضمیر اور بے حس بھی ہوتے ہیں ۔آج ہم نے اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا۔۔۔سانحہ کوئیٹہ میں شہید ہونے والے ملت تشیع نے احتجاجی دھرنا دیا ۔۔۔اس احتجاج کا انداز ایسا تھا کہ اس نے دنیا میں ہونے والے اب تک کے تمام احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے ریکارڈ توڑ دئیے۔تاریخ عالم میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ لوگوں نے سو کے قریب میتوں کے ساتھ اتنا طویل احتجاج کیا ہو اور دھرنا دیا ہو۔۔۔اور یہ اعزاز بھی ہماری سول عوامی جمہوری حکومت کو حاصل ہوا ہے کہ اس نے تین دن تک منفی آٹھ ڈ گری کے درجہ حرارت میں بھی دھرنے پر بیٹھے بزرگوں عورتوں اور بچوں کے احتجاج کی پرواہ نہیں کی۔ دوسرا دھرنا اسلام آباد کے ڈی چوک میں دیا گیاہے۔اس دھرنے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے تمام مطالبات آپس میں مطابقت نہیں رکھتے بلکہ ایک دوسرے کی ضد تھے۔ان میں کوئی مطابقت نہ ہے۔ہر پل اور ہر لمحہ کے ساتھ ساتھ اس دھرنے کے شوق بڑھتے جا رہے تھے۔تمام قانونی اور آئنی ماہرین اس بات پر یکسوئی کے ساتھ متفق ہیں کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات غیر آئینی ہیں انہیں آئین کے اندر رہتے ہوئے پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔آج تمام میڈیا وفاقی حکومت کی اس نا اہلی پر حیران ہے کہ اس نے اس لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل کیوں ہونے دیا؟یہ سوال بھی اٹھتا رہا ہے کہ اگر حکومت نے غیر آئینی مطالابات کے آگے گھٹنے ٹیکے تو یہ آئندہ کے لیے مثال قائم ہو جائے گی کہ جس کا جی چاہے بیس پچاس ہزار یا ایک دو لاکھ افراد اسلام آباد لا کر اپنی حکومت یا بادشاہت قائم کر لے۔اپنی تمام تر نا اہلی اور نا لائقی کے باوجود حکومت نے ایک قابل تحسین کام یہ کیا ہے۔ کہ اسلام آباد کے دھرنے کے شرکاء کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا۔ شائد اسے لال مسجد کے خلاف مشرف ایکشن یاد آ گیا یا چودہری برادران کے مشورے ان کے آ ڑے آئے۔دونوں دھرنوں میں قدر مشترک یہ بات ہے کہ دونوں دھرنوں میں خواتین اور شیر خوار بچے شریک تھے۔دونوں دھرنے کے شرکائے انتہائی منظم اور پر سکون رہے۔دونوں دھرنوں کے شرکاء نے کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کی۔ کویئٹہ دھرنا چار سال کی ظلم و بربریت کے خلاف تھا جبکہ اسلام آباد کا دھرنا محض سستی شہرت کے حصول اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والوں کی خوائش کی تکمیل کے لیے ۔گو اسلام آباد کے دھرنے میں بڑی خوش کن اور بھلی دکھائی دینے والی اور عام آدمی کو متاثر کر دینے والی باتیں کی جا تی رہی ہیں۔اپنے دوست اعظم صابری صاحب سمیت بہت سارے ذہین فطین دانشور لوگ اور سیاست دان بھی ڈاکٹر طاہر القادری کی ہاں میں ہاں ملا تے رہے ہیں۔ہاں ڈاکٹر طاہر القادری کی حمایت پیش پیش وہ تمام عناصر رہے ہیں۔ جو جنرل پرویز مشرف کے ساتھی ہیں ۔یا ان کے اتحادی رہ چکے ہیں۔وہ عناصر بھی ان کی تعریفیں کرنے اور ان کے مطالبات کو درست اور بروقت قرار دینے رلگے ۔جو غیر جمہوری حکومتوں کو پسند کرتے ہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری کے بڑھتے ہوئے مطالبات اور خواہشات کے باوجود سول جمہوری حکومت نے برحال ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مذاکرات کیے اور اس مقصد کے لیے ایک دس رکنی کمیٹی قائم کی ہے ۔جس کی سربراہی اپنے گجرات کے چودہری شجاعت حسین کی۔اس دس رکنی کمیٹی میں تمام ارکان بڑے ذہین فطین اور معاملہ فہم ہیں۔جب مذاکرات تک بات پہنچ گئی تونظرآنے لگا کہ دھرنے سے جان چھوٹ ہی جائیگی۔حکومت فوری طور پر ڈاکٹر طاہر القادری کو کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی اور نہ ہے۔بس وعدے وعید ہوئے ہیں۔اس سارے کھیل میں ڈاکٹر طاہر القادری کے سوا کوئی لوزر نہیں ہے۔بلکہ ان کے لانگ مارچ اور دھرنے نے پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کو نئی سیاسی زندگی بخش دی ہے۔طاہر القادری لوزر اس حوالے سے ہیں کہ انہوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر صدر مملکت آصف علی زرداری249 وزیر اعظم راجہ پر ویز اشرف اور تمام وفاقی وزراء کو خود ہی ڈس مس کر دیا تھا اسلیے فرمایا ’’ صدر وزیر اعظم اور تمام وزرا سابق ہو گئے ہیں۔کل اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی۔اس سے قبل انہوں نے کہا کہ حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔قائد انقلاب نے یہ بھی کہا کہ ’’ فوجی قیادت اور چیف جسٹس کی گارنٹی کے سوا کسی کی ضمانت نہیں تسلیم کی جائے گی۔پتہ نہیں شیخ الااسلام کیا کیا کہتے رہے۔لیکن چار دن عورتوں بچوں اور پیر و جوان افراد کو غضب کی سردی میں مارنے کے بعد کیا حاصل کیا؟ محض نگران وزیر اعظم کے لیے کی جانے والی مشاورت میں شمولیت؟کہا ں انقلاب کے نعرے اور کہاں مشاورت پر دھرنا ختم؟کہاں یذیدیوں کے خلاف معرکے کے دعوے اور کہاں یذیدیوں کے ساتھ شیر و شکرہوکر مسکراہٹوں کے ساتھ ’’ جھپیاں‘‘ ڈالنا۔۔۔دوسرے پیرائے میں اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ریاست بچانے نکلے تھے مگر رہی سہی عزت بھی گنوا آئے۔۔۔کھایا پیا کچھ نہیں عزت گنوائی اربوں میں۔۔۔صدر زرداری کے استعفی کی باتیں کرنے والے شیخ الااسلام زرداری اور ان کی اہلیہ کو محترم کہتے رہے ۔اتنی ذلالت کے ساتھ دھرنے کا احتتام کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔اسکا ایک ہی پہلو دکھائی دیتا اور سمجھ میں آتا ہے کہ شائد ڈاکٹر طاہر القادری کو احساس ہو گیا تھا کہ دھرنے میں شریک ان کے مریدین تھک چکے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کہ پندرہ جنوری سے بہت سارے افراد واپس لوٹنا شروع ہو گے تھے۔اس سے زیادہ کیا کہا جا سکتا ہے کہ فوج اور عدلیہ کو اپنی پشت پر کھڑا ہونے کا تاثر دینے اور انکے سوا کسی کی گارنٹی نہ ماننے کی باتیں کرنے والے ڈاکٹر طاہر القادری نے معاہدہ کرتے وقت فوج اور عدلیہ کی گارنٹیاں طلب نہیں کیں۔اسکا کیا مطلب ہے کیا کوئی اسکی وضاحت کرے گا؟

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم نوازشریف سے وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker