تازہ ترینصابرمغلکالم

کرپشن کی بہتی گنگا اور سابق صدر مملکت

sabir mughalکسی شخص یا فرد کا کہیں مفتے میں ہاتھ پڑ جائے،کرپشن کی وادیاں اس کا نشیمن ہوں تو بر صغیر میں اس کے لئے مثل مشہور ہے۔بہتی گنگا میں ہاتھ دھولو(Make hay white the sun shines)۔دریائے گنگا شمالی بھارت اور بنگلہ دیش ایک اہم دریا ہے،دریائے گنگا ہندودھرم میں بڑی حیثیت کا حامل ہے،ہندو اسے انتہائی مقدس سمجھتے ہوئے اس کی بوجا کرتے ہیں ،دریائے گنگاکی کل لمبائی 2510کلومیٹر ہے اور یہ دریائے جمنا کے ساتھ مل کر ایک عظیم اور زرخیز حلقہ تشکیل دیتا ہے جو شمالی انڈیا اور بنگلہ دیش پر مشتمل ہے،روئے زمین پر ہر 12واں شخص یعنی دنیا کی کل آبادی کا 8.5فیصد اس جگہ رہتا ہے،پاکستان کے 15سپیکر اور 24وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ایک اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ کرپشن کے سلسلہ میں عدالت پیشی کا بہانہ تو طبیعت کی ناسازی تھا مگر ایڈووکیٹ امیر حیدر کی ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے وکلاء کی ہڑتال کے باعث ملک بھر میں کوئی عدالتی کام نہ ہوا تاہم ہائی کورٹس نے 8کرپشن مقدمات میں ان کی شخصی ضمانت منظور کر لی ہے،دریائے گنگا کی طرح سید یوسف رضا بھی تاریخی اور مقدس حیثیت کے حامل ہیں ،دربار عالیہ موسیٰ پاک کے گدی نشین ہونے کے باعث باقاعدہ پوجے بھی جاتے ہیں،9جون 1952کو ملتان کے ایک با اثر پیر اور جاگیر دار گھرانے میں پیدا ہوئے ، سید علمدار کے گھر پیدا ہونے یوسف رضا گیلانی کی کئی نسلیں کئی صدیوں سے سیاست میں جلوہ افروز ہیں،حضرت موسیٰ پاکؒ کا گدی نشیں ہونے کی بنا پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا وسیع حلقہ رکھتا ہے،2008میں وہ پانچویں مرتبہ ایم این اے منتخب ہوکر وزیرا عطم بنے ان کی وزارت اعظمیٰ کا چار سالہ دور پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل دور ہے،عدالت اعظمیٰ نے انہیں توہین عدالت کیس میں رکن قومی اسمبلی اور وزیر اعظم کے عہدے سے بر طرف کردیا،انہی کے دور میں اسامہ بن لادن امریکہ کا شکار ہوئے،اب وہ سید ابوالحسنات موسیٰ پاک شہید کے گدی نشیں ہیں ،موسیٰ پاک شہید1592میں ملتان کے علاقہ میں ایک قبائلی جنگ کے دوران لنگاہ قبیلہ کے ہاتھوں سینے پر گولی لگنے سے شہید ہوئے تھے،لنگاہ خالصتاً جٹ قبیلہ ہے جس نے افغانستان سے ہجرت کر کے ملتان ،مظفر گڑھ،شاہ پور،منٹگمری اور ڈیرہ غازی خان میں ڈیرے ڈالے تھے اس قبیلہ نے ملتان پر تقریباً 100سال حکومت کی اور یہ ملتان کے بادشاہوں میں سر فہرست رہے،آمر صدر ضیاء الحق کے دور میں سیاسی اڑان بھرنے والے سید یوسف رضا سپیکر قومی اسمبلی بنے تو ان کی عقاب جیسی اور روحانی نظر نے 1993میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تعینات سٹینو گرافر محمد زبیر کو اپنے حلقہ یاراں میں جگہ عنایت فرمائی،محمد زبیر نے کمال تابعداری سے ۔پیر صاحب ۔کا اعتمادحاصل کیا،2007میں انہیں اسی روحانیت اور فرمانبرداری کی بدولت گریڈ18میں ترقی نصیب ہوئی اور دوسری جانب ان کے مرشد بھی 2008میں وزیر اعظم آف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عہدہ پر پہنچ گئے جس پر ان کی ۔سپیشل خدمات۔وزیر اعظم ہاؤس کے سپرد کر دی گئیں جہاں وہ وزیر اعظم کے خاندانی معاملات کو دیکھنے کے علاوہ ان کے حلقہ انتخاب سے آنے والے لوگوں کو بھی ڈیل کرتے،اسی سال کے آغاز پرایف آئی اے کے کرائم سرکل ونگ نے سابق وزیر اعظم کے معتمد خاص محمد زبیر کو بدعنوانیوں کے الزام میں حراست میں لیاجس نے بالآخر مرشد سائیں کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑ ہی دیا،اس حوالے سے تفتیشی رپورٹ کے مطابق ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں کاغذی کمپنیوں کو فریٹ سبسڈی کا اجراء،NHAمیں بھاری مالیت کے ٹھیکے،NICLمالی سکینڈل ،بیوروکریٹس کی اعلیٰ اور پرکشش عہدوں پر تعیناتی،کراچی اور لاہور میں قیمتی زمین کی الاٹمنٹ،غیر قانونی بھرتیاں وغیرہ شامل ہیں یہ تمام معاملات محمد زبیر کے ہاتھوں ہی انجام تک پہنچتے،NICLسکینڈل کے مرکزی کردار اس کے سابق چیر مین ایاز خان نیازی جو عبدالقادر گیلانی کے قریبی دوست تھے وہ گیلانی ہاؤس کے تمام اخراجات برداشت کرتے،EOIBکے سابق چیر مین ظفر گوندل جو سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل کے بھائی ہیں دونوں PMہاؤس نذرانہ دینے آتے،25سو سے زائد اسلحہ لائسنس جن میں اکثریت ممنوعہ بور کی تھی پی ایم ہاؤس سے جاری ہوئے، عجب تماشہ یہ کہ گیلانی کے ساتھ جیل میں دوستی کرنے والے ۔عدنان خواجہ ۔کو نہ صرف ایم ڈی OGDCLلگا دیا جاتا ہے بلکہ موٹر وے نائن اور اشتہال روڈ سمیت مزید بھاری ٹھیکے بھی دیئے گئے ،سابق وزیر اعظم کی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی نے اپنے شوہر کو اقوام متحدہ کے اکنامک ونگ میں تعینات کرایا ،CDAکے سابق چیر مین عنایت الہٰی نے نرگس سیٹھی کو ایک سے زائد قمیتی پلاٹ وزیر اعظم کی سفارش پر الاٹ کر دئیے دیگر چہیتے افسران میں خوشنود اختر لاشاری ،سراج شمس الدین، طارق اقبال ،ڈاکٹر جاوید اقبال ،اسد سبطین رضوی وغیرہ بھی شامل ہیں نے خوب انجوائے کیا،کراچی میں مافیاز کے خلاف آپریشن کے دوران انکشاف ہوا کہ ان میں سے اکثریتی کے روابط ایک بڑی سیاسی پارٹی سے جا ملتے ہیں تو درجنوں افراد دھر لئے گئے سینکڑوں کی تعداد میں ایسے کردار بیرون ملک بھاگ گئے نیب کے ہاتھوں گرفتا ر ہونے والے ڈاکٹر عاصم بھی بیرون ملک سے چند روز قبل ہی پاکستان تشریف لائے تھے شکنجے میں آ گئے،قومی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی تلملا اٹھی اور جب گیلانی اور مخدوم کی گرفتاریوں کی باتیں سامنے آنے لگیں تو سابق صدر مملکت آصف علی زرداری پھٹ پڑے اس سے قبل پی پی پی پنجاب کے سابق صدر قاسم ضیاء اور سینیٹر رخسانہ بنگش کے بیٹے کی گرفتاری بھی انہیں بے حد کھٹکتی تھی اس صورتحال پر ہمارے آقاؤں کی موسٹ فیورٹ دھرتی ۔لندن۔سے جاری ایک طوفانی بیان میں انہوں نے حکومت وقت کو للکارا اور کہا کہ ۔نواز شریف کی انتقامی کاروائی کے بھیانک نتائج نکلیں گے،شریف برادران منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں ،مسلم لیگ (ن) طالبان کی سپیشل اتحادی ہے ،آصف زرداری کے اسی بیان میں قوم کو بتایا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ میں ملوث اور طالبان کے سپیشل اتحادی شریف برادران کا اقتدار میں آنا پیپلز پارٹی کی مرہون منت ہے ؟؟؟جس روز آصف زرداری کا بیان میڈیا کی زینت بنا اسی روز وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ ڈاکٹر عاصم پر الزامات لگانے کے بعد پارٹی قیادت کی ہدایت پر ۔مکر گئیں، بہرحال وزیراعظم گیلانی اور سابق وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم پر کرپشن کے الزامات کی فہرست بہت طویل ہے ،ایک طرف کرپشن ،کرپشن کی ہاکا کاری جار ی ہے ،ساری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں کہ یہ ہیں ہمارے حکمران جو موقع ملنے پر جونکوں کی طرح وطن کو چوستے ہیں دوسری طرف حکمران جماعت بڑے فخر سے بتا رہی ہے کہ ہم نے تو دو سال میں سیاسی مخالفین پر ایک بھی مقدمہ درج نہیں کرایا،کیا عجب ڈرامہ ہے کہ ان کی لوٹ مار پر کوئی ایکشن ہو تو اسے سیاسی انتقام کا نام دے دیا جاتا ہے ،میثاق جمہوریت کا اصل مفہوم بھی اسی لوٹ مار اور ۔تیری میری باری۔کے مصداق تھا،سکھر میں بلاول زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں نثار کھوڑو فرماتے ہیں رینجرز پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو کیوں گرفتار نہیں کرتی،اب انہیں ایسے بیان دیتے ذرا شرم نہیں آتی ،انہیں معلوم نہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد رانا ثنا ء اللہ اور پنجاب و وفاقی حکومت کے سب سے بڑے حمایتی کون تھے؟کہا جا رہا ہے کہ سندھ میں رینجرز سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو خوفزدہ کر رہی ہے،اپوزیشن لیڈر سیدخورشید شاہ کہہ رہے ہیں ۔آرمی چیف سے اپیل کرتا ہوں کہ نظام کو چلنے دیں۔آخر وہ کیا کام ہے جسے آرمی چیف رینجرز کے ذریعے غیر آئینی طریقے سے کر رہے ہیں اور وہ نظام حکومت کے لئے تباہ کن ہے؟حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے نزدیک کرپشن اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنا غیر آئینی ہے۔ ایک طرف کرپشن کا پہاڑ نظر آ رہا ہے اور حکومت صفائی پر صفائی دے رہی ہے دوسری جانب طبقہ اشرافیہ کی ۔جپھیاں۔دکھائی دے رہی ہیں(ایم کیو ایم کے استعفوں کی کہانی کے بعدیہ دوسرا پارٹ ہے جو پاک آرمی پر محض دباؤ بڑھانے کے لئے ہے خیر ترپ کے اس پتہ کو بھی آزما لینے ہی دیا جائے)یہ لوگ بہتی گنگا میں صرف ہاتھ ہی نہیں دھوتے بلکہ ۔اشنان ۔ بھی کرتے ہیں تا کہ کوئی کثر باقی نہ رہے ،لیڈر تو وہ ہوتے ہیں جو کرپشن جیسی لعنت کو لگام دینے پر خوش ہوتے ہیں ۔ہمارے یہ لیڈر کیسے ہیں؟؟اس ملک کی پسماندگی ان کی درماندگی ہے ۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ان سب کو ۔اڈیالین قرار دیا ہے کہ ان کے لئے وہاں رنگ و روغن ہو رہے ہیں جہاں یہ VICTORYکا نشان بناتے ہوئے جائیں گے ،مستقبل قریب میں ایسی وکٹری کا نشان بھی عروج پر ہونے جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ 15 دسمبر سے برسبین میں ہوگا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker